Tuesday , September 25 2018
Home / شہر کی خبریں / پارلیمنٹ میں ہنگامہ میں آگے ،کارکردگی میں پیچھے

پارلیمنٹ میں ہنگامہ میں آگے ،کارکردگی میں پیچھے

تلگو دیشم اور ٹی آر ایس کے بعض ارکان نے 4 سال میں زبان نہیں کھولی
حیدرآباد۔ 4 اپریل (سیاست نیوز) پارلیمنٹ میں گزشتہ ایک ماہ سے مختلف مسائل پر احتجاج کرتے ہوئے ایوان کی کا رروائی میں رکاوٹ پیدا کرنے والے تلنگانہ اور متحدہ آندھراپردیش کی برسر اقتدار پارٹیوں کے ارکان کی گزشتہ چار برسوں میں کارکردگی اور حاضری مایوس کن رہی ہے۔ ٹی آر ایس اور تلگودیشم کے ایک بھی رکن کی ایوان میں حاضری صدفیصد نہیں رہی۔ اس کے علاوہ عوامی مسائل پیش کرنے اور مختلف موضوعات پر مباحث میں حصہ لینے کے معاملہ میں بھی بیشتر ارکان کی کارکردگی حوصلہ افزاء شمار نہیں کی جاسکتی۔ عوامی مسائل کے سلسلہ میں ارکان کا رویہ مایوس کن ضرور ہے لیکن ایوان میں ہنگامہ آرائی کے لیے دونوں پارٹیوں کے ارکان پابندی سے ایوان میں موجود ہیں۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے سکریٹریٹ سے حاصل کردہ ریکارڈ کے مطابق ایک ماہ سے ہنگامہ آرائی کرنے والے ارکان کی گزشتہ چار برسوں میں ایوان کی کارروائی میں حصہ داری انتہائی کم ہے۔ گزشتہ چار برسوں میں پانچ تلگودیشم ارکان نے ایوان میں اپنا منہ نہیں کھولا۔ نندیال لوک سبھا حلقہ سے منتخب ایس پی وائی ریڈی جنہوں نے وائی ایس آر کا نگریس پارٹی سے انحراف کرتے ہوئے تلگودیشم میں شمولیت اختیار کرلی ہے، لوک سبھا میں ان کی کارکردگی کا ریکارڈ انتہائی مایوس کن ہے۔ انہوں نے گزشتہ چار برسوں میں کسی بحث میں حصہ نہیں لیا اور نہ ہی کوئی سوال پوچھا۔ ان کی حاضری بھی صرف 14 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ ایس پی وائی ریڈی نے ایک بھی خانگی بل پیش نہیں کیا۔ چتور سے تعلق رکھنے والے تلگودیشم کے این شیوا پرساد حالیہ عرصہ میں پارلیمنٹ میں دکھائی دینے لگے ہیں۔ آندھراپردیش کو خصوصی موقف کا درجہ دیئے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے تلگودیشم ارکان کے احتجاج میں وہ پیش پیش رہے۔ روزانہ وہ نت نئے بھیس میں پارلیمنٹ پہنچ کر ارکان کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ شیوا پرساد نے گزشتہ چار برسوں میں ایک مرتبہ بھی ایوان میں اپنا منہ نہیں کھولا۔ تلنگانہ کے ورنگل حلقہ سے تعلق رکھنے والے ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ پی دیاکر نے گزشتہ چار برسوں میں کوئی غیر معمولی کارکردگی نہیں دکھائی ہے۔ ان کے علاوہ ٹی آر ایس کے رکن راجیہ سبھا کیپٹن وی لکشمی کانت رائو کا مظاہرہ بھی کم رہا۔ دونوں ریاستوں کے ارکان میں زیادہ سے زیادہ حاضری 92 تا 97 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ کانگریس کے آنند بھاسکر جو گزشتہ دنوں اپنی میعاد کی تکمیل کے بعد راجیہ سبھا سے سبکدوش ہوئے ان کی حاضری 92 فیصد رہی۔ راجیہ سبھا میں ٹی آر ایس کے وی لکشمی کانت رائو کی حاضری 53 فیصد رہی جو دیگر ارکان کے مقابلہ سب سے کم ہے۔ لوک سبھا میں چیوڑلہ لوک سبھا حلقہ کے رکن کونڈا ویشویشور ریڈی 97 فیصد حاضری کے ساتھ سرفہرست رہے جبکہ جی سکھیندر ریڈی نلگنڈہ اور پی دیاکر ورنگل کی حاضری صرف 51 فیصد رہی جو دوسرے ارکان کے مقابلہ کم ہے۔ پی دیاکر نے ایک مرتبہ بھی مباحث میں حصہ نہیں لیا جبکہ انہوں نے 5 سوالات کیے۔ انہوں نے ایک خانگی بل بھی ایوان میں پیش کیا۔ وی لکشمی کانت رائو اس معاملہ میں کافی پیچھے ہیں۔ انہوں نے نہ ہی مباحث میں حصہ لیا اور نہ کوئی سوال کیا۔ ان کی جانب سے کوئی خانگی بل پیش نہیں کیا گیا۔ آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والے ایس پی وائی ریڈی تینوں زمروں میں صفر رہے جبکہ این شیواپرساد 42 فیصد حاضری کے ساتھ 53 سوالات کیے۔ ایم وینکٹیشور رائو تلگودیشم کی حاضری 80 فیصد رہی اور انہوں نے 43 سوالات کیے۔ تلگودیشم کے کے نارائن رائو کی حاضری 92 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ انہوں نے 139 سوالات کیے اور ایک مسئلہ پر مباحث میں حصہ لیا۔

TOPPOPULARRECENT