Wednesday , February 21 2018
Home / شہر کی خبریں / پارلیمنٹ میں طلاق ثلاثہ پر ٹی آر ایس کا موقف ہنوز غیر واضح

پارلیمنٹ میں طلاق ثلاثہ پر ٹی آر ایس کا موقف ہنوز غیر واضح

چیف منسٹر نے ارکان پارلیمنٹ کو کوئی ہدایت نہیں دی، صدر جمہوریہ کے خطبہ پر مباحث کا آغاز، ارکان میں الجھن
حیدرآباد۔ 5 فبروری (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے پارٹی ارکان پارلیمنٹ کو طلاق ثلاثہ بل پر پارٹی کے موقف سے ابھی تک آگاہ نہیں کیا ہے جس کے باعث لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ٹی آر ایس ارکان صدر جمہوریہ کے خطبہ پر تحریک تشکر میں مباحث کے سلسلہ میں الجھن کا شکار ہیں۔ بجٹ اجلاس کے آغاز پر صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے دونوں ایوانوں سے خطاب کیا اور جس میں انہوں نے طلاق ثلاثہ بل کی تائید کی۔ اس کے علاوہ خواتین کو حقوق فراہم کرنے کے سلسلہ میں حکومت کے اقدامات کی تائید کرتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ بل کو منظوری حاصل ہوجائے گی۔ اگرچہ یہ بل لوک سبھا میں منظور ہوچکا ہے لیکن راجیہ سبھا میں اس کی منظوری باقی ہے۔ ٹی آر ایس ا رکان کو دونوں ایوانوں میں صدر جمہوریہ کے خطبہ پر تقریر کرنا ہے اور جن مسائل کا احاطہ کیا جائے گا ان میں طلاق ثلاثہ بل بھی یقینی طور پر شامل رہے گا۔ اب جبکہ گورنر کے خطبہ پر مباحث کا راجیہ سبھا میں آغاز ہوچکا ہے، ٹی آر ایس کے سربراہ کے سی آر نے ابھی تک ارکان کے لیے رہنمایانہ خطوط جاری نہیں کیے۔ گزشتہ دنوں ارکان پارلیمنٹ کے اجلاس میں چیف منسٹر نے 12 فیصد مسلم تحفظات اور مرکزی بجٹ میں تلنگانہ سے ناانصافی کے مسئلہ کو ایوان میں شدت کے ساتھ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ لیکن انہوں نے طلاق ثلاثہ بل کا کوئی تذکرہ نہیں کیا اور نہ ہی پارٹی کی حکمت عملی کی وضاحت کی۔ پارٹی کے ایک رکن نے بتایا کہ جس طرح بل کی پیشکشی کے موقع پر دونوں ایوانوں میں غیر جانبدار موقف اختیار کیا گیا اسی طرح گورنر کے خطبہ پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے طلاق ثلاثہ جیسے حساس موضوع پر اظہار خیال کا گریز کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اس سلسلہ میں پارٹی ہائی کمان سے واضح ہدایت نہیں ملتی اس وقت تک وہ پارٹی موقف کے بارے میں کچھ بھی اظہار خیال کے موقف میں نہیں ہیں۔ ایسے وقت جبکہ تلنگانہ میں تحفظ شریعت کے نام پر مہم عام جلسوں کی صورت میں چلائی جارہی ہے اور 9 فبروری کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا اجلاس عام شروع ہوگا ایسے میں ریاست کی برسر اقتدار پارٹی کی جانب سے طلاق ثلاثہ بل پر خاموشی معنی خیز ہے۔ تحفظ شریعت کے جلسوں میں برسر اقتدار پارٹی کے مسلم قائدین کو مدعو کیا گیا لیکن چیف منسٹر کے سی آر نے ابھی تک شریعت کے مسئلہ پر کوئی موقف اختیار نہیں کیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ انہیں تلنگانہ میں ہندو ووٹ بینک کی فکرہے۔ لوک سبھا میں بل کی پیشکشی کے موقع پر اطلاعات کے مطابق مقامی جماعت کے قائد کے مشورے پر ٹی آر ایس نے غیرجانبدارانہ موقف اختیار کیا تھا۔ اب جبکہ ملک بھر سے مذہبی قائدین حیدرآباد پہنچنے والے ہیں ایسے میں ٹی آر ایس کی خاموشی مسلمانوں میں بے چینی کا سبب بن سکتی ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ تحفظ شریعت کے جلسوں میں کسی بھی مقرر نے ٹی آر ایس سے موقف کی وضاحت کا مطالبہ نہیں کیا۔ حکومت کی حلیف مقامی جماعت بھی اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آخر ٹی آر ایس جس نے مسلمانوں کی تائید سے اقتدار حاصل کیا تھا، شریعت کے تحفظ کے مسئلہ پر فیصلہ کرنے سے گریزاں کیوں ہے؟

TOPPOPULARRECENT