Monday , December 11 2017
Home / عرب دنیا / پارٹی قائدین کو راحیل شریف پر تنقید نہ کرنے نواز شریف کی ہدایت

پارٹی قائدین کو راحیل شریف پر تنقید نہ کرنے نواز شریف کی ہدایت

اسلام آباد ۔ 10 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے اپنی پارٹی قائدین کو ملک کے سابق فوجی سربراہ جنرل راحیل کے بارے میں کسی بھی متنازعہ بیان دینے سے باز رکھا ہے جنہیں 41 مسلم ممالک کے فوجی اتحاد کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جس کی قیادت سعودی عرب کررہا ہے۔ یاد رہیکہ سابق فوجی سربراہ کے تقرر پر پاکستانی سیاستدانوں، ریٹائرڈ فوجی افسروں، صحافیوں اور دانشوروں نے یہ کہہ کر زبردست تنقیدیں کی تھیں کہ بیرونی فوجی اتحاد کا سربراہ انہیں بنائے جانے کی کیا وجوہات ہیں۔ وزیراعظم نے محسوس کرلیا کہ خود ان کی پارٹی پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے قائدین جنرل راحیل شریف کی تقرری پر تنقیدیں کررہے ہیں جس کے بعد انہوں نے ہلکی سی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تمام قائدین کو تنقید کرنے سے باز رکھنے کی کوشش شروع کردی ہے۔ ریڈیو پاکستان نے بھی نوازشریف کے بیان کے حوالہ سے یہ بات بتائی۔ نواز شریف نے کہا کہ راحیل شریف کی قابلیتوں سے کون واقف نہیں ہے۔ پورا ملک ان کی گرانقدر خدمات کا معترف ہے۔ یادرہیکہ نواز شریف لب کشائی پر اس وقت مجبور ہوئے جب کچھ روز قبل سندھ گورنر محمد زبیر نے راحیل شریف کو ایک عام جنرل کہتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ انہیں (راحیل) حد سے زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ راحیل شریف کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اراضی الاٹ کی گئی تھی جس کے وہ مستحق تھے تاہم اس پر بھی شوروغل کیا گیا جو مناسب نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنے سے مسائل میں اضافہ ہوگا۔ جیسے دوسرے فوجی جنرلس ہوتے ہیں، راحیل شریف بھی ویسے ہی فوجی جنرل تھے۔ انہیں بہت زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ جنرل راحیل شریف پاکستانی فوج کی قیادت سے گذشتہ سال نومبر میں سبکدوش ہوئے تھے اور وہ بہت جلد 41 مسلم ملکی انسداد دہشت گردی فوجی اتحاد کے سربراہ کا رول ادا کرنے والے ہیں جسے ’’مسلم ناٹو‘‘ سے تعبیر کیا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT