Friday , May 25 2018
Home / ہندوستان / پارلیمنٹ کا اجلاس مسلسل چھٹویں دن بھی شوروغل کی نذر

پارلیمنٹ کا اجلاس مسلسل چھٹویں دن بھی شوروغل کی نذر

بینکنگ اسکام ، اے پی کو خصوصی موقف اور تلنگانہ میں تحفظات کوٹہ میں اضافہ کیلئے ارکان کی نعرہ بازی
نئی دہلی ۔ 12مارچ ۔(سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی لگاتار چھٹویں دن آج بھی روک دی گئی ۔ بینکنگ اسکام اور کاویری آبی تنازعہ جیسے مختلف مسائل پر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کے مسلسل احتجاج میں کوئی کمی نہیں ہوئی اور حکمراں این ڈی اے کی حلیف تلگودیشم پارٹی کے ارکان بھی اے پی کو خصوصی موقف دینے کے مطالبہ کی تائید میں مسلسل احتجاج کررہے ہیں۔ اس دوران عام آدمی پارٹی بھی راجیہ سبھا میں احتجاج میں شامل ہوگئی اور دہلی میں دوکانات اور تجارتی اداروں کی مہربندی کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا ۔ لوک سبھا میں شوروغل اور ہنگامہ آرائی کے درمیان مملکتی وزیر فینانس شیوپرتاب شکلا نے مفرور معاشی مجرمین بل 2018 ء پیش کیا۔ جس میں مفرور دھوکہ بازوں اور قرض نادہندگان سے بقایا جات کی بازیابی کے لئے ان کی تمام جائیدادیں قرق کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے ۔ ہیروں کے مفرور تاج نیرو مودی کی طرف سے پنجاب نیشنل بینک کو تقریباً 12,700 کروڑ روپئے کی دھوکہ دہی پر اپوزیشن کے مسلسل احتجاج کے تناظر میں یہ بل پیش کیا گیا ہے ۔ مجوزہ قانون ان تمام نادہندگان پر لاگو ہوگا جو 100 کروڑ روپئے یا اس سے زائد قرض باقی رکھتے ہوئے ملک سے فرار ہوچکے ہیں ۔ مملکتی وزیر نے چٹ فنڈس ( ترمیمی) بل 2018 ء بھی متعارف کیا ۔ پرلیمانی بجٹ سیشن کا دوسرا مرحلہ 5 مارچ سے شروع ہوا لیکن اپوزیشن کے مسلسل احتجاج اور شوروغل کے سبب مقررہ کارروائی نہیں چلائی جاسکی ۔ تاہم ایوان بالا میں 8 مارچ کو ایک گھنٹہ ارکان نے بین الاقوامی یوم خواتین کے موقع پر بحث میں حصہ لیا۔ لوک سبھا کی اسپیکر سمترا مہاجن نے آج وقفہ سوالات کے فوری بعد ایوان کی کارروائی ملتوی کردی جب ٹی آر ایس ، ٹی ڈی پی ، انا ڈی ایم کے اور وائی ایس آر کانگریس کے ارکان جو پلے کارڈس تھامے ہوئے تھے اپنے مطالبات کی تائید میں نعرے لگاتے ہوئے ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے تھے ۔ ایوان کی کارروائی دوپہر میں دوبارہ شروع ہوئی لیکن ارکان کے احتجاج کے باوجود اسپیکر نے مصروفیات کو جاری رکھا ۔ اس موقع پر شکلاء کی طرف سے دو بلز بھی پیش کئے گئے ۔ بی جے ڈی کے بھارنوہری مہتاب نے مفرور معاشی مجرمین بل کی پیشکشی کی مخالفت کی اور کہا کہ اس سے شہریوں کے بنیادی حقوق سلب ہوں گے ۔ تلگودیشم پارٹی جو این ڈی اے وزارت سے باہر نکل جانے کے باوجود حکمراں اتحاد میں بدستور برقرار ہے ۔ آندھراپردیش کو خصوی موقف دینے کا پرزور مطالبہ کیا۔ ٹی آر ایس ارکان نے تلنگانہ میں میں تحفظات کوٹہ میں مزید اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا ۔ کانگریس اور ٹی ایم سی کے ارکان نے بینکنگ اسکام پر ہنگامہ آرائی کی ۔ راجیہ سبھا میں بھی ایسے ہی مناظر دیکھے گئے جس کے نتیجہ میں کرسی صدارت کو ایوان کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کرنے کیلئے مجبور ہونا پڑا ۔ ایک مرحلہ پر کانگریس کے رکن کے وی پی رامچندر راؤ نے پوائنٹ آف آرڈر کا مطابہ کیا جس پر برہم صدرنشین وینکیا نائیڈو نے برجستہ کہا کہ ’’جب کوئی آرڈر ( نظم و ضبط ) ہی نہیں ہے تو پھر پوائنٹ آف آرڈر دیا جاسکتا ہے ؟ ‘‘ ۔ نائیڈو نے ارکان کو اپنی نشستوں پر بیٹھ جانے کی ہدایت کے ساتھ کہا کہ ’’ایوان کے وسط میں جمع ہونے کی مجھے کوئی وجہ نظر نہیں آتی ‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT