Tuesday , December 19 2017
Home / شہر کی خبریں / پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والے قائدین کیخلاف کارروائی کا انتباہ

پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والے قائدین کیخلاف کارروائی کا انتباہ

تلگودیشم کے قائدین کی کانگریس میں شمولیت کی تردید،صدر تلگودیشم تلنگانہ ایل رمنا کا ادعا
حیدرآباد ۔ 21 اکٹوبر (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ تلگودیشم پارٹی ایل رمنا نے پارٹی ڈسپلن شکنی کے مرتکب ہونے والے قائدین کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا انتباہ دیا۔ تلگودیشم قائدین کی بڑی اکثریت کانگریس میں شامل ہونے کی تردید کی ہے۔ آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات بتائی۔ اس موقع پر پارٹی کے سینئر قائدین ایم نرسمہلو اور پدی ریڈی بھی موجود تھے۔ ایل رمنا نے کہا کہ تلگودیشم ایک اصول پسند جماعت ہے۔ اقتدار اور اپوزیشن مستقل نہیں ہوتے۔ عوام نے جب تلگودیشم پر اعتماد کا اظہار کیا تو این ٹی آر اور چندرا بابو نائیڈو نے عوام سے جو بھی وعدے کئے اس کو پورا کئے، اپوزیشن میں بٹھایا تو بھی عوامی مسائل کو حل کرانے میں تعمیری رول ادا کیا گیا۔ ریونت ریڈی کی دہلی میں راہول گاندھی سے ملاقات کرنے اور تلگودیشم سے کانگریس میں شامل ہونے والے قائدین کی فہرست کانگریس کے حوالے کرنے کی افواہیں گشت کررہی ہے۔ ریونت ریڈی کی جانب سے اس کی تردید نہ کرنے کی وجہ سے پارٹی حلقوں میں غیریقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ ریونت ریڈی کے بشمول تلگودیشم قائدین کے کانگریس میں شامل ہونے کی قیاس آرائیوں سے عوام میں غلط پیغام پہنچ رہا ہے اور میڈیا بھی اس کی کافی تشہیر کررہی ہے۔ ایل رمنا نے کہا کہ 2019ء میں کس جماعت سے سیاسی اتحاد کیا جائے یا تنہا مقابلہ کیا جائے اس پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ سربراہ تلگودیشم چندرا بابو نائیڈو کا فیصلہ قطعی ہوگا۔ سیاسی اتحاد کے بارے میں شخصی طور پر بات کرنے کا پارٹی میں کسی کو اختیار نہیں ہے اور اس پر بیان بازی کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہے۔ پارٹی ڈسپلن شکنی میں ملوث ہونے والے قائدین چاہے وہ کتنے بھی بڑے عہدے پر فائز ہوں ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ایل رمنا نے کہاکہ 8 اکٹوبر کو سربراہ تلگودیشم چندرا بابو نائیڈو کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں جو فیصلہ ہوا ہے پارٹی کے تمام قائدین اس پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلگودیشم کے اصول اور نظریات سے اتفاق کرنے والی جماعتوں سے اتحاد کرنے کا چندرا بابو نائیڈو فیصلہ کریں گے۔ تلگودیشم پولیٹ بیورو کے رکن ایم نرسمہلو نے کہا کہ کانگریس کے خلاف تلگودیشم پارٹی کا وجود عمل میں آیا ہے۔ ماضی میں کبھی کانگریس سے اتحاد کرنے پر غور نہیں کیا گیا اور مستقبل میں بھی اس طرح کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ پدی ریڈی نے تلگودشیم سے مستعفی ہوکر کانگریس میں شامل ہونے والی افواہوں کی تردید کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT