Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / پارلیمنٹ کے جاریہ اجلاس میں جی ایس ٹی بل پیش کرنے سے گریز: وزیر فینانس

پارلیمنٹ کے جاریہ اجلاس میں جی ایس ٹی بل پیش کرنے سے گریز: وزیر فینانس

حکومت کی بیجا تائید کیلئے اپوزیشن کوئی ربر اسٹامپ نہیں : کانگریس ترجمان
نئی دہلی 19 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج یہ اشارہ دیا ہے کہ پارلیمنٹ کے جاریہ اجلاس میں گڈس اینڈ سرویس ٹیکس (جی ایس ٹی) بل منظور کروانے سے حکومت قاصر ہے۔ لیکن بینک کرپٹسی (دیوالیہ) بل پیش کیا جائے گا۔ فالتو وجوہات کی بناء جی ایس ٹی کی منظوری میں تاخیر کے لئے کانگریس کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے انھوں نے کہاکہ بعض لوگوں کو ہندوستان کی معکوس ترقی دیکھنے میں خوشی محسوس ہوتی ہے لیکن ہم انھیں قوم کا مفاد داؤ پر لگاکر خوش ہونے نہیں دیں گے۔ مرکزی وزیر نے مزید کہاکہ حکومت راجیہ سبھا کے سرمائی اجلاس کے آخری 3دنوں میں قانون ثالث اور کمرشیل کورٹ بل پیش کرنے کے لئے ممکنہ کوشش کرے گی۔ ایف سی سی آئی کے سالانہ اجلاس عام سے مخاطب کرتے ہوئے مسٹر ارون جیٹلی نے کہاکہ میرا یہ خیال ہے کہ محض فالتو وجوہات کی بناء قانون اشیائے صارفین اور خدمات کی منظوری میں عمداً تاخیر پیدا کی جارہی ہے۔ تاہم انھوں نے یہ بھی کہاکہ جی ایس ٹی بل کو مسترد کئے جانے سے تو اچھا تاخیر ہے۔ وزیر فینانس نے اپوزیشن سے کہاکہ دستوری ترمیمات کے بلز پر اپنا غیر لچکدار رویہ ترک کردیں۔

انھوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کے آئندہ 3 دن انتہائی فیصلہ کن ہیں اور حکومت بعض اہم ترمیمات پیش کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔ انھوں نے کہاکہ عالمی انحطاط کے دور میں معاشی اصلاحات کو سیاسی جماعتوں کی تائید سب سے بڑا چیلنج ہے اور ترقی کی راہ میں سیاسی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے متبادل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اب یہ سوال ہے کہ مجموعی شرح پیداوار میں مزید 2 فیصد اضافہ کے لئے یہ سیاست موجودہ حالات میں تائید کے لئے آمادہ ہوگی۔ انھوں نے کہاکہ ترقی کے لئے اصلاحات بھی ناگزیر ہیں اور ملک کے مفاد میں کوئی بھی اس کی مخالفت نہیں کرسکتا۔ وزیر فینانس نے کہاکہ گڈس اینڈ سرویس ٹیکس کی بعض تجاویز مناسب نہیں ہے

لیکن ہندوستانحی سیاست کا رویہ اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔ انھوں نے بتایا کہ آزادی کے بعد سے راست محاصل اندازی میں جی ایس ٹی سب سے بڑا اصلاحاتی عمل ثابت ہوگا۔ دریں اثناء کانگریس ترجمان آنند شرما نے کہاکہ جی ایس ٹی بہت جلد حقیقت بن جائے گا۔ لیکن حکومت کو ملک کے مفاد پر سوچنا چاہئے۔ انھوں نے کہاکہ اپوزیشن کا تعاون کوئی ربر اسٹامپ نہیں ہے جس کا استعمال قوانین میں اصلاحات اور ترمیمات کی توثیق کیلئے کیا جائے۔ چونکہ پیشرو یو پی اے حکومت نے جی ایس ٹی کو متعارف کروایا ہے لہذا ہم اس قانون کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ لوک سبھا میں اپوزیشن کے تعاون سے ہی کمرشیل کورٹس، کمرشیل ڈیویژنس، کمرشیل اپلیٹیڈ ڈیویژن آف ہائیکورٹ بل، ثالثی و مصالحتی (ترمیم) بل کو منظور کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT