Sunday , November 19 2017
Home / سیاسیات / پارلیمنٹ کا ہنگامہ خیز مانسون سشن ختم ‘ کوئی کام کاج نہ ہوسکا

پارلیمنٹ کا ہنگامہ خیز مانسون سشن ختم ‘ کوئی کام کاج نہ ہوسکا

NEW DELHI, AUG 13 (UNI):- Opposition MPs raising slogans during a demonstration in front of the Gandhi statue at Parliament House demanding resignation of Madhya Pradesh Chief Minister Shivraj Singh Chauhan,Rajasthan Chief Minister Vasundhara Raje and External Affairs Minister Sushma Swaraj in New Delhi on Thursday. UNI PHOTO-97U

قانون سازی کا عمل بھی شور شرابہ کی وجہ سے متاثر۔ صرف جی ایس ٹی بل پیش کیا جاسکا

نئی دہلی 13 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) پارلیمنٹ کا ہنگامہ خیز مانسون سشن آج ختم ہوگیا ۔ یہ سشن عملا ہنگاموں کی نذر ہوگیا اور اس میں قانون سازی کے عمل میں تاخیر ہوگئی جن میں جی ایس ٹی بل بھی شامل ہے ۔ اس بل کو مسلسل ہنگاموں اورکارروائی میں رکاوٹ کی وجہ سے منظور نہیں کیا جاسکا ۔ اس سشن کا 21 جولائی کو آغاز ہوا تھا اور مسلسل چار ہفتوں کے دوران للت مودی تنازعہ اور مدھیہ پردیش کے ویاپم اسکام پر ہنگاموں کا سلسلہ جاری رہا ۔ اس کے نتیجہ میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی مفلوج رہی ۔ اپوزیشن اور برسر اقتدار جماعت کے مابین تصادم اس وقت شدت اختیار کرگیا تھا جب اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن نے 3 اگسٹ کو کانگریس کے 44 کے منجملہ 25 ارکان کو پانچ دن کیلئے ایوان سے معطل کردیا تھا کیونکہ وہ ایوان میں مسلسل ہنگامے کرتے ہوئے رکاوٹ پیدا کر رہے تھے ۔ اسپیکر کے اس اقدام پر کئی اپوزیشن جماعتوں نے کانگریس کی حمایت کا اعلان کیا

اور انہوںنے اجتماعی طور پر ایوان زیریں کا بائیکاٹ کیا ۔ یہ بائیکاٹ پانچ دن تک جاری رہاجو معطل شدہ ارکان پارلیمنٹ سے اظہار یگانگت کیلئے تھا ۔ راجیہ سبھا میں تو کوئی کام ہی نہیں ہوسکا جبکہ لوک سبھا میں وقفہ سوالات چلتا رہا تھا حالانکہ اس دوران بھی ہنگامہ آرائی ہوئی ۔ لوک سبھا میں اپوزیشن ارکان کی غیر موجودگی کے دوران کچھ مقننہ کام کاج بھی ہوا تھا ۔ دونوں ایوانوں میں کارروائی تقریبا سارے سشن کے دوران متاثر رہی جب کانگریس کے ارکان مسلسل نعرہ بازی کر رہے تھے ۔ ان کا مطالبہ تھا کہ للت مودی کی مدد کرنے پر وزیر خارجہ سشما سوراج اور چیف منسٹر راجستھان وسندھرا راجے مستعفی ہوجائیں اور چیف منسٹر مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان ویاپم اسکام کے نتیجہ میں استعفی پیش کریں۔ پارلیمنٹ کے ایوان مفلوج ہوکر رہ جانے کے نتیجہ میں بیشتر مقننہ کام کاج ٹھپ ہوکر رہ گیا ۔

TOPPOPULARRECENT