Wednesday , December 13 2017
Home / مضامین / پارٹی سے زیادہ مودی کی انفرادی کامیابی

پارٹی سے زیادہ مودی کی انفرادی کامیابی

غضنفر علی خان

اترپردیش کے انتخابی نتائج پر کوئی تبصرہ کرنے سے پہلے ہر کسی کو یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ اتنی بھاری اکثریت سے بی جے پی کی کامیابی میں وزیراعظم مودی کی شخصیت کا سب سے ز یادہ دخل رہا ۔ عوام نے بی جے پی کو نہیں دیکھا پارٹی کی پالیسیوں کی ستائش میں ووٹ نہیں دیا بلکہ وزیراعظم کی چرب زبانی ان کے ہوائی قلعے جو وہ مہم کے دوران بناتے رہے اوران کی وہ صلاحیت جس کے استعمال سے وہ اپنے ذہن کی فیکٹری میں اپنے خیالات یا پراڈکٹس کی تشہیر کرتے رہے ۔ ان کے سیاسی قد  کو بلند کرتی رہی ۔ دوسری پا رٹیوں کی خاص طور پرکانگریس سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی میں ایسی تشہیری صلاحیت نام کو بھی نظر نہیں آئی ۔ بازارمیں صرف وہی چیز فروخت ہوتی ہے جس کی مانگ ہوتی ہے جسکی اشتہار بازی زیادہ ہوتی ہے ۔ یہی اترپردیش کے اسمبلی انتخابات میں ہوا اور 11 مارچ 2017 ء کو جیسے ہی نتائج سامنے آئے سب کے سب حیرت زدہ ہوگئے ۔ وزیراعظم کو اترپردیش کے عوام نے ووٹ دیاجبکہ اپوزیشن پارٹیوں میں نہ تو انتخابی مہم کے دوران کوئی ایسی پرکشش لیڈر شپ تھی اور نہ پارٹیوںنے ایسی موثر تشہیری مہم چلائی تھی ۔ مہم کے دوران ایسی پرکشش شخصیت کی اپوزیشن میں عدم موجودگی اور بی جے پی کے پاس موجودگی نے انتخابات کی کایا ہی پلٹ دی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ انتخابی مہم کے دوران اپوزیشن میں کوئی طلسماتی لیڈر نہیں تھا تو کوئی تشویش کی بات نہیں۔ ناامیدی اور یاس کا یہ عالم ہے کہ مستقبل قریب میں اپوزیشن میں کوئی موثر شخصیت کے پیدا ہونے کے بھی کوئی آثار نہیں ہیں۔ دور دور تک نظر دوڑائی جائے تو کوئی ایسا لیڈر فی الحال اپوزیشن جماعتوں (جسمیں سب ہی شامل ہیں) میں کوئی قد آور لیڈر نہیں ہے۔ تھوڑا بہت قد سماج وادی پا رٹی کے بانی ملائم سنگھ میں تھا لیکن باپ بیٹے کی لڑائی سے یہ حالت بھی ختم ہوگئی جس کا ثبوت ان انتخابات سے ملتا ہے۔ ملائم سنگھ یادو کبھی باپ کا رول تو کبھی اپنی پار ٹی کے سربراہ کا کردار ادا کیا ۔ وہ شفقت پدری سے مجبور ہوکر اپنے بیٹے اکھلیش یادو کو آئندہ کیلئے چیف منسٹر بنانے کا اعلان کرتے رہے۔ حالانکہ ان ہی ملائم یادو نے لڑائی کے ابتداء  میں اپنے بیٹے سے یہ کہنے لگے کہ آخر تم اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہو، تمہاری حیثیت کیا ہے لیکن بعد میں وہ پگھل گئے اور پوری طرح باپ کا کردار ادا کرتے رہے ۔

نتیجہ یہ نکلا کہ اترپردیش کے عوام نے فرزند اور پدر (باپ) کو ایسی سزا دی کہ اگر اس سے دونوں نے سبق نہیں سیکھا تو ان کی سیاسی زندگی ہی ختم ہوجائے گی۔ بی جے پی میں وزیراعظم مودی کی موجودگی کے علاوہ بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی بھی کارگر ثابت ہوئی ، خاص طور پر پارٹی نے اعلیٰ ذات ، غیر یادو اور بی سی کیلئے جو حکمت عملی بنائی تھی وہ بیحد کامیاب رہی ۔ حد یہ ہے کہ غیر جاٹ اور دلتوں نے بھی ہماری تعداد میں پارٹی کو ووٹ دیا ۔ اتنی بڑی کامیابی کے باوجود اترپردیش میں بی جے پی کو 39.5 فیصد ووٹ ہی ملے جبکہ اوسطاً ریاست میں 61 تا 65 فیصد ووٹ ہی استعمال ہوتے دیکھا جائے تو اب بھی استعمال شدہ ووٹ میں بی جے پی کے ووٹ کا فیصد دوسری جماعتوں سے کم تر رہا کیونکہ سماج وادی پارٹی کانگریس اور بہوجن سماج پارٹی نے استعمال شدہ ووٹوں کا تقریباً 60 فیصد حاصل کیا لیکن یہ ووٹ تینوں میں تقسیم ہوگیا اور 39.4 فیصد ووٹ (بی جے پی) کے ساتھ پارٹی کامیاب رہے ۔ ایک بات ان انتخابات میں قابل غور ہے کیونکہ اترپردیش کے علاوہ مابقی 4 ریاستوں میں جہاں انتخابات ہوئے بی جے پی کا ایسا دبدبہ نہیں دیکھا گیا ۔ منی پور ، اتراکھنڈ اور گوامیں یہ صورتحال نہیں تھی۔ یہاں اس کانگریس پارٹی نے جس سے بی جے پی اور خاص طور پر وزیراعظم ہندوستان کو ’’مکت‘‘ کرانا چاہتے ہیں، بی جے پی کے آگے دم پکڑے رہی۔ گوا میں تو کانگریس سب سے بڑی پارٹی کی حیثیت سے ابھری ۔ حالانکہ یہاں صرف 35.1 فیصد ووٹ ہی پارٹی کوملے جبکہ بی جے پی نے 36.3 فیصد ووٹ لئے۔ سیٹوں پر کامیابی کے لحاظ سے کانگریس پھر بھی آگے رہی ۔ پنجاب میں تو بی جے پی کا اتنا برا حال رہا کہ بی جے پی کے فلسفہ سے متاثر تجزیہ نگار اس ریاست پر تبصرہ کرنے سے بھی گریز کر رہے ہیں ۔ حاصل گفتگو یہ ہے کہ اترپردیش میں نہایت شاندار کامیابی کے باوجود بی جے پی ابھی پورے ہندوستان پر حاوی نہیں ہوئی ہے ۔ اس کا کوئی ذکربی جے پی نہیں کر رہی ہے کہ کیوں ان ریاستوں میں پارٹی اپنی حکومت بنانے کیلئے دستوری مراعات کو بھی نظر انداز کر رہی ہے ۔

دستور کی مراعات نہیں بلکہ دستورکی اصل اسپرٹ یہ ہیکہ انتخابات کے بعد ریاستی گورنر اس پارٹی کو پہلے حکومت بنانے کیلئے مدعو کرتا ہے جس کو اکثریت حاصل ہوئی لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں ہوا ۔ پارٹی نے اقتدار کے حصول کیلئے تمام دستوری مراعات اور ضروریات کو بالائے طاقت رکھ دیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اقتدار ہی سب کچھ ہے اور اس کو حاصل کرنے کے لئے بی جے پی کسی بھی حد تک جاسکتی ہے ۔ یہ تو ابتداء ہے آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ۔ وزیراعظم مودی شمشیر برہنہ لئے کھڑے ہیں اور ملک کی جمہوریت اس کا سیکولرازم دم توڑ رہا ہے ۔ بی جے پی کے لیڈر پارٹی کے ہر غلط طریقہ کی اندھا دھند تائید کر رہے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ آج ملک کی ان جماعتوں نے جو بی جے پی کے نظریات کی تائید نہیں کرتی ہیں کوئی ایسا لیڈر موجود نہیں ہے جو وزیراعظم مودی کو چیلنج کرسکے۔ 1970 ء کے دہے کا ذکر بیجا نہ ہوگا جبکہ کانگریس کی حکومت اور اس وقت کی وزیراعظم آنجہانی اندرا گاندھی نے ایمرجنسی نافذ کردی تھی ۔ وہ ایک طاقتور لیڈر تھیں ۔ عوامی مقبولیت کے نکتہ عروج کو پہنچ چکی تھیں ، ان کے خاندان کا ملک کے عوام پر گہرا اثر تھا لیکن ایمرجنسی کے بعد جو عام انتخابات 1977-78 ء میں ہوئے کانگریس کو نہایت شرمناک شکست ہوئی تھی ۔ اس شکست کے بارے میں اس وقت یہ کہا جاتا تھا کہ اگر کوئی کانگریسی کسی پتھر یا چٹان کے پیچھے بھی چھپا ہوا ہوتا تو پتھر خود چیخ کر کہتا کہ یہاں کانگریسی چھپا ہوا ہے ۔ کانگریس کے خلاف یہ لہر چلانے کیلئے اس وقت اپوزیشن جماعتوں میں آنجہانی جئے پرکاش نارائن جیسی شخصیت تھی جنہوں نے تمام اپوزیشن پارٹیوں کو متحد کر کے جنتا پارٹی بنائی تھی اور ان ہی کی قیادت میں جنتا پارٹی نے تاریخ ساز کامیابی حاصل کی تھی ۔ اب کہاں سے کسی جئے پرکاش نارائن کو ڈھونڈ نکالیں ، کہاں گئے وہ دن جبکہ ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے ’’مرد آہن‘‘ اب کہاں پیدا ہوتے ہیں ۔ اب بھی اگر ایسی کسی کرشماتی شخصیت کا وجود ہمارے زوال پذیر سیاسی پارٹیوں میں پیدا ہوجائے تو وزیراعظم مودی کا جواب ہوسکتا ہے لیکن فی الحال توا یسی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ 2019 ء میں عام چناؤہونے والے ہیں ۔ تب تک کسی طلسماتی لیڈر کے وجود کا شاید ہمیں انتظار ہی کرنا پڑ ے گا ۔ جموں و کشمیر کے سابق چیف منسٹر اور نیشنل کانفرنس کے لیڈر عمر عبداللہ نے صحیح کہا ہے کہ اب ملک کو بی جے پی کی فرقہ پرست سیاست سے محفوظ کرنے کیلئے 2019 ء کے چناؤ کے بعد 2024 ء کے انتخابات تک ہمیں مودی کے موجودہ اثر کو ختم کرنے والے کسی لیڈر کا انتظار کرنا پڑے گا ۔

TOPPOPULARRECENT