Sunday , January 21 2018
Home / سیاسیات / پارلیمنٹ میں حصول اراضیات آرڈیننس کی شدید مخالفت

پارلیمنٹ میں حصول اراضیات آرڈیننس کی شدید مخالفت

نئی دہلی ۔ 18 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس مجوزہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں حصول اراضیات آرڈیننس کی شدو مد سے مخالفت کرے گی اور کہا کہ یہ آرڈیننس قانونی شکل اختیار کرگیا تو جبراً حصولیابی کیلئے راہموار ہوجائے گی جس کے نتیجہ میں کسانوں اور کھیت مزدوروں کے مفادات ضرب کاری پڑے گی ۔ کانگریسی ایم پی مسٹر جئے رام رمیش نے کہا کہ یہ آرڈیننس ایک

نئی دہلی ۔ 18 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس مجوزہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں حصول اراضیات آرڈیننس کی شدو مد سے مخالفت کرے گی اور کہا کہ یہ آرڈیننس قانونی شکل اختیار کرگیا تو جبراً حصولیابی کیلئے راہموار ہوجائے گی جس کے نتیجہ میں کسانوں اور کھیت مزدوروں کے مفادات ضرب کاری پڑے گی ۔ کانگریسی ایم پی مسٹر جئے رام رمیش نے کہا کہ یہ آرڈیننس ایک سیاہ قانون ہوگا اور ہم پارلیمنٹ میں اس کی مخالفت کریں گے اور عوامی جلوس اور احتجاجی مظاہرہ کئے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ اس مسئلہ پر کانگریس پارٹی تنہا نہیں ہے بلکہ کئی ایک سیاسی جماعتیں آرڈیننس کے خ لاف ہے

کیونکہ جب کسانوں اور کھیت مزدوروں کے مفادات کیلئے تباہ کن ثابت ہوگا ۔ کئی ایک اپوزیشن جماعتیں اور عوامی تنظیموں سے متنازعہ لینڈ اکیوزیشن آرڈیننس کی اجرائی پر مرکزی حکومت کو چیلنج کیا ہے ۔ کانگریسی لیڈر نے کہا کہ یہ آرڈیننس 1894 ء کی طرح جبراً حصولیابی کا راستہ کھول دے گا جس کے مطابق ضلع کلکٹروں کو دوبارہ اختیار حاصل ہوجائے گا جبکہ ہم نے یہ اختیارات کلکٹروں سے چھین گرام سبھاؤں کے حوالے کئے تھے ۔ واضح رہے کہ حصول اراضیات ایکٹ 2013 ء یو پی اے II میں پیش کیا گیا تھا جو کہ کانگریس نائب صدر راہول کی اختراع تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے 2013 ء کے قانون میں نہ صرف اراضیات کے مالکین ہے کہ جز معاش سے محروم ہونے والوں کیلئے معاوضہ کی گنجائش فراہم کی گئی تھی جن کا گزر بسر اس اراضی پر ہے۔ تاہم این ڈی اے حکومت کے جاری کردہ آرڈیننس اگر قانونی شکل اختیار کر گیا تو یہ سہولیات اور فوائد یکسر ختم کردیئے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT