Saturday , December 15 2018

پارلیمنٹ کے سال میں کم از کم 100 اجلاس

نئی دہلی ۔ 14 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ کے سال میں کم از کم 100 اجلاس اور ارکان کیلئے ضابطہ اخلاق ان سفارشات میں چند ہیں جو آل انڈیا وہپ کانفرنس کے اختتام پر پیش کی گئی۔ یہ دو روزہ اجلاس آج گوا میں ختم ہوا۔ کانفرنس کی یہ رائے تھی کہ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کے طویل عرصہ سے زیرتصفیہ و متنازعہ مراعات کی تدوین پر ایوان میں غور ہون

نئی دہلی ۔ 14 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ کے سال میں کم از کم 100 اجلاس اور ارکان کیلئے ضابطہ اخلاق ان سفارشات میں چند ہیں جو آل انڈیا وہپ کانفرنس کے اختتام پر پیش کی گئی۔ یہ دو روزہ اجلاس آج گوا میں ختم ہوا۔ کانفرنس کی یہ رائے تھی کہ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کے طویل عرصہ سے زیرتصفیہ و متنازعہ مراعات کی تدوین پر ایوان میں غور ہونا چاہئے۔ مرکزی وزیرپارلیمانی امور ایم وینکیا نائیڈو سے یہ خواہش کی گئی ہیکہ وہ مراعات کی تدوین کیلئے ایک پیانل قائم کرے اور اسے پریسائیڈنگ آفیسرس سے رجوع کیا جائے۔

یہ مسئلہ اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ ماہرین تعلیم اور میڈیا مراعات کی تدوین کا مطالبہ کررہے ہیں تاکہ اس معاملہ میں غیریقینی کیفیت ختم ہو اور مقننہ کی شفاف کارکردگی یقینی ہوسکے۔ کانفرنس میں ایوان کی کارروائی میں مسلسل خلل اندازی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور یومیہ الاونس کو سوخت کرنے جیسے اقدامات کی سفارش کی گئی تاکہ ایوان کی کارروائی بناء کسی خلل اندازی؍ التواء کے جاری رہ سکے اور کوئی بھی دن بغیر کسی کارروائی کے ختم نہ ہو۔ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلی کے بارے میں عوامی نقطہ نظر کو درست کرنے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ کانفرنس نے ارکان اسمبلی کیلئے ضابطہ اخلاق کی خواہش ظاہر کی جسے اتفاق رائے کے بعد منظوری دی جانی چاہئے۔

ضابطہ اخلاق کی عمل آوری کیلئے مؤثر میکانزم پر بھی زور دیا گیا۔ کانفرنس نے تجویز پیش کی کہ ضابطہ اخلاق کا مسودہ تمام چیف منسٹرس اور پریسائیڈنگ آفیسرس سے رجوع کیا جائے اور پھر قطعی فیصلہ کیا جائے۔ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کے اجلاس کی کم از کم تعداد کے بارے میں کہا گیا ہیکہ ان اسمبلیوں میں جہاں ارکان کی تعداد 40 یا اس سے کم ہو وہاں سال میں کم از کم 40 دن یہ اجلاس ہونا چاہئے۔ اسی طرح 40 ارکان سے زائد کے حامل ایوان کے کم از کم 70 دن اجلاس ہونے چاہئے۔ پارلیمنٹ کے سال میں کم از کم 100 اجلاس کی سفارش کی گئی اور کہا گیا ہیکہ وزیرپارلیمانی امور اس معاملہ میں مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور پریسائیڈنگ آفیسرس سے رابطہ قائم کرتے ہوئے قطعی فیصلہ کرے۔ اس کانفرنس میں جو ایم وینکیا نائیڈو کی جانب سے منعقد کی گئی تھی، چیف وہپ، وہپس اور مختلف ریاستوں کے وزرائے پارلیمانی امور میں شرکت کی اور متفقہ طور پر یہ سفارشات پیش کی ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT