Saturday , June 23 2018
Home / شہر کی خبریں / پارٹی سے زیادہ عوام عزیز، کے ایس راؤ مرکزی وزیر

پارٹی سے زیادہ عوام عزیز، کے ایس راؤ مرکزی وزیر

حیدرآباد /14 فروری (سیاست نیوز) مرکزی وزیر ٹیکسٹائل کے ایس راؤ نے کہا کہ پارٹی سے زیادہ ہمیں عوام عزیز ہیں، اب ہم مرکزی وزیر کی بجائے بحیثیت ارکان پارلیمنٹ پوڈیم کے قریب پہنچ کر تلنگانہ بل کو روکنے کے لئے جدوجہد کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ مرکز علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کی پابند نہیں ہے۔ تمام جماعتوں نے ماضی میں تلنگانہ کی تائید کی تھ

حیدرآباد /14 فروری (سیاست نیوز) مرکزی وزیر ٹیکسٹائل کے ایس راؤ نے کہا کہ پارٹی سے زیادہ ہمیں عوام عزیز ہیں، اب ہم مرکزی وزیر کی بجائے بحیثیت ارکان پارلیمنٹ پوڈیم کے قریب پہنچ کر تلنگانہ بل کو روکنے کے لئے جدوجہد کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ مرکز علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کی پابند نہیں ہے۔ تمام جماعتوں نے ماضی میں تلنگانہ کی تائید کی تھی، جس کی وجہ سے کانگریس اور مرکزی حکومت نے علحدہ ریاست کی تشکیل کا فیصلہ کیا تھا، تاہم اب تمام جماعتیں اپنے موقف سے منحرف ہو چکی ہیں، لہذا اپوزیشن اور حلیف جماعتوں کی تائید کے بغیر مرکزی حکومت علحدہ ریاست تشکیل نہیں دے سکتی۔ انھوں نے کہا کہ صرف سیاسی مفاد کے لئے ریاست کو تقسیم نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ہم تقسیم ہونے دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہم ریاست کی تقسیم کے خلاف نہیں ہیں، مگر دونوں علاقوں کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے۔

ہم نے یو پی اے حکومت کے سامنے کئی تجاویز اور مطالبات پیش کئے، تاہم ان کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے تین مطالبات (یعنی حیدرآباد کو دس سال تک مرکز کا زیر انتظام علاقہ قرار دیا جائے، علاقہ رائلسیما کے دو اضلاع کرنول اور اننت پور کو علاقہ تلنگانہ میں شامل کیا جائے اور بھدرا چلم ڈیویژن کو سیما۔ آندھرا کا حصہ بنایا جائے) قبول کرنے کی صورت میں ہی ہم ریاست کی تقسیم قبول کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ تلنگانہ بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ہے یا نہیں؟ اس پر بحث کی جا رہی ہے، جب کہ 17 فروری کو سیما۔ آندھرا کے مرکزی وزراء اسپیکر پوڈیم کے قریب پہنچ کر ارکان کی معطلی منسوخ کرنے کے لئے احتجاج کریں گے۔ انھوں نے لوک سبھا میں پیش آئے واقعہ کو بدبختانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ لگڑا پارٹی راجگوپال وضاحت کرچکے ہیں کہ انھوں نے اپنے بچاؤ کے لئے مرچ پاؤڈر اسپرے کا استعمال کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اسمبلی اور کونسل کی جانب سے مسترد کردہ بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنا غیر دستوری عمل ہے، علاوہ ازیں کابینہ کے اجلاس میں بھی وہ تلنگانہ بل کی مخالفت کرچکے ہیں، جب کہ ریاست کو متحد رکھنے کے معاملے میں وہ کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT