Wednesday , December 19 2018

پارلیمنٹ میں مسلسل شوروغل اور تعطل کیلئے کانگریس ذمہ دار

اپوزیشن جماعت پر جمہوریت کی توہین کا الزام ، بی جے پی پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ، وزیر پارلیمانی اُمور کا بیان

نئی دہلی۔ 13 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ میں جاری تعطل کیلئے حکمراں بی جے پی نے کانگریس کو موردالزام ٹھہرایا ہے اور اس کو غیرجمہوری قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن جماعت جمہوریت کی بدستور توہین و تحقیر کررہی ہے جس طرح وہ ایمرجنسی کے دوران کی تھی۔ بی جے پی پارلیمانی پارٹی کے آج یہاں منعقدہ اجلاس میں وزیراعظم نریندر مودی اور اس کے صدر امیت شاہ کے علاوہ دیگر سینئر قائدین نے بھی شرکت کی۔ بعدازاں وزیر پارلیمانی امور اننت کمار نے پارلیمنٹ میں پیدا شدہ تعطل کیلئے کانگریس کو موردالزام ٹھہرایا اور کہا کہ اس کے خاتمہ کیلئے حکومت مختلف جماعتوں سے بات چیت کررہی ہے۔ اجلاس میں اننت کمار نے ارکان پارلیمنٹ سے اس تعطل کے مسئلہ پر بات چیت کی۔ واضح رہے کہ پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا دوسرا مرحلہ تقریباً ایک ماہ کی تعطیلات کے بعد 5 مارچ سے شروع ہوا تھا، لیکن مختلف مسائل پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید اختلافات اور اپوزیشن ارکان کے ہنگامہ آرائی کے سبب لگاتار ساتویں دن بعد دونوں ایوانوں کی کارروائی مسلسل التواء کی نذر ہوتی رہی ہے۔ اننت کمار نے کانگریس کی سرپرست سونیا گاندھی کی طرف سے اپوزیشن قائدین کو دی گئی ڈنر کی دعوت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان (سونیا گاندھی) کی ڈنر پر مبنی سیاست محض ڈنر تک محدود رہے گی جبکہ مودی کی سرپرستی میں بی جے پی بدستور ونر (فاتح) رہے گی

اور حکمران این ڈی اے کو مزید حلیف ملیں گے۔ اننت کمار نے اس ضمن میں شمال مشرقی ریاستوں میں مقامی جماعتوں سے بی جے پی کی مفاہمت کی مثال دی اور دعویٰ کیا کہ این ڈی اے اب این ڈی اے پلس ہورہا ہے جبکہ کانگریس دن بہ دن سب سے الگ تھلگ یکا و تنہا ہوتی جارہی ہے۔ اننت کمار نے 1970ء کی دہائی کے وسط میں نافذ کردہ ایمرجنسی کے دوران اندرا گاندھی حکومت کی مبینہ زیادتیوں کا مسئلہ اٹھایا اور الزام عائد کیا کہ کانگریس ایسا ہی ذہن رکھتی ہے۔ کانگریس نے سنسر کیا اور پارلیمنٹ کی میعاد کو پانچ سال سے بڑھاکر چھ سال کیا تھا اور اس مدت کے دوران اپوزیشن قائدین کو جیلوں میں ڈال دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس (کانگریس) نے جمہوریت کے تئیں ایسا ہی جبر و استبداد پر مبنی انداز فکر برقرار رکھا ہے۔ وہ پارلیمنٹ کو کام کرنے نہیں دے رہی ہے۔ یہ ہمارا فریضہ ہے کہ اس (پارلیمنٹ) کو کام کرنے دیا جائے اور پارلیمانی کارکردگی کو یقینی بنانے کے لئے حکومت مقدور بھر مساعی کررہی ہے‘‘۔ وزیر پارلیمانی امور نے مزید کہا کہ ’’کانگریس، پنجاب نیشنل بینک اسکام پر بحث سے راہ فرار اختیار کررہی ہے کیونکہ اس کو ڈر ہے کہ اگر بحث شروع ہوئی تو کئی گڑھے مردے پرانی قبروں سے باہر نکل آئیں گے‘‘۔ واضح رہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارکردگی لگاتار ساتویں دن آج بھی اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگئی۔

TOPPOPULARRECENT