Sunday , August 19 2018
Home / شہر کی خبریں / پارٹی ٹکٹ کیلئے ٹی آر ایس قائدین سرگرم ‘ 30 اسمبلی حلقوں میں آپسی رسہ کشی

پارٹی ٹکٹ کیلئے ٹی آر ایس قائدین سرگرم ‘ 30 اسمبلی حلقوں میں آپسی رسہ کشی

برسر اقتدار پارٹی کیلئے مشکل صورتحال ۔ مرکزی حکومت سے نشستوں کی تعداد میں اضافہ کی بھی کوئی توقع نہیں
حیدرآباد ۔ 20 نومبر ( سیاست نیوز) حکمراں ٹی آر ایس میں پارٹی قائدین کے درمیان ٹکٹ کیلئے دوڑ دھوپ شروع ہوگئی ۔ 30اسمبلی حلقوں میں قائدین کے درمیان رسہ کشی چل رہی ہے اور ہر قائد اپنی اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے میں مصروف ہے جس سے پارٹی میں اختلافات اور گروپ بندیاں تیزی سے ابھر رہی ہیں ۔ علحدہ ریاست میں پہلی حکومت تشکیل دینے والی ٹی آر ایس کیلئے 2019 کے عام انتخابات اصل آزمائشی امتحان ہے ۔ تلنگانہ لہر کا 2014 میں ٹی آر ایس کو فائدہ پہنچا ہے ۔ سربراہ ٹی آر ایس و چیف منسٹر کے سی آر نے تلنگانہ میں ٹی آر ایس کی سیاسی طاقت کو بڑھانے اور اپوزیشن کو کمزور کرنے کیلئے کوئی بھی سیاسی موقع نہیں گنوایا ‘ اپوزیشن جماعتوں کے 26 ارکان اسمبلی کو حکمران ٹی آر ایس میں شامل کرلیا اور یہ اُمید کررہے تھے کہ مرکزی حکومت تلنگانہ میں اسمبلی کی نشستوں میں توسیع کرے گی مگر ابھی تک مرکزی حکومت نے اسمبلی نشستوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کا کوئی مثبت اشارہ نہیں دیا ہے جب بھی پارلیمنٹ میں اس پر سوال پوچھا گیا اس طرح کی کوئی تجویز نہ ہونے کا جواب ملا ہے ۔ دوسری طرف اسمبلی کے سرمائی سیشن سے قبل پارٹی ہیڈ کوارٹر تلنگانہ بھون میں پارٹی کے ارکان اسمبلی ‘ ارکان قانون ساز کونسل کا اجلاس طلب کرتے ہوئے چیف منسٹر کے سی آر نے اعلان کردیا کہ وہ 99فیصد موجودہ ارکان اسمبلی کو ہی پارٹی کا دوبارہ ٹکٹ دیں گے جس کے بعد دوسری جماعتوں سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے ارکان اسمبلی کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں ‘ وہی ان 26 اسمبلی حلقوں میں 2014 کے عام انتخابات میں ٹی آر ایس کے ٹکٹ پر مقابلہ کرنے والے ٹی آر ایس قائدین میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ نتیجہ یہ برآمد ہورہا ہیکہ پارٹی قائدین میں ٹکراؤ شروع ہوگیا ہے ‘ کئی ارکان قانون ساز کونسل اس مرتبہ اسمبلی کیلئے قسمت آزمانے کی کوشش کررہے ہیں اور وہ اسمبلی حلقوں کے ترقیاتی کاموں میں شامل ہورہے ہیں یا ارکان اسمبلی سے ٹکرا رہے ہیں جس سے کئی ایسے اسمبلی حلقے ہیں جہاں حکمراں ٹی آر ایس قائدین کے درمیان جنگ جیسا ماحول پیدا ہوگیا ہے ۔ پارٹی میں ارکان اسمبلی ‘ ارکان قانون ساز کونسل کے درمیان پائی جانے والی ٹکراؤ کی پالیسی کو بھانپ کر چیف منسٹر کے سی آر نے ارکان قانون ساز کونسل کو اسمبلی حلقوں میں مداخلت کرنے کے خلاف انتباہ دیا ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نوبت کہاں تک پہنچ گئی ہے ۔ ابتداء میں دوسری جماعتوں کے قائدین کو بھاری عداد میں ٹی آر ایس میں شامل کرلیا گیا ہے ۔ اب ان کے ساتھ انصاف کے سی آر کیلئے بہت بڑا چیلنج بن گیا ہے ‘ جنہیں کارپوریشن و بورڈ کا صدور نشین بنانا تھا بناچکے ہیں ‘ پارٹی میں ایسے کئی قائدین ہیں جن سے ہنوز انصاف نہیں ہوا ہے ۔ یہ تو دوسری جماعتوں سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے قائدین کی داستان ہیں خود ٹی آر ایس کے حقیقی قائدین میں حق تلفی ہونے کی شکایتیں ہیں ان کا احساس ہیکہ ہم نے تحریک کے دوران پارٹی پرچم تھام کر مضبوطی کے ساتھ کے سی آر اور ٹی آر ایس کے قدم سے قدم ملاکر چلے ہیں جب پارٹی کو اقتدار حاصل ہوا ہے تو انعام و اکرام کے حقدار مخالفین کو بنایا گیا ہے ۔ آج بھی دوسری جماعتوں سے پارٹی قائدین کو ٹی آر ایس میں شامل کرنے کا سلسلہ جاری ہے ‘ ظاہر ہے کوئی بھی قائد ٹھوس تیقن ملے بغیر ٹی آر ایس میں شامل نہیں ہوگا جس سے ٹی آر ایس قائدین اور ان کے حامیوں میں اختلافات شروع ہوچکے ہیں ۔ اسمبلی حلقہ جات اچم پیٹ ‘ کلواکرتی ‘ نارائن پیٹ ‘ نظم آباد ( رورل) ‘ ورنگل ‘ بھوپال پلی ‘ مدھیرا ‘ منگوڈو ‘ دیورکنڈہ ‘ مریال گوڑہ ‘شیرلنگم پلی ‘ راجندر نگر ‘ مہیشورم ‘ ابراہیم پٹنمن ‘ چیوڑلہ ‘ شاد نگر ‘ وقارآباد ‘ کوڑنگل ‘ میڑچل ‘ قطب اللہ پور ‘ کوکٹ پلی ‘ نلگنڈہ میں ٹی آر ایس قائدین میں رسہ کشی چل رہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT