Saturday , September 22 2018
Home / Top Stories / پارلیمنٹ کی عمارت کے باقاعدہ تحفظ کیلئے مناسب اقدام

پارلیمنٹ کی عمارت کے باقاعدہ تحفظ کیلئے مناسب اقدام

نئی دہلی۔ 23 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن نے آج کہا کہ پارلیمنٹ کی عمارت کے تحفظ کو باقاعدہ بنانے کیلئے مناسب اقدام کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے رپورٹ پیش کی ہے کہ حساس عمارت کے لئے صیانتی انتظامات میں کئی جھول موجود ہیں۔ یہ ادعا کرتے ہوئے کہ کسی بھی ادارہ کی صیانت ایک مسلسل عمل ہے اور اس پر نظرثانی کی ضرو

نئی دہلی۔ 23 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن نے آج کہا کہ پارلیمنٹ کی عمارت کے تحفظ کو باقاعدہ بنانے کیلئے مناسب اقدام کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے رپورٹ پیش کی ہے کہ حساس عمارت کے لئے صیانتی انتظامات میں کئی جھول موجود ہیں۔ یہ ادعا کرتے ہوئے کہ کسی بھی ادارہ کی صیانت ایک مسلسل عمل ہے اور اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے تاکہ وقفہ وقفہ سے ابھرنے والے صیانتی اور ٹیکنالوجی کے چیلنجس سے نمٹا جاسکے۔ پہلی بار اسپیکر لوک سبھا کے عہدہ کا جائزہ لینے کے بعد سمترا مہاجن نے کہا کہ سیکریٹریٹ نے بعض مسائل پر فوری کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔ کمیٹی نے اپنی قطعی رپورٹ مارچ 2015ء میں پیش کی تھی جس میں قابل قدر تجاویز اور مناسب اقدام کی سفارش کی گئی ہے۔ اسپیکر نے کہا کہ مشترکہ کمیٹی برائے ایوان پارلیمنٹ کی عمارت کا تحفظ سے تبادلہ خیال کے بعد مناسب اقدام کیا جائے گا۔ کمیٹی کے صدر سابق مرکزی معتمد داخلہ آر کے سنگھ ہیں اور اس کے ارکان میں سابق ممبئی پولیس کمشنر ستیہ پال سنگھ اور سابق ڈی جی پی راجستھان ہریش چند مینا شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی رپورٹ کے بموجب عمارت میں نصب 450 سی سی ٹی وی کیمروں میں سے تقریباً 100 غیرکارکرد ہیں ۔

کمیٹی نے پتہ چلایا کہ صیانتی ارکان عملہ میں سے کئی افراد کے پاس بلٹ پروف ہیلمٹس اور جیاکٹس کے علاوہ عصری آلات اور ہتھیار دستیاب نہیں ہیں۔ ارکان پارلیمنٹ نے صیانتی معاملات سے اپنے پروفیشنل کیریئر کے دوران نمٹا ہے۔ علاوہ ازیں کمیٹی نے پتہ چلایا کہ نصب کئے ہوئے بیشتر آلات برائے صیانت فرسودہ ہیں۔ رپورٹ اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن کو پیش کی گئی تھی اور اس کی ایک نقل وزارت داخلہ کو روانہ کی گئی تھی۔

اس میں سفارش کی گئی ہے کہ ایوان پارلیمنٹ کی تمام 12 پھاٹکوں پر صیانتی انتظامات میں اضافہ کیا جائے۔ کمیٹی نے کہا کہ تفصیلی تبادلہ خیال مختلف محکموں اور ماہرین صیانت سے مشورہ کے بعد عبوری رپورٹ اکتوبر 2014ء میں اور قطعی رپورٹ مارچ 2015ء میں پیش کی گئی ہے۔ موجودہ لوک سبھا کے چند ارکان کو توقع ہے کہ صیانتی مسائل اور ماہرین کی ایک کمیٹی جس کا قیام ان کی وسیع معلومات اور تجربہ سے استفادہ کیلئے کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد موجودہ انتظامات کو بہتر ، چست و درست اور مستحکم بنانا ہے۔ وزارت داخلہ پر پارلیمنٹ کی حفاظت کی ذمہ داری ہے چنانچہ اس رپورٹ کو پارلیمنٹ میں بھی پیش کیا جائے گا اور ان کا بہتر تعاون حاصل کرکے مناسب اقدام کیا جائے گا۔ سمترا مہاجن اسپیکر لوک سبھا نے اس سلسلے میں ایک صحافتی بیان جاری کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT