Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / پارلیمنٹ کے قریب یوتھ کانگریس کا ا حتجاجی مظاہرہ

پارلیمنٹ کے قریب یوتھ کانگریس کا ا حتجاجی مظاہرہ

NEW DELHI, JULY 22 (UNI):-Police using water canon to disperse Youth Congress activists during a demonstration demanding resignation of Madhya Pradesh Chief Minister Shivraj Singh Chouhan,Rajasthan Chief Minister Vasundhara Raje and External Affairs Minister Sushma Swaraj in New Delhi on Wednesday. UNI PHOTO-46u

اسکام اور کرپشن پر ’ہٹلر مودی خاموشی توڑو‘ کے نعرے

نئی دہلی ۔ 22 ۔ جولائی (سیاست ڈاٹ کام) یوتھ کانگریسی کارکنوں کو آج اس وقت پولیس نے حراست میں لے لیا جب وہ وزیر خارجہ سشما سوراج اور چیف منسٹر وسندھرا راجے اور شیوراج سنگھ چوہان کی برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کامپلکس کی سمت پیشقدمی (مارچ) کرنے لگے تھے۔ اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صدر انڈین یوتھ کانگریس امریندر سنگھ راجہ نے کہا کہ وزیراعظم کو اپنی خاموشی توڑنا چاہئے۔ بصورت دیگر ہم پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرتے رہیں گے۔ اور ایوان کی کارروائی چلنے نہیں دی جائے گی اور مذکورہ لیڈروں کے خلاف الزامات پر وزیراعظم کو اپنا موقف ظاہر کرناہوگا ۔ انہوں نے سابق آئی پی ایل سربراہ للت مودی کو سفری دستاویزات کی اجرائی میں سشما سوراج کے اعانت اور مدھیہ پردیش میں ویاپم اسکام کا مسئلہ اٹھایا اور الزام عائد کیا کہ وسندھرا راجے نے للت مودی کے ایمگریشن کے سلسلہ میں اس وقت سفارش کی تھی جب وہ راجستھان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تھیں جبکہ ویاپم اسکام منظر عام پر آنے کے بعد چیف منسٹر مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان کے استعفیٰ کیلئے دباؤ بڑھتا جارہا ہے اور اسکام میں ملوث تقریباً 40 افراد کی مشتبہ حالت میں موت واقع ہوگئی ہے۔ مبینہ اسکامس کا تذکرہ کرتے ہوئے امریندر سنگھ نے بتایا کہ یو پی اے کے دورحکومت میں ہرایک الزام پر صفائی پیش کی گئی لیکن موجودہ این ڈی اے حکومت اپنے وزراء کے خلاف عائد الزامات پر معنیٰ خیز خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کا طرز عمل ہٹلر جیسا ہے ۔ متعدد الزامات کے باوجود ہٹلر مودی جواب دینے کیلئے تیار نہیں ہیں جبکہ یو پی اے نے الزامات عائد ہونے پر پارلیمنٹ میں اپنا موقف واضح کردیا تھا۔ دہلی میں ریسینا روڈ پر احتجاج کے دوران یوتھ کانگریس کارکنوں نے اس وقت بیرکیڈس کو توڑدیا جب وہاں پر پولیس کے اضافی جمیعت کو طلب کرلیا گیا تااکہ احتجاجیوںکو پارلیمنٹ کی سمت پیشقدمی سے روکا جاسکے ۔ بعد ازاں پولیس پانی کی توپ استعمال کر کے کارکنوں کو منتشر کردیا۔

TOPPOPULARRECENT