Wednesday , December 19 2018

پارلیمنٹ پرحملہ میں شہید پولیس ملازمین کو خراج عقیدت

نئی دہلی 13 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ پر حملہ کی 13 ویں برسی کے موقع پر صدرنشین راجیہ سبھا حامد انصاری، وزیراعظم نریندر مودی اور لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن کی قیادت میں ارکان پارلیمنٹ نے آج شہیدوں کو خراج عیقدت پیش کیا ہے۔ پارلیمنٹ کے احاطہ میں منعقدہ یادگار تقریب میں صدرنشین یو پی اے سونیا گاندھی، سابق وزیراعظم منموہن سنگھ،

نئی دہلی 13 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ پر حملہ کی 13 ویں برسی کے موقع پر صدرنشین راجیہ سبھا حامد انصاری، وزیراعظم نریندر مودی اور لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن کی قیادت میں ارکان پارلیمنٹ نے آج شہیدوں کو خراج عیقدت پیش کیا ہے۔ پارلیمنٹ کے احاطہ میں منعقدہ یادگار تقریب میں صدرنشین یو پی اے سونیا گاندھی، سابق وزیراعظم منموہن سنگھ، وزیر خارجہ سشما سوراج، وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ اور دیگر ارکان شریک تھے۔ مذکورہ قائدین جن میں ڈپٹی اسپیکر لوک سبھا ایم تھمبی دورائی، بی جے پی ایم پی میناکشی لیکھی اور سی پی آئی کے ڈی راجہ نے شہیدوں کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی مناکر گلہائے عقیدت پیش کیا۔ جبکہ شہیدوں کے ارکان خاندان اور ارکان پارلیمنٹ نے بھی عقیدت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر شہیدوں کی یاد میں خون کا عطیہ کیمپ منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر مخاطب کرتے ہوئے وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے جمہوریت کے سب سے بڑے مندر کی حفاظت کرتے ہوئے جن لوگوں نے اپنی جانیں نچھاور کردی تھیں، ان کی قربانیوں کو قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ وزیراعظم نریندر مودی نے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ سال 2001 ء میں آج ہی کے دن پارلیمنٹ پر حملہ کو ناکام بناتے ہوئے سکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جانیں نچھاور کردی تھیں اور ان کی یادیں ہمیشہ ہمارے ذہن میں تازہ رہیں گی۔ سینئر بی جے پی لیڈر مسٹر ایل کے اڈوانی نے کہاکہ اب چیلنج کسی ایک مخصوص دن تک محدود نہیں تھا۔ قوم ایک عرصہ دراز سے دہشت گردی کے مسئلہ سے دوچار ہے اور آج کا دن ہمیں یہ یاد دہانی کرواتا ہے کہ دہشت گردی کا خطرہ ہنوز ختم نہیں ہوا ہے۔ مسٹر ایل کے اڈوانی جوکہ اٹل بہاری واجپائی کی زیرقیادت این ڈی اے حکومت میں وزیرداخلہ تھے، بتایا کہ پارلیمنٹ پر حملہ کے وقت پاکستان نے دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے سے اتفاق کرلیا تھا اور ہم نے اس وقت کہا تھا کہ اس خصوص میں اقدامات کرنے پر مذاکرات ثمرآور ثابت ہوں گے۔ لیکن یہ افسوسناک امر ہے کہ ابھی تک کوئی قدم نہیں اُٹھایا گیا۔

TOPPOPULARRECENT