Thursday , October 18 2018
Home / Top Stories / پارلیمنٹ میں راہول گاندھی کا گلے لگانا ، غیرضروری، اپوزیشن کی صرف کرسی پر نظر

پارلیمنٹ میں راہول گاندھی کا گلے لگانا ، غیرضروری، اپوزیشن کی صرف کرسی پر نظر

متعددجماعتوں کا اتحاد ، ’دلدل‘کے مترادف ، شاہجہاں پور میں ریالی سے وزیراعظم مودی کا خطاب

شاہجہاں پور۔ 21 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں گزشتہ روز کانگریس کے صدر راہول گاندھی کی طرف سے انہیں غیرضروری طور پر گلے لگائے جانے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے خلاف کئی جماعتوں کے یکجا ہونے سے صرف ایک کنول کے کھلنے میں مدد ہی ملے گی۔ مودی نے پارلیمنٹ میں گزشتہ روز راہول گاندھی کے حیرت انگیز اقدام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے ان سے عدم اتحاد کی وجوہات کے بارے میں دریافت کیا تھا لیکن جب وہ وجوہات بتانے میں ناکام ہوگئے اور غیرضروری گلے لگاتے ہوئے اس معاملے کو ختم کردیا۔ مودی نے شاہجہاں پور میں ایک کسان ریالی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہاں صرف ایک دَل (سیاسی جماعت) ہی نہیں ہے بلکہ ’’دَلدل‘‘ (دل دل = کئی سیاسی جماعتیں) ہے جس میں صرف ایک کنول کھلنے میں ہی مدد ملے گی‘‘۔ کنول، بی جے پی کا انتخابی نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے خلاف مختلف سیاسی جماعتوں کا یکجا ہونا اس (بی جے پی) کیلئے ایک موقع ثابت ہوگا۔ اپوزیشن پارٹیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غریبوں، نوجوانوں اور کسانوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف وزیراعظم کو کرسی کے پیچھے دوڑ رہی ہیں۔ انہوں نے ہندی زبان میں ایک مقولہ بیان کیا۔ سیاسی جماعتوں کی بہتات کو ’’دلدل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دلدل میں کنول کھلتا ہے۔ مودی نے برجستہ کہا کہ اگر ایک دل میں ایک اور دل کا اضافہ کردیا جائے گا۔ یہ دلدل ہوجاتا ہے۔ کیچڑ آلود زمین (دلدل) کنول کھلنے کیلئے سازگار ہوتی ہے۔ انہوں نے عوام سے دریافت کیا کہ لوک سبھا میں گزشتہ روز جو کچھ بھی ہوا آیا، وہ اس سے مطمئن ہیں؟ اور الزام عائد کیا کہ اپوزیشن جماعتیں صرف وزیراعظم کی کرسی کے پیچھے دوڑ رہی ہیں۔ مودی نے کہا کہ ’’کیا مَیں نے کوئی غلطی کی ہے، مَیں صرف ملک اور غریبوں کے لئے کام کررہا ہوں۔ رشوت کے خلاف لڑ رہا ہوں۔ یہی میرا جرم ہے۔ بی جے پی کو 2014ء کے عام انتخابات میں لوک سبھا کی 80 نشستیں دینے والی ریاست اُترپردیش میں ایک ماہ سے بھی کم مدت میں مودی کا یہ تیسرا دورہ ہے۔ شاہجہاں پور میں آج ریالی سے خطاب سے ایک ہفتہ قبل انہوں نے اعظم گڑھ اور مرزا پور میں ووٹوں تک رسائی حاصل کی تھی۔ ماضی کی حکومتوں پر کسانوں کی مدد کیلئے کچھ نہ کرنے کا لزام عائد کرتے ہوئے مودی نے کسانوں کی فلاح و بہبود کیلئے اپنی حکومت کی طرف سے کئے گئے اپنی حکومت کی طرف سے کئے گئے مختلف اقدامات کی فہرست بیان کی۔ ماضی میں حکمرانی کرنے والی جماعتوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان میں موافق کسان ارادوں کا فقدان تھا اور گتے کے رس سے ایتھنول تیار کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس فیصلے پر یکم ڈسمبر سے عمل آوری ہوگی۔ شاہجہاں پور اجناس کی تھوک فروشی کا سب سے بڑا مارکٹ ہے اور نیشکر پیدا کرنے والا ایک اہم ضلع ہے۔ تلگو دیشم پارٹی کی طرف سے پارلیمنٹ میں پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کو گزشتہ روز شکست دینے کے بعد مودی کی یہ پہلی ریالی تھی جس میں شاہجہاں پور کے مقامی کسانوں کے علاوہ پڑوسی اضلاع، ہردوئی، لکھم پور کھیری، پیلی بھیت، سیتاپور، بریلی اور بدایوں کے کسانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT