Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / پارلیمنٹ میں اپوزیشن کو ہنگامہ آرائی سے باز رکھنے کیلئے متبادل طریقہ کار

پارلیمنٹ میں اپوزیشن کو ہنگامہ آرائی سے باز رکھنے کیلئے متبادل طریقہ کار

قانون سازی کو لوک سبھا تک محدود کردینے کی تجویز ، وزیر فینانس ارون جیٹلی کاانکشاف
نئی دہلی ۔ 16 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیر فینانس مسٹر ارون جیٹلی نے آج یہ الزام عائد کیا ہے کہ کانگریس ، پارلیمنٹ میں مسلسل رخنہ اندازی کے ذریعہ مستقبل کی اپوزیشن پارٹیوں کیلئے ایک غلط نظیر قائم کر رہی ہے اور کہا کہ مستقبل میں فیصلہ سازی عاملانہ کارروائی اور مالیاتی بلز (اگزیکیٹیو ایکشن اینڈ منی بلز) کی سمت منتقل ہوجائے گی ۔ راجیہ سبھا میں مسلسل خلل اندازی اور رکاوٹیں پیدا کرنے سے بعض اہم اصلاحاتی بلز بشمول محصول اشیائے صارفین و خدمات کی منظوری میں تاخیر پر کانگریس کے خلاف انہوں نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ پارلیمانی نظام کو مفلوج کردیئے جانے پر انہیں تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ گڈس اینڈ سرویس ٹیکس پر صنعتی لیڈروں کے اجتماع کو مخاطب کرتے ہوئے مسٹر ارون جیٹلی نے کہا کہ راجیہ سبھا میں حکومت کے کام کاج کو مفلوج کردیا جارہا ہے جس کے پیش نظر مستقبل کے فیصلے ، عاملانہ اقدامات اور منی بلز کے ذریعہ انجام دیئے جائے۔ انہوں نے بتایا کہ محاصل اندازی سے متعلق مالیاتی بلز جس پر حکومت کی آمدنی اور اخراجات منحصر ہوتے ہیں۔ صرف لوک سبھا میں پیش کئے جائیں گے اور لوک سبھا میں منی بلز کی منظوری کے بعد راجیہ سبھا میں کوئی ترمیم نہیں کی جائے گی۔ چونکہ لوک سبھا میں حکمراں بی جے پی کو واضح اکثریت حاصل ہے ۔ قانون سازی کے  ذریعہ کوئی بل بہ اسانی منظور کیا جاسکتا ہے جس کی تصدیق اسپیکر کریں گے ۔ وزیر فینانس نے کہا کہ پارلیمنٹ کے ایک اجلاس کے بعد دوسرے اجلاس میں شور شرابہ اور رخنہ اندازی کا سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف مستقبل کیلئے ایک غلط مثال قام ہوجائے گی، بلکہ ریاستی اسمبلیوں میں بھی اپوزیشن اس کی تقلید کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارا ملک ایک نازک مرحلہ میں داخل ہوگیا، جہاں پر قانون سازی کا عمل انتہائی مشکل اور کٹھن بن گیا ہے۔

انہوںنے کہاکہ جو لوگ یہ غلط مثال قائم کرنے کے ذمہ دار ہیں۔انہیں یہ محسوس کرلینا چاہئے کہ ہندوستانی جمہوریت میں وہ کس طرح کا رول ادا کررہے ہیں اور تاریخ میں ان کا مقام کیا رہے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ خلل اندازی کے حربوں سے پارلیمنٹ کی کارروائی کو مفلوج کردیا گیا تو  فیصلہ سازی کیلئے حکومت کو دوسرا طریقہ کار اختیار کرنا پڑے گا اور قانون سازی کا عمل صرف لوک سبھا میں مکمل کرلیا جائے گا جس کے باعث راجیہ سبھا کی اہمیت گھٹ جائے گی۔ مسٹر ارون جیٹلی نے کہا کہ جی ایس ٹی پر تعطیل کے مسئلہ کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے لیکن اگر ارادہ یہ ہے کہ ہندوستان ترقی سے محروم ہوجائے تو کوئی یہ غیر یقینی صورتحال اور تعطل برقرار رہے گا۔ اگر جی ایس ٹی کو منظور کروانا مقصود ہو تو پارلیمنٹ جمہوریت کو چلنے دیا جائے۔
مغربی بنگال اسمبلی سے لیفٹ فرنٹ کا واک آوٹ
کولکتہ ۔ 16 ۔ دسمبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : مغربی بنگال اسمبلی میں خواتین کے خلاف مظالم میں اضافہ پر بحث کے لیے اسپیکر کی جانب سے تحریک التواء مسترد کردئیے جانے پر آج اپوزیشن لیفٹ فرنٹ ارکان نے واک آوٹ کردیا ۔ ایوان میں وقفہ صفر ختم ہوتے ہی سی پی ایم رکن انیس الرحمان نے ریاست میں خواتین پر تشدد اور عصمت ریزی کے واقعات کو موضوع بحث بنانے کی کوشش کی اور چیف منسٹر ممتا بنرجی سے جواب طلب کیا جو کہ اس وقت ایوان میں حاضر نہیں تھیں ۔ تاہم اسپیکر بمین بنرجی نے تحریک التواء کو نا منظور کردیا جس کے ساتھ ہی لیفٹ فرنٹ ارکان اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈس لہراتے ہوئے نعرہ بازی کی ، جب ان کی سنوائی نہیں ہوئی تو ایوان سے واک آوٹ کردیا ۔

TOPPOPULARRECENT