Wednesday , June 20 2018
Home / Top Stories / پارلیمنٹ واسمبلی میں مسلم نمائندگی کیلئے مزید5سال انتظار

پارلیمنٹ واسمبلی میں مسلم نمائندگی کیلئے مزید5سال انتظار

حیدرآباد ۔17 ۔ مارچ (سیاست نیوز) صدر ٹی آر ایس چندر شیکھر راؤنے عام انتخابات میں مسلم طبقہ کی تائید حاصل کرنے علما و دانشوروں کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا۔ حیدرآباد اور تلنگانہ کے مختلف اضلاع سے تقریباً 40 علما اور دانشوروں نے اس نشست میں شرکت کی اور چندر شیکھر راؤ کو اقلیتوں کے مسائل سے آگاہ کیا۔ کے سی آر نے نئی ریاست تلنگانہ میں اق

حیدرآباد ۔17 ۔ مارچ (سیاست نیوز) صدر ٹی آر ایس چندر شیکھر راؤنے عام انتخابات میں مسلم طبقہ کی تائید حاصل کرنے علما و دانشوروں کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا۔ حیدرآباد اور تلنگانہ کے مختلف اضلاع سے تقریباً 40 علما اور دانشوروں نے اس نشست میں شرکت کی اور چندر شیکھر راؤ کو اقلیتوں کے مسائل سے آگاہ کیا۔ کے سی آر نے نئی ریاست تلنگانہ میں اقلیتوں کے ساتھ تمام وعدوں کی تکمیل کا وعدہ تو کیا تاہم لوک سبھا اور اسمبلی کی نشستوں پر اقلیتوں کو مناسب حصہ داری سے معذرت کا اظہار کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ وہ اقلیتی قائدین کو ٹکٹوں کی تقسیم میں مناسب حصہ داری کیلئے تیار ہیں لیکن اقلیتی امیدوار کی کامیابی کے امکانات کم ہیں جسکے باعث انہیں زائد حلقوں سے امیدوار نہیں بنایا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت کی تشکیل ٹی آر ایس کی اولین ترجیح ہے اور صرف ٹکٹ دینے سے زیادہ وہ یقینی کامیابی والے امیدواروں کو ٹکٹ دینا چاہتے ہیں۔ چندر شیکھر راؤ نے حلقہ اسمبلی محبوب نگر سے سید ابراہیم کو ٹکٹ نہ دیئے جانے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس حلقہ میں مسلم رائے دہندوں کا فیصد کم ہے اور گزشتہ دو مرتبہ رائے دہی فرقہ وارانہ نوعیت اختیار کر گئی جس کے باعث سید ابراہیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ سید ابراہیم کو قانون ساز کونسل میں نمائندگی دی جائیگی۔ کے سی آر نے واضح کیا کہ لوک سبھا اور اسمبلی میں نہ سہی لیکن کونسل میں اقلیتوں کو مناسب نمائندگی دی جائیگی ۔

انہوں نے کہا کہ ٹکٹوں میں حصہ داری سے زیادہ وہ اقلیتوں سے وعدوں کی تکمیل پر یقین رکھتے ہیں۔ تعلیم و روزگار میں اقلیتوں کو 12 فیصد تحفظات، مسلم قائد کو ڈپٹی چیف منسٹر کا عہدہ ، تلنگانہ کی 10 یونیورسٹیز میں 3 پر مسلم وائس چانسلر کا تقرر، اوقافی جائیدادوں کا تحفظ ، مفت تعلیم اور دیگر طبقات کے مساوی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائیگا ۔ انہوں نے علما و دانشوروں سے کہا کہ وہ آئندہ پانچ سال تک لوک سبھا اور اسمبلی نشستوں میں مناسب نمائندگی کیلئے انتظار کریں۔ 2019 ء کے عام انتخابات تک تلنگانہ کی اسمبلی کی نشستیں 155 تا 160 ہوجائیں گی۔ ساتھ ہی لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ ہوگا۔ اس وقت مسلم امیدواروں کو زائد موقع دیا جاسکتا ہے۔ کے سی آر نے اقلیتی ووٹوں کی تقسیم کو روکنے مسلم دانشوروں اور قائدین سے تعاون کی اپیل کی۔

اجلاس میں شریک مسلم دانشوروں نے تجویز پیش کی کہ اقلیتوں سے متعلق وعدوں کو انتخابی منشور میں شامل کیا جائے تاکہ مسلمانوں کو ٹی آر ایس پر اعتماد ہو۔ بتایا جاتا ہے کہ کے سی آر نے شہر کی مقامی جماعت اور سی پی آئی سے مفاہمت کا اشارہ دیا۔ تاہم جماعت اسلامی کی نو قائم شدہ ویلفیر پارٹی سے تعاون کے بارے میں سوالات کو ٹال دیا۔ انہوں نے کہا کہ جن جماعتوں نے تلنگانہ تحریک میں ٹی آر ایس کی تائید کی وہ ان کی قدر کرتے ہیں اور تشکیل حکومت کے بعد ان جماعتوں سے مشاورت کے ذریعہ اقلیتی مسائل کی یکسوئی پر توجہ دی جائے گی۔ اجلاس میں حیدرآباد کے علاوہ ورنگل ، کاغذ نگر، نلگنڈہ ، سنگا ریڈی، کھمم، محبوب نگر اور نظام آباد کے علماء اور دانشوروں نے شرکت کی ۔

TOPPOPULARRECENT