Wednesday , December 19 2018

پارلیمنٹ میں گڑبڑ کرنے والے ارکان کو ’’کام نہیں تو تنخواہ نہیں‘‘

بی جے پی ایم پی کی تجویز ، ’’واؤ ‘‘ ، ’’اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ‘‘ ٹی آر ایس رکن لوک سبھا کویتا کا ردعمل
نئی دہلی ۔ 21 مارچ ۔( سیاست ڈاٹ کام ) پارلیمنٹ میں مسلسل خلل اندازی شوروغل اور کوئی کام کاج نہ ہونے پر برہم بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نے لوک سبھا اسپیکر کو لکھا ہے اور تجویز پیش کی ہے کہ جو ارکان پارلیمنٹ گڑبڑ کرتے ہیں سزا کے طورپر اُن کے مشاہیرہ کومنہا کرلیا جائے ۔ اس تجویز پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تلنگانہ راشٹرا سمیتی ایم پی نے بی جے پی کی اس تجویز کو ’’اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ‘‘ کے مصداق قرار دیا اور کہاکہ ’’واؤ ‘‘ یہ بی جے پی ایم پی خود ہم پر الزام لگارہے ہیں اگر حکومت ازخود تمام مسائل کو حل کردے تو ایوان میں نظم و نسق بحال رہے گا ۔ بی جے پی ایم پی منوج تیواری نے کہاکہ انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن کو خط لکھیں گے اور پارلیمنٹ میںمسلسل خلل اندازی پر اپنی تکلیف اور تردود بیان کرتے ہوئے انھیں مشورہ دیں گی کہ وہ اُن ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہ کاٹ لیں جو پارلیمنٹ میں اودھم مچاکر کارروائی چلنے نہیں دیتے ۔ انھوں نے کہاکہ ان کے خط میں یہ لکھا ہے کہ یہ دیکھ کر صدمہ ہوتا ہے کہ کس طرح عوامی نمائندے جو اصل قانون سازی کیلئے ذمہ دار ہوتے ہیں اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کرتے جارہے ہیں ۔ لہذا میں یہ تجویز رکھتی ہوں کہ اگر پارلیمنٹ میں کوئی بھی کارروائی چلنے نہیں دی جارہی ہے تو اس گڑبڑ میں ملوث ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہ کاٹ دی جائے ۔ براہ کرم ’’کام نہیں تو تنخواہ نہیں‘‘ کے اصول پر عمل کیا جانا چاہئے ۔ ٹی آر ایس ایم پی کویتا نے کہاکہ اگر حکومت اپنا کام بخوبی انجام دے تو ارکان پارلیمنٹ کو اس طرح احتجاج کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی ، بی جے پی ایم پی کی یہ تجویز ایسا ہی ہے جیسے کہ ’’اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ‘‘ ۔ کوئی بھی پارٹی یا ایم پی ایوان کے اندر احتجاج کرنا نہیں چاہتا اگر حکومت از خود بروقت ان کے مسائل کی یکسوئی کردے تو ایوان کے اندر نظم و ضبط برقرار رہے گا ۔ کویتا نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ٹویٹ کیا کہ ’’واؤ‘‘‘ یہ حیرت کی بات ہے کہ حکومت کے لوگ بھی ایسا کہہ رہے ہیں۔ پارلیمنٹ میں دلچسپ بات یہ دیکھی گئی کہ ٹی آر ایس براہ راست بی جے پی کی حامی جماعت ہے اس نے لوک سبھا میں نریندر مودی حکومت کے خلاف لائے گئے تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کیلئے ایوان میں اس وقت غیرجانبدار رہنے کا منصوبہ بنایا کیوں کہ اس تحریک عدم اعتماد کو ٹی آر ایس کی علاقائی حریف پارٹیاں تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس نے پیش کیا ہے۔ جمعہ سے قبل جب حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تو ٹی آر ایس نے بھی اپنے مطالبات پر زور دیتے ہوئے ایوان میں گڑبڑ کرتے ہوئے کارروائی چلنے نہیں دی تھی ۔ تلنگانہ کے لئے مزید کوٹہ سیٹس دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹی آر ایس احتجاج کررہی ہے اس کا مطالبہ ہے کہ ریاستی خدمات کے علاوہ تعلیمی اداروں میں تحفظات کی حد بڑھادی جائے جبکہ سپریم کورٹ نے اس حد کو 50 تک محدود رکھا ہے ۔ ٹی آر ایس حکومت چاہتی ہے کہ حکومت اس حد کو بڑھاکر 62فیصد کردے ۔ اس نے دستور کے 9 ویں شیڈول میں اس کو شامل کرنے پر بھی زور دیا ہے ۔ ایوان کے اندر مختلف پارٹیوں کی جانب سے مختلف مسائل اُٹھاکر احتجاج کیا جاتا ہے اس کی وجہ سے کارروائی میں خلل پڑتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT