Saturday , December 15 2018

پارلیمنٹ میں دوسرے دن بھی ہنگامہ ،شوروغل

نئی دہلی ۔ 3 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر سادھوی نرنجن جیوتی کے متنازعہ ریمارکس پر اپوزیشن نے آج پارلیمنٹ میں دوسرے دن بھی ہنگامہ آرائی کی اور راجیہ سبھا کی کارروائی بالکل نہیں چلائی جاسکی۔ اپوزیشن ارکان سادھوی نرنجن کی برطرفی کا مطالبہ کررہے تھے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں میں جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، اپوزیشن پ

نئی دہلی ۔ 3 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر سادھوی نرنجن جیوتی کے متنازعہ ریمارکس پر اپوزیشن نے آج پارلیمنٹ میں دوسرے دن بھی ہنگامہ آرائی کی اور راجیہ سبھا کی کارروائی بالکل نہیں چلائی جاسکی۔ اپوزیشن ارکان سادھوی نرنجن کی برطرفی کا مطالبہ کررہے تھے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں میں جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، اپوزیشن پارٹیوں ترنمول کانگریس، کانگریس اور آر ایس پی نے نعرے بازی شروع کردی۔ وزیراعظم نریندر مودی ایک ہفتہ طویل دوروں کے بعد آج لوک سبھا میں موجود تھے۔ اپوزیشن ارکان ان سے بیان دینے کا مطالبہ کررہے تھے۔ انہوں نے یہ سوال کیا کہ آخر سادھوی نرنجن کو کس طرح وزارت میں برقرار رکھا جارہا ہے جو انتہائی غیرمہذب زبان استعمال کرتی ہے۔ بی جے پی ارکان نے جوابی تنقید کی اور سادھوی نرنجن اس وقت ایوان میں موجود تھی۔ وزیر پارلیمانی امور ایم وینکیا نائیڈو نے اپوزیشن کا مطالبہ قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ اسی وقت ختم ہوگیا جب سادھوی نرنجن نے معذرت خواہی کرلی اور وزیراعظم نے بھی ان کے تبصرہ کو نامناسب قرار دیا ہے۔ حکومت کے جواب پر برہم اپوزیشن ارکان نے واک آوٹ کردیا۔ ان پارٹیوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مرکزی وزیر کے خلاف ’’غیرمہذب‘‘ تبصرے کرنے پر ایک ایف آئی آر بھی درج کیا جانا چاہئے۔ ایک طویل وقفہ کے بعد وزیراعظم ایوان میں موجود تھے۔ پارلیمنٹ کے باہر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر کمل ناتھ نے کہا کہ وزیراعظم ایوان میں تشریف فرما تھے انہیں اس سلسلہ پر اظہارافسوس کرنا چاہئے تھا اور اس کی مذمت بھی کرسکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر کے بیان سے سیکولر ذہن افراد کے جذبات کو ’’ٹھیس‘‘ پہنچی ہے۔

سابق وزیر کمل ناتھ نے کہا کہ بی جے پی وزیر کی جانب سے دیا گیا بیان نہ صرف ایک خاص طبقہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتا ہے بلکہ تمام سیکولر ذہن کے حامل افراد کو بھی دلی تکلیف ہوتی ہے۔ سماج وادی پارٹی لیڈر اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ رام گوپال یادو نے کہا کہ اس مسئلہ پر ان کے استعفیٰ سے کم کوئی بات قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے حکومت کے اس بیان پر حیرت ہوئی ہے کہ مرکزی وزیر نے یہ بیان پارلیمنٹ کے باہر دیا تھا لیکن ایوان میں ہم جن مسائل پر بحث کرتے ہیں وہ عوام کے مفادات سے متعلق ہوتے ہیں۔ کانگریس لیڈر اور راجیہ سبھا ایم پی اشونی کمار نے کہاکہ وزیراعظم ہم کو یہ تیقن دیئے تک ہم خاموش نہیں رہیں گے کہ وہ مرکزی وزیر کے خلاف کارروائی کریں گے۔ وکیل اور این سی پی کے راجیہ سبھا رکن مجید میمن نے کہا کہ تعزیرات ہند کی دفعہ 153(A) کے تحت مرکزی وزیر کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کیا جانا چاہئے۔ یہ بیان ناقابل معافی اور ناقابل ضمانت ہے۔ جب تک وزیر فوڈ پروسسنگ استعفیٰ نہیں دیتیں ہم خاموش نہیں رہیں گے اور ایوان کی کارروائی چلنے نہیں دیں گے۔ایوان کی کی کارروائی لنچ کے وقفہ سے قبل چار مرتبہ اور مابعد لنچ اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے دو مرتبہ ملتوی کی گئی۔ آخر کار اسے دن بھر کیلئے ملتوی کردیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT