Wednesday , July 18 2018
Home / Top Stories / پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں احتجاج سے کارروائی مفلوج

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں احتجاج سے کارروائی مفلوج

لوک سبھا میںشوروغل کے دوران دو بلز منظور ‘راجیہ سبھا میں کانگریس کے احتجاج سے کارروائی میں خلل‘اجلاس ملتوی
نئی دہلی ۔ 15 مارچ (سیاست ڈاٹ کام ) اپوزیشن ارکان نے کاغذات پھاڑے اور مسلسل احتجاج کرتے ہوئے انہیں چاروں طرف بکھیر دیا ‘ دیگر پارٹیوں نے لوک سبھا کی کارروائی میں آج مسلسل نویں دن خلل اندازی کی ‘ لیکن حکومت مباحث کے بغیر شوروغل کے دوران دو بلز منظور کروانے میں کامیاب ہوگئیں ۔ ایوان کی کارروائی اپوزیشن پارٹیوں کے برسراقتدار این ڈی اے میں شریک تلگودیشم اور ٹی آر ایس کے احتجاج کی وجہ سے مفلوج ہوگئی ۔ ٹی ڈی پی اور ٹی آر ایس کے ارکان اجلاس کے آغاز میں ہی وسط میں پہنچ گئے اور کئی مسائل بشمول پی این بی اسکام ‘ آندھرا کیلئے خصوصی موقف اور کوٹہ میں اضافہ پر پُرشور احتجاج کرتے ہوئے کارروائی کو مفلوج کردیا ۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے پہلے ایوان کا اجلاس دوپہر تک اور بعد ازاں دن بھر کیلئے ملتوی کردیا ۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کانگریس نے سابق وزیر وائی ایس چودھری کے سابق یو پی اے دور حکومت پر آندھراپردیش کی تقسیم کے بارے میں تبصرے پر راجیہ سبھا کی کارروائی دو بجے دن تک کیلئے ملتوی کردی گئی ۔ کانگریس ارکان ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے تھے جب کہ رکن پارلیمنٹ چودھری نے کہا کہ 2014ء میں آندھراپردیش کی تقسیم عجلت میں نامنصفانہ طور پر اور غیر سائنسی انداز میں کی گئی تھی ۔ صدرنشین ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ سابق وزیر کو قاعدہ 241 کے تحت بیان دینے کی اجازت دی گئی ہے ‘ وہ مرکزی کابینہ سے سبکدوش ہونے کی وجوہات بیان کرسکتے ہیں ۔ تلگودیشم کے دو وزراء حکومت سے آندھراپردیش کو خصوصی موقف کے مسئلہ پر ترک کرچکے ہیں ۔ چودھری نے وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی پارٹی کے قائد این چندرا بابو نائیڈو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تقریر کا آغام کیا کہ انہوں نے اپنی کابینہ میں انہیں شامل کیا ۔ بعد ازاں انہوں نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ بائیں بازو کی نظریاتی بنیاد اور پروپگنڈہ کیلئے علحدہ سچائی کے بارے میں نظریہ قائم کرلیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2014ء میں آندھراپردیش کی تقسیم عجلت میں نامنصفانہ طور پر اور غیر سائنسی انداز میں کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ریاستوں کے مساوی دستاویزکیلئے رکھنا چاہیئے ۔ ان کے تبصرے پر کانگریس ارکان نے سخت ردعمل ظاہر کیا ‘ احتجاجی نعرے لگائے اور ایوان کے وسط کی طرف بڑھنے لگے ۔ وینکیا نائیڈو نے چودھری سے خواہش کی کہ وہ بیان کے منظورہ متن سے انحراف نہ کریں اور اگر اس سے ماورا کچھ کہیں تو اسے ریکارڈ میں شامل نہیں کیا جائے گا لیکن کانگریس ارکان اس پر مطمئن نہیں ہوئے اور ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے ۔ بعض ارکان آندھراپردیش کیلئے خصوصی موقف کی تائید میں پلے کارڈس تھامے ہوئے تھے ۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ایوان سیاست کرنے کی جگہ نہیں ہے اور کارروائی دو بجے دن تک ملتوی کردی ۔ قبل ازیں سابق رکن حمیدہ حبیب اللہ کے انتقال پر سوگ ظاہر کیا گیا تھا ۔ ارکان نے مرحومہ کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی منائی ۔ قبل ازیں لوک سبھا میں خصوصی راحت رسانی (ترمیمی) بل پیش اور مباحث کے بغیر منظور کرلیا گیاتھا جب کہ ایوان میں احتجاج کی وجہ سے شوروغل ہورہا تھا ۔ وزیر پارلیمانی اُمور اننت کمار نے احتجاجی ارکان بشمول کانگریس سے اپیل کی کہ وہ اپنی نشستوں پر واپس ہوجائیں ۔

TOPPOPULARRECENT