Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کا آج سے طوفانی آغاز

پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کا آج سے طوفانی آغاز

کشمیر اور اروناچل پردیش کے مسائل پر حکومت کو نشانہ بنانے اپوزیشن کی حکمت عملی ، جی ایس ٹی بل حکومت کی ترجیح

نئی دہلی۔ 17 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ کا مانسون سیشن کل سے شروع ہورہا ہے جس میں اپوزیشن جماعتیں، کشمیر میں گڑبڑ و بے چینی کے علاوہ غیربی جے پی حکومتوں کو غیرمستحکم کرنے مرکز کی کوششوں پر مودی حکومت کو پارلیمنٹ میں اپنی سخت تنقیدوں کا نشانہ بنائیں گے ۔ لیکن جی ایس ٹی جیسے بعض امور کی تائید بھی کی جائے گی۔ وزیراعظم نریندر مودی نے جی ایس ٹی بل کو قومی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔ مانسون سیشن سے ایک دن قبل آج یہاں منعقدہ کل جماعتی اجلاسمیں مختلف اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے اروناچل پردیش اور اتراکھنڈ میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کا تذکرہ کیا اور اشارہ دیا کہ ان مسائل پر وہ حکومت کو نشانہ بنائیں گی۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ بی جے پی کی زیرقیادت مرکزی حکومت پر ریاستوں کو اب کوئی بھروسہ نہیں رہا۔ مودی جو بعد میں اس اجلاس میں شریک ہوئے، کشمیر کے واقعات پر بیک آواز اظہار خیال کیلئے تمام جماعتوں سے اظہار تشکر کیا اور جی ایس ٹی بل کی منظوری میں تعاون کی

درخواست کرتے ہوئے کہا کہ یہ (بل) قومی اہمیت کی حامل ہے اور سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ قومی مفاد دیگر تمام باتوں سے بالاتر رکھا جائے۔ وزیر پارلیمانی اُمور اننت کمار نے دو گھنٹے تک جاری رہنے والے اس کل جماعتی اجلاس کے بعد اخباری نمائندوں سے کہا کہ پارلیمنٹ ایک ’’مہا پنچایت‘‘ ہے جہاں تمام مسائل اٹھائے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی پر اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے حکومت، تمام جماعتوں سے بات چیت کرسکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بشمول جی ایس ٹی قانون سازی کی کارروائی ہماری ترجیح ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ جی ایس ٹی بل کو اتفاق رائے سے منظور کیا جائے۔ اس ضمن میں ہم سب سے تعاون کیلئے تیار ہیں‘‘۔ اننت کمار نے اروناچل پردیش کے مسئلہ پر کانگریس، بائیں بازو اور دیگر چند جماعتوں کی تنقیدوں کو مسترد کردیا اور کہا کہ مختلف مسائل پر بحث کی جاسکتی ہے‘‘۔

غلام نبی آزاد نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن کے زیراقتدار ریاستوں کو غیرمستحکم کرنے کیلئے مرکزی حکومت تمام حربے اور ترکیبی استعمال کررہی ہے اور وزیراعظم مودی کو مرکز اور ریاستوں کے درمیان تعاون سے متعلق ان کے بیانات پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ حتی کہ اکالی دل جیسی بی جے پی کی حلیف جماعت نے بھی ریاستوں کے حقوق و اختیارات کی پامالی پر مرکز کو تنقید کا نشانہ بنائی ہے۔ غلام نبی آزاد نے اگرچہ جی ایس ٹی کا راست تذکرہ نہیں کیا لیکن کہا کہ بہتر اصولوں کی بنیاد پر کانگریس کی جانب سے مختلف قانون سازیوں میں تعاون بھی کرسکتی ہے۔ آزاد نے کہا کہ ’’ہم نے کسی بل کو روکنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے، جواز کی بنیاد پر تائید کی جائے گی۔ ہم ایسی کسی بھی بل کی تائید کرسکتے ہیں جو عوام، ترقی و شرح نمو کیلئے معاون ثابت ہوسکتی ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT