Monday , August 20 2018
Home / Top Stories / پارلیمنٹ کے دونوں ایوان میں اپوزیشن کا احتجاج‘کارروائی ملتوی

پارلیمنٹ کے دونوں ایوان میں اپوزیشن کا احتجاج‘کارروائی ملتوی

اراکین کا کاویری مینجمنٹ بورڈ کے قیام اور آندھرا کو خصوصی درجہ دینے پر ایوان کے وسط میں ہنگامہ
نئی دہلی، 5 اپریل (سیاست ڈاٹ کام ) راجیہ سبھا میں آج اپوزیشن ارکان کے الگ الگ ایشوز پر ہنگامے کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دوپہردو بجے تک ملتوی کر دی گئی جس کی وجہ سے وقفہ صفر اور وقفہ سوالات بھی نہیں ہو سکا۔اے آئی اے ڈی ایم کے ، ڈی ایم کے اورتلگو دیشم پارٹی کے ارکان نے کاویری مینجمنٹ بورڈ کے قیام اور آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کے معاملہ پر ایوان کے وسط میں آکر پھر ہنگامہ کیا۔ ہنگامے سے پہلے چیئرمین ایم وینکیا نایڈ نے ضروری دستاویزات میزپر رکھوائے ۔ ہنگامے کی وجہ سے ایوان میں مسلسل 21 ویں دن وقفہ صفر اور وقفہ سوالات نہیں ہو سکا۔ضروری دستاویزات رکھے جانے کے بعد اے آئی ڈی ایم کے ، ڈی ایم کے اور تیلگو دیشم پارٹی کے رکن چیئر کے قریب آکر نعرے لگانے لگے ۔ان کے ہاتھ میں پوسٹر اور بینر تھے ۔ اسی دوران ترنمول کانگریس کے سکھیندو شیکھر رائے نے طریق کار کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ کل ایوان میں ناقص طریقے سے اینٹی کرپشن (ترمیمی) بل 2013 پیش کیا گیا تھا۔ اس پر ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ اس میں اصلاح کی جائے گی۔

کارروائی شروع ہوتے ہی ایوان بالا میں آندھرا پردیش سے منتخب ہوکرآئے پربھاکر ریڈی اور کرناٹک سے منتخب سید ناصر حسین کو رکنیت کا حلف دلایا گیا۔ ارکان کے ہنگامہ جاری رہنے پر مسٹر نائیڈو نے ایوان کی کارروائی دوپہر دو بجے تک کے لئے ملتوی کر دی۔وہیں لوک سبھا میں بھی کاویری پانی کے مینجمنٹ بورڈ کے قیام کی مانگ کو لے کر اے آئی ڈی ایم کے کے ارکان کے بھاری ہنگامے کی وجہ سے لوک سبھا میں آج 21 ویں دن بھی کوئی کام کاج نہیں ہوسکا اور ایوان کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کر دی گئی۔ایوان کی کارروائی ایک بار ملتوی ہونے کے بعد دوپہر 12 بجے جیسے ہی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی پہلے ہی سے چیئر کے قریب موجود اے آئی ڈی ایم کے کے ارکان نے زور زور سے نعرے لگانے شروع کر دیئے ۔ وہ ہاتھوں میں تختیاں لئے ہوئے تھے ، جن پر کاویری مینجمنٹ بورڈ کے قیام کا مطالبہ لکھا تھا۔ وہ ‘ہمیں انصاف چاہیے ‘ کے نعرے بھی لگا رہے تھے ۔شور شرابے کے درمیان ہی اسپیکر سمترا مہاجن نے ضروری دستاویزات ایوان میں رکھوائے ۔ اس کے بعد انہوں نے ایوان کو بتایا کہ کانگریس کے ملکاارجن کھڑگے ، تیلگودیشم پارٹی کے تھوٹا نرسمہن، وائی ایس آر کانگریس کے وائی وي سبا ریڈی، رولیوشنري سوشلسٹ پارٹی کے این پریم چندرن اور کچھ دیگر ارکان کی جانب سے ان کو عدم اعتماد کی تحریک کے نوٹس ملے ہیں۔انہوں نے ہنگامہ کر رہے اے آئی اے ڈی ایم کے کے ارکان سے ایوان میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لئے اپنی اپنی نشستوں پر جانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدم اعتماد کی تحریک کے نوٹس کی حمایت میں کھڑے ارکان کو گن نہیں پا رہی ہیں، لیکن اے آئی اے ڈی ایم کے کے ارکان نے ان کی اپیل کو مسترد کر دیا۔پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے ہنگامے کے درمیان ہی کہا کہ حکومت عدم اعتماد کی تحریک پر بحث کو تیار ہے ، لیکن کانگریس سمیت دوسری اپوزیشن پارٹیاں خود ہی بحث کے معاملہ سنجیدہ نہیں ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT