Wednesday , September 26 2018
Home / شہر کی خبریں / پارلیمنٹ میں تحفظات مسئلہ پر احتجاج ، ٹی آر ایس ارکان کی نعرہ بازی

پارلیمنٹ میں تحفظات مسئلہ پر احتجاج ، ٹی آر ایس ارکان کی نعرہ بازی

ایوان میں شور و غل پر اجلاس ملتوی ، کے سی آر کی مختلف جماعتوں سے مشاورت ، ٹی آر ایس قائدین کا بیان
حیدرآباد ۔ 8 ۔مارچ (سیاست نیوز) ٹی آر ایس ارکان نے آج پارلیمنٹ میں تحفظات کے مسئلہ پر اپنا احتجاج جاری رکھا ۔ لوک سبھا کی کارروائی کے آغاز کے ساتھ ہی ٹی آر ایس ارکان پلے کارڈس تھامے ایوان کے وسط میں پہنچ کر نعرہ بازی کرنے لگے۔ کانگریس ، تلگو دیشم اور دیگر جماعتوں کے ارکان اپنے اپنے مطالبات کے تحت احتجاج کر رہے تھے ۔ ایوان میں شور و غل کے دوران اسپیکر نے کارروائی کو ایک گھنٹہ کیلئے ملتوی کردیا۔ 12 بجے دن جب دوبارہ کارروائی شروع ہوئی، ٹی آر ایس ارکان نے احتجاج کا آغاز کیا ۔ آخر کار ایوان کی کارروائی کو دن بھر کیلئے ملتوی کرنا پڑا۔ جتیندر ریڈی ، ونود کمار ، کویتا ، سیتارام نائک ، ایس دیاکر ، کے وشویشور ریڈی ، ملا ریڈی ، پی سرینواس ریڈی اور جی نگیش نے احتجاج میں حصہ لیا۔ ٹی آر ایس ارکان کے مطالبہ کو دیگر جماعتوں کی تائید کا دعویٰ کیا جارہا ہے ۔ مرکز نے ایس ٹی اور مسلم تحفظات سے متعلق تلنگانہ حکومت کے بل کو منظوری کے بغیر بعض وضاحتوںکے ساتھ واپس کردیا ہے۔ پارلیمانی پارٹی لیڈر جتیندر ریڈی نے کہا کہ تحفظات کی فراہمی کا اختیار ریاستوں کو دیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کی پسماندگی کے سلسلہ میں ٹھوس سروے کیا گیا ہے۔ بی سی کمیشن کی سفارشات کے مطابق تحفظات کے موجودہ فیصد میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 50 فیصد کی جو حد مقرر کی ہے ، وہ مخصوص حالات کیلئے نہیں ہے۔ عدالت نے تحفظات میں اضافہ کیلئے ریاستوں کو مناسب وجوہات پیش کرنے کی اجازت دی ہے۔ ٹی آر ایس حکومت نے تحفظات میں اضافہ کیلئے ٹھوس دلائل کے ساتھ بل کو منظوری دی تھی۔ رکن پارلیمنٹ ونود کمار نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اس مسئلہ پر مختلف سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی ہے اور تحفظات کے اختیارات ریاستوں کو دیئے جانے کا مطالبہ حق بجانب ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی بنیادوں پر تحفظات فراہم نہیں کئے گئے بلکہ یہ پسماندگی کی بنیاد پر ہے۔ اجلاس کے التواء کے بعد ٹی آر ایس ارکان نے پارلیمنٹ کے باب الداخلہ پر احتجاج کیا۔

TOPPOPULARRECENT