Wednesday , January 17 2018
Home / سیاسیات / پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر کے مسئلہ پر لوک پال ایکٹ میں ترمیم

پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر کے مسئلہ پر لوک پال ایکٹ میں ترمیم

نئی دہلی 27 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) لوک پال کے صدرنشین اور ارکان کے انتخاب سے متعلق سلیکٹ کمیٹی رکن کی حیثیت سے لوک سبھا میں سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی لیڈر کی شمولیت کے لئے ایک بِل پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ مرکزی وزیر جتندر سنگھ نے آج یہ اطلاع دی اور بتایا کہ لوک پال بل میں چند ترامیم گزشتہ اجلاس میں پیش کئے گئے تھے اور

نئی دہلی 27 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) لوک پال کے صدرنشین اور ارکان کے انتخاب سے متعلق سلیکٹ کمیٹی رکن کی حیثیت سے لوک سبھا میں سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی لیڈر کی شمولیت کے لئے ایک بِل پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ مرکزی وزیر جتندر سنگھ نے آج یہ اطلاع دی اور بتایا کہ لوک پال بل میں چند ترامیم گزشتہ اجلاس میں پیش کئے گئے تھے اور ارکان نے اس خصوص میں دلچسپی دکھائی ہے اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مذکورہ بل کو پارلیمانی کمیٹی سے رجوع کیا جائے۔ چونکہ حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور یہ بل ایوان کی سلیکٹ کمیٹی کے حوالے کردیا گیا ہے اور آئندہ اجلاس میں اس بل پر مباحث کئے جائیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ لوک پال ایکٹ میں بعض تکنیکی خامیوں کو دور کرنے کے لئے چند ایک ترامیم کی ضرورت ہے اور حکومت کی یہ تجویز ہے کہ سلیکشن کمیٹی میں سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کو شامل کرنے گنجائش فراہم کی جائے کیونکہ لوک سبھا میں فی الحال کوئی اپوزیشن لیڈر نہیں ہے۔

مسٹر جتندر سنگھ نے جوکہ مملکتی وزیر سرکاری عملہ، عوامی شکایات اور وظائف ہیں، کہاکہ حکومت کا یہ ارادہ ہے کہ مخالف رشوت قوانین بشمول انسداد کرپشن (ترمیمی) بل 2013 کی منظوری حاصل کی جائے۔ لوک پال اور لوک ایوکت ایکٹ کے تحت وزیراعظم کی زیرقیادت سلیکشن کمیٹی میں لوک سبھا اسپیکر اپوزیشن لیڈر، چیف جسٹس آف انڈیا یا ان کے نامزد عدالت العالیہ کے جج اور صدرجمہوریہ کے نامزد ماہر قانون و دستور یا کوئی رکن شامل ہوں گے۔ واضح رہے کہ اسپیکر لوک سبھا سومترا مہاجن نے کانگریس کے اس مطالبہ کو مسترد کردیا کہ اپوزیشن لیڈر موقف اُسے عطا کیا جائے لیکن کانگریس نے 543 رکنی لوک سبھا میں صرف 44 نشستیں حاصل کرکے دوسری بڑی پارٹی بن گئی اور اپوزیشن لیڈر کا موقف حاصل کرنے کے لئے کانگریس کو مزید 11 ارکان کی کمی ہے جبکہ یہ عہدہ حاصل کرنے کے لئے 55 ارکان کی ضرورت ہوتی ہے۔

اِس موقع پر مرکزی وزیر جتندر سنگھ نے بہترین حکمرانی کی سمت پیشرفت کرتے ہوئے وزارت پرسونل کی ترتیب کردہ e-book کا افتتاح کیا اور بتایا کہ مرکزی حکومت کے ملازمین کی سبکدوشی کی حد عمر میں اضافہ یا تخفیف کی تجویز حکومت کے زیرغور نہیں ہے جوکہ فی الحال 60 سال ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ ملک گیر سطح پر زیادہ تر سرکاری کاموں کیلئے نوٹری شدہ حلفناموں کی بجائے خود کار توثیق (Self aslestation) کی سہولت فراہمی کے بہترین نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت بہت جلد سینئر عہدیداروں کے لئے ایک پروگرام شروع کرے گی تاکہ اسکولی طلباء کے ساتھ رابطہ کے لئے انھیں منظوری حاصل ہوسکے۔ اُنھوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت جموں و کشمیر، ٹاملناڈو اور مہاراشٹرا کے ریاستی ملازمین کی ٹریننگ کے لئے ایک پائلٹ پراجکٹ کا آغاز کرے گی تاکہ بہترین حکمرانی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT