Wednesday , May 23 2018
Home / شہر کی خبریں / پارلیمنٹ میں مسلم تحفظات مسئلہ کی گونج

پارلیمنٹ میں مسلم تحفظات مسئلہ کی گونج

ٹی آر ایس ارکان کی ہنگامہ آرائی‘ آندھراپردیش کے خصوصی موقف کیلئے تلگودیشم کا بھی احتجاج

حیدرآباد 5 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے آج لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں مسلم اور ایس ٹی تحفظات کے مسئلہ پر ہنگامہ آرائی کرکے ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کردی۔ پارلیمنٹ بجٹ سیشن کے دوسرے مرحلہ کا آج آغاز ہوا اور توقع کے عین مطابق ٹی آر ایس کے علاوہ تلگودیشم اور ٹاملناڈو سے تعلق رکھنے والی پارٹیوں نے علیحدہ موضوعات پر شوروغل کرکے کارروائی میں رکاوٹ پیدا کی۔ تلگودیشم نے آندھراپردیش خصوصی ریاست کا موقف دیئے جانے اور تنظیم جدید قانون کے وعدوں کی تکمیل کے حق میں نعرے بازی کی۔ تلگودیشم کے علاوہ وائی ایس آر کانگریس ارکان بھی اسی مطالبہ کے تحت ایوان میں وسط میں نظر آئے۔ کاویری واٹر کے مسئلہ پر ڈی ایم کے ارکان نے احتجاج کیا۔ تلنگانہ اور آندھراپردیش کے ارکان کے ہاتھوں میں پلے کارڈس تھے جن پر نعرے درج تھے۔ ارکان کی مسلسل نعرے بازی اور شوروغل کے نتیجے میں دونوں ایوانوں کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کرنی پڑی۔ ٹی آر ایس کی رکن کے کویتا نے کانگریس اور بی جے پی پر قوم کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہاکہ دونوں پارٹیاں حقیقی عوامی مسائل سے فرار اختیار کررہی ہیں۔ واضح رہے کہ تلنگانہ ارکان پارلیمنٹ کو چیف منسٹر کے سی آر نے ہدایت دی تھی کہ وہ ایوان کے پہلے دن تحفظات کے مسئلہ پر آواز بلند کریں۔ اسی دوران پارلیمانی پارٹی لیڈر جیتندر ریڈی نے اعلان کیاکہ تحفظات میں اضافہ کے مسئلہ پر مرکز کے خلاف احتجاج جاری رہیگا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے جیتندر ریڈی نے کہاکہ دونوں ایوانوں میں پارٹی ارکان نے تحفظات کے اختیارات ریاست کو منتقل کرنے مانگ کی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ تنظیم جدید قانون میں دونوں ریاستوں سے جو وعدے کئے گئے اُن پر عمل آوری کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ آندھرا کے مطالبات کی ٹی آر ایس تائید کرتی ہے۔ پارٹی کے ایک اور رکن ونود کمار نے میڈیا کو بتایا کہ کل منگل کو بھی پارلیمنٹ میں تحفظات مسئلہ کی گونج سنائی دے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ منگل کی صبح 10.30 بجے پارلیمنٹ احاطہ میں مجسمہ گاندھی کے پاس دھرنا منظم کیا جائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ تعلیم، ملازمت اور دیگر مسائل ملک بھر میں یکساں نوعیت کے ہونے چاہئیں۔ برخلاف اس کے مرکز کی پالیسی کے نتیجہ میں ہر ریاست میں یہ معاملات مختلف ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تشکیل ریاست کے بعد مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے لہذا اُن کے تحفظات میں اضافہ کیلئے اسمبلی میں بِل منظور کیا گیا۔ یہ بِل گورنر اور صدرجمہوریہ کو روانہ کیا گیا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ مرکز سے خواہش کی گئی کہ دستور کے نویں شیڈول میں ترمیم کرکے اضافی تحفظات کو منظوری دی جائے۔ اُنھوں نے بتایا کہ ٹی آر ایس کی جانب سے تحریک التواء پیش کی گئی اور مرکزی حکومت سے سوال کیا گیا کہ ریاستی بِل کی منظوری میں تاخیر کیوں کی جارہی ہے؟ اُنھوں نے کہاکہ ٹی آر ایس ارکان کے احتجاج پر پارلیمنٹ کی کارروائی دو مرتبہ ملتوی کرنی پڑی۔ ونود کمار نے بتایا کہ چیف منسٹر کے سی آر کی صدارت میں منعقدہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے والے مسائل کو قطعیت دی گئی ہے۔ اُنھوں نے کانگریس اور بی جے پی کو ایک ہی سکّے کے دو رُخ قرار دیا اور کہاکہ گزشتہ انتخابات میں عوام نے کانگریس کی پالیسیوں سے عاجز آکر بی جے پی کو ووٹ دیا تھا لیکن بی جے پی عوام کو راحت پہنچانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بی جے پی تریپورہ کی کامیابی پر جشن منارہی ہے جبکہ تریپورہ، تلنگانہ کے ایک ضلع کے مماثل ہے۔ مغربی بنگال میں گورکھالینڈ کے نام پر بی جے پی نے ایک نشست پر کامیابی حاصل کی لیکن بی جے پی ایم پی آج اپنے انتخابی حلقہ میں دورہ کرنے سے قاصر ہیں۔

TOPPOPULARRECENT