Tuesday , September 25 2018
Home / Top Stories / پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا طوفانی آغاز، اجلاس کل تک ملتوی

پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا طوفانی آغاز، اجلاس کل تک ملتوی

نئی دہلی۔ 7 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا آغاز ’’طوفانی‘‘ ثابت ہوا۔ لوک سبھا میں اجلاس کا پہلا دن اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور ریل مسافر کرایوں میں اضافہ پر ہنگامہ کی نذر ہوگیا۔ اپوزیشن نے تحریک التواء کے تحت مباحث پر شدید اصرار کیا تھا۔ ایوان میں شوروغل کے دوران صرف دو سوالوں کے جواب دیئے جاسکے۔ کانگریس، ترنمول

نئی دہلی۔ 7 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا آغاز ’’طوفانی‘‘ ثابت ہوا۔ لوک سبھا میں اجلاس کا پہلا دن اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور ریل مسافر کرایوں میں اضافہ پر ہنگامہ کی نذر ہوگیا۔ اپوزیشن نے تحریک التواء کے تحت مباحث پر شدید اصرار کیا تھا۔ ایوان میں شوروغل کے دوران صرف دو سوالوں کے جواب دیئے جاسکے۔ کانگریس، ترنمول کانگریس، آر جے ڈی، سماج وادی پارٹی، عام آدمی پارٹی اور بائیں بازو کی پارٹیوں کے ارکان قیمتوں میں اضافہ اور ریل مسافر کرایوں میں اضافہ کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے ایوان میں وسط میں جمع ہوگئے۔ اپوزیشن تحریک التواء کے تحت مباحث پر اصرار کررہا تھا، لیکن اسپیکر سمترا مہاجن نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قاعدہ 193 کے تحت مباحث منعقد کئے جائیں گے جس کے بعد رائے دہی لازمی نہیں ہوتی۔ کانگریس قیمتوں میں اضافہ پر اور ترنمول کانگریس ریل سفر کرایوں میں اضافہ پر تحریک التواء کے تحت مباحث پر مُصر تھے جس کے نتیجہ میں رائے دہی لازمی ہے اور اگر تحریک التواء منظور ہوجائے تو حکومت کی سرزنش بھی ممکن ہے۔ ایوان پہلے 2 بجے دن تک ملتوی کردیا گیا اور اجلاس کے دوبارہ آغاز پر تعطل برقرار رہا۔ مرکزی وزیر پارلیمانی اُمور وینکیا نائیڈو نے قیمتوں میں اضافہ پر تشویش میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت فوری طور پر قیمتوں میں اضافہ پر مباحث کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے قاعدہ کا فیصلہ جس کے تحت مباحث کئے جائیں، اسپیکر پر چھوڑ دیا۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے تحریکات التواء کی نوٹسیں مسترد کردیں لیکن قاعدہ 193 کے تحت مباحث کی 6 نوٹسیں قبول کرلیں۔ انہوں نے سی پی آئی ایم کے کروناکرن کو مباحث کا آغاز کرنے کی دعوت دی، تاہم کانگریس اور دیگر چند اپوزیشن پارٹیوں نے تحریک التواء کے تحت مباحث پر اصرار کیا۔

نائب قائد کانگریس امریندر سنگھ نے کہا کہ عوام فاقہ کررہے ہیں اور غذائی اشیائے کی قیمتیں ہولناک سطح پر پہنچ گئی ہیں، عام آدمی کیسے زندہ رہے گا۔ ہم حکومت سے اس پر مباحث اور جواب کے خواہاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس اہم مسئلہ پر ایوان میں رائے دہی ہو۔ جیوتر آدتیہ سندھیا نے کہا کہ راجیہ سبھا میں قیمتوں میں اضافہ کے مسئلہ پر مباحث کی اجازت دی گئی ہے لیکن اسپیکر لوک سبھا نے کہا کہ دوسرے ایوان کے معاملات پر لوک سبھا میں بحث نہیں کی جاسکتی۔ شوروغل کے دوران اسپیکر نے چند ارکان سے کہا کہ انہیں غریبوں کے مسائل پر بحث سے دلچسپی نہیں ہے۔ بعدازاں انہوں نے احتجاج جاری رہنے پر اجلاس دن بھر کے لئے ملتوی کردیا۔ ٹی آر ایس ارکان پولاورم پراجیکٹ آرڈیننس کی مخالفت کررہے تھے۔

TOPPOPULARRECENT