Wednesday , November 22 2017
Home / اداریہ / پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی

پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی

میرے غم پر غور کرنے کی اُنہیں فرصت کہاں
وہ ابھی اُلجھے ہوئے ہیں اپنے ہی جذبات میں
پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی
ملک میں بڑے کرنسی نوٹوں کا چلن بند کئے جانے کے بعد شروع ہوئے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں مسلسل ہنگامے چل رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں اس مسئلہ پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایوان میں احتجاج کر رہی ہیں اور حکومت اپنی جانب سے ہٹ دھرمی اور سخت موقف پر اٹل ہیں۔ اس مسئلہ نے جہاں سارے ملک میں افرا تفری کی کیفیت پیدا کردی ہے وہیں پارلیمنٹ میں کوئی کام کاج نہیں ہو رہا ہے ۔ حالانکہ اپوزیشن اور برسر اقتدار جماعتیں ہر کوئی یہ کہہ رہی ہیں کہ وہ پارلیمنٹ میں مباحث کیلئے تیار ہیں لیکن کوئی بھی اپنے موقف میں نرمی پیدا کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں چاہتی ہیں کہ وزیر اعظم ان مباحث کی سماعت کریں اور ایوان میں جواب دیں جبکہ حکومت مباحث کیلئے تو تیار رہنے کا ادعا کرتی ہے لیکن وزیر اعظم کی جوابدہی کے مطالبہ کو قبول کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن کے ٹکراؤ کے دوران پارلیمنٹ کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے اور جن ارکان کو عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعہ اپنے مسائل کی یکسوئی کیلئے ایوان کو روانہ کیا تھا وہ عوام کے مسائل کو ایوان میں پیش کرنے کے اپنے بنیادی فریضہ کی تکمیل میں ناکام ہوگئی ہیں۔ اپوزیشن کے موقف کو دیکھتے ہوئے حکومت بھی اپنے موقف میںنرمی پیدا کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ ایسے میں حالات سدھرنے کی بجائے مسلسل بگڑتے ہی جا رہے ہیں۔ ان حالات میں جہاں بی جے پی کے سینئر لیڈر ایل کے اڈوانی نے ناراضگی جتائی تھی وہیں آج صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے بھی آج اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ صدر جمہوریہ نے ارکان پارلیمنٹ سے کہا کہ ’’ خدا کیلئے اپنا کام کیجئے ‘‘ ۔ صدر جمہوریہ کی اپیل پارلیمنٹ کی صورتحال کو ظاہر کرنے کیلئے کافی ہے ۔صدر جمہوریہ عموما اس طرح کے مسائل میں مداخلت نہیں کرتے اور نہ کوئی تبصرے کرتے ہیں لیکن جس طرح سے پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس ہنگاموں کی نذر ہو رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے صدر جمہوریہ اپنی ناراضگی ظاہر کئے بغیر نہیں رہ سکے ۔ کم از کم اب اپوزیشن جماعتوں اور حکومت کو اپنے اپنے موقف میں نرمی پیدا کرنے کے تعلق سے غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایوان میں نظم بحال ہوسکے اور کام کاج کو یقینی بنایا جاسکے ۔
حکومت اور اپوزیشن کے موقف کا سوال ہے اس کے مطابق اپوزیشن کے جو پوائنٹس ہیں وہ قابل غور ضرور ہیں۔ چونکہ ملک میں کرنسی نوٹوںکا چلن بند کرنے کے فیصلے کا وزیر اعظم نے ملک کے سامنے اعلان کیا تھا ۔ اس کے بعد جاپان کے دورہ پر بھی وزیر اعظم نے اس تعلق سے اظہار خیال کیا تھا اور جاپان سے واپسی کے بعد گوا میں بھی ملک کے عوام سے وزیر اعظم ہی مخاطب ہوئے تھے ۔ اب اگر اپوزیشن جماعتیں اس مسئلہ پر مباحث کا جواب وزیر اعظم سے چاہتی ہیں تو اس میں وہ کوئی غلط نہیں ہیں۔ وہ اپنے موقف پر اصرار کرنے میں حق بجانب قرار پاتی ہیں۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم نریند رمودی اور ان کی پارٹی ہمیشہ ہی جمہوریت کی دہائی دیا کرتی ہے ۔ جمہوریت میں ملک کی پارلیمنٹ کو مرکزی مقام حاصل ہوتا ہے اور اسے تقدس کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ ملک کے عوام کو درپیش انتہائی اہمیت کے حامل اور حساس مسئلہ پر وزیر اعظم سے اگر پارلیمنٹ میں جواب کا اصرار کیا جاتا ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ تاہم اگر وزیر اعظم مسلسل ایسا کرنے سے گریز کرتے ہیں تو یہ شبہات تقویت پاتے ہیں کہ وزیر اعظم پارلیمنٹ کا سامنا کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ جمہوریت کے اس مرکزی مقام کی اہمیت کو اپنے عمل سے تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ انہیں پارلیمنٹ میں جواب دینے سے گریز نہیں کرنا چاہئے ۔ انہیں صورتحال کی سنگینی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ پارلیمنٹ میں جو تعطل پیدا ہوا ہے وہ اگر ان کے اپنے موقف میں کسی طرح کی نرمی سے دور ہوسکتا ہے تو انہیں اس کیلئے آگے آنے کی ضرورت ہے ۔
اب جبکہ خود بی جے پی کے سینئر لیڈر اور ملک کے صدر جمہوریہ نے پارلیمنٹ کے تعطل پر ناراضگی ظاہر کی ہے تو اپوزیشن جماعتوں اور حکومت دونوں کو سنجیدگی کے ساتھ اپنے اپنے موقف پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہر دو فریقین کو اپنے موقف میں نرمی پیدا کرنے آگے آنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ ایک دوسرے کو نشانہ بناتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے انہیں بے شمار مواقع مل سکتے ہیں۔ انہیں حالات کو اپنے مطابق ڈھالنے اور ملک کے عوام کی نظروں میں اپنا امیج بہتر بنانے کے بھی کئی مواقع مل سکتے ہیں لیکن انہیں عوام کے مسائل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی جو ذمہ داری سونپی گئی ہے اس کو پورا کرنے اولین ترجیح دینے کی ضرورت ہے ۔ کم از کم اب فریقین کو چاہئے کہ وہ پارلیمنٹ کا تقدس کو سمجھیں اور اس کو عملی طور پر قبول کرتے ہوئے ایوان میں نظم بحال کرنے کیلئے آگے آئیں۔

TOPPOPULARRECENT