Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا شدید احتجاج ، کارروائی ملتوی

پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا شدید احتجاج ، کارروائی ملتوی

NEW DELHI, JULY 22 (UNI):- Members coming out of Parliament House during lunch break in New Delhi on Wednesday. UNI PHOTO-60U

للت مودی اور ویاپم اسکام مسئلہ ،سشماسوراج وسندھرا راجے کی برطرفی کا مطالبہ

نئی دہلی ۔ 22 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ میں آج اپوزیشن کے جارحانہ احتجاج کے باعث کارروائی ملتوی کی گئی۔ اپوزیشن نے للت مودی اور ویاپم اسکام مسائل پر ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے وزیرخارجہ سشماسوراج، چیف منسٹر راجستھان وسندھرا راجے کے علاوہ چیف منسٹر مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان کی برطرفی کا مطالبہ کیا گیا جبکہ حکومت کی جانب سے مباحث کی پیشکش کو مسترد کردیا گیا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوان میں سشماسوراج اور راجے کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے اپوزیشن نے کہا کہ آئی پی ایل کے سابق چیرمین للت مودی کے ساتھ راجے سندھیا کے معاملتوں کی تحقیقات کی جائے۔ انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے تحقیقات سے پتہ چلتا ہیکہ مبینہ طور پر رقومات کی منتقلی کا کیس پایا جاتا ہے۔ اپوزیشن نے ویاپم اسکام کے سلسلہ میں چیف منسٹر مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان سے بھی استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ راجیہ سبھا میں کوئی کارروائی نہیں ہوسکی۔ مسلسل دوسرے دن بھی یہاں پر اپوزیشن کا احتجاج دیکھا گیا۔ لوک سبھا میں پہلے کام کے دن کارروائی مفلوج رہی۔ مانسون سیشن کے دوران اس کارروائی کو چلنے نہ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپوزیشن نے احتجاج کیا ہے۔ دونوں ایوانوں کی کارروائی کو دن بھر کیلئے ملتوی کردیا گیا۔ ایوان بالا میں تعزیتی پیام کے بعد کانگریس، بہوجن سماج پارٹی اور بائیں بازو پارٹیوں کے بشمول کئی اپوزیشن پارٹیوں نے زور دیکر کہا کہ سشماسوراج، وسندھرا راجے اور چوہان کے استعفیٰ کے بغیر کوئی مباحث ممکن نہیں ہیں۔

بہوجن سماج پارٹی کے ستیش چندرا مشرا اور سماج وادی پارٹی کے نریش اگروال، سی پی آئی ایم تپن کمار سین اور سی پی آئی کے ڈاکٹر راجہ نے کہا کہ انہوں نے قاعدہ 267 کے تحت نوٹسیں دی ہیں تاکہ ایوان کی کارروائی کو معطل کردیا جائے اور للت مودی مسئلہ اور ویاپم اسکام پر مباحث کی جائے۔ سشماسوراج کی مدافعت کرتے ہوئے قائد ایوان اور وزیرفینانس ارون جیٹلی نے کہا کہ اپوزیشن کو چاہئے کہ قانون کے کسی ایک دفعہ کا حوالہ دے، جس کے تحت سشماسوراج نے مبینہ طور پر للت مودی کی مدد کرتے ہوئے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ ارون جیٹلی نے اس مسئلہ پر بحث کیلئے زور دیا اور کانگریس پر تنقید کی کہ وہ ہماچل پردیش، پوڈو چیری اور کیرالا میں اس کے چیف منسٹرس کے خلاف مالیاتی بے قاعدگیوں کے الزامات کا بھی حوالہ ہے۔ اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے تجویز رکھی کہ بعض ارکان نے تحریک التوا کی نوٹس دی ہے انہیں بولنے کی اجازت دی جائے۔ اس کے فوری بعد ارون جیٹلی نے احتجاج کیا اور کہا کہ اس طرح کی حرکتیں کیا ہر روز کرنے کی اجازت دی جائیں گی۔ جیٹلی نے اپوزیشن پر تنقید کی کہ وہ نعرہ بازی کی سیاست کررہے ہیں۔ اب نعرہ بازی کی سیاست نہیں چلے گی۔ آپ بحث شروع کریں۔

یہ ایوان نعرہ بازی کی اجازت نہیں دے گا۔ بہوجن سماج پارٹی کی مایاوتی نے وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید کی اور کہا کہ یہ تو پتہ چلا ہیکہ نہ کھاؤں گا اور نہ کھانے دوں گا کہنے والے آشکار ہوچکے ہیں۔ بی جے پی کے ارکان کے احتجاج کے درمیان انہوں نے غیرجانبدارانہ سی بی آئی تحقیقات اور شیوراج سنگھ چوہان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ جنتادل (یو) کے شرد یادو نے کہا کہ ان تنازعات میں جن وزراء کے نام شامل کئے گئے ہیں، انہیں استعفیٰ دینا چاہئے۔ انہوں نے دلیل پیش کی کہ اگر ان کے خلاف تحقیقات ہوتی ہے تو وہ صاف ستھرے بن کر مزید مضبوط ابھریں گے۔ اس نکتہ پر زور دیتے ہوئے انہوں نے اپنی جانب سے اور بی جے پی لیڈر ایل کے اڈوانی کے استعفیٰ کا حوالہ دیا کیونکہ ان کے نام 1990ء کے جین حوالہ کیس میں شامل کئے گئے تھے۔ تحقیقات کے بعد انہیں بری کردیا گیا تھا۔ کانگریس کے راجیو شکلا نے جو اس وقت آئی پی ایل کے چیرمین ہیں، کہا کہ للت مودی کا مسئلہ سنگین ہے اور یہ ایک سب سے بڑی بدعنوانی سمجھا جاتا ہے لہٰذا متعلقہ وزراء کو استعفیٰ دینا چاہئے۔ ویاپم اسکام مسئلہ پر ارون جیٹلی نے کہا کہ یہ واضح طور پر ریاست کا مسئلہ ہے اور اگر اپوزیشن ریاستی مسائل پر مباحث کیلئے قواعد میں تبدیلی لانا چاہتی ہے تو ایک نئی نظیر قائم ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT