Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / پارٹی کو توڑدو ورنہ جیل جانے تیار ہوجائو! سماج وادی پارٹی کو بی جے پی کی دھمکی؟

پارٹی کو توڑدو ورنہ جیل جانے تیار ہوجائو! سماج وادی پارٹی کو بی جے پی کی دھمکی؟

مسلم ووٹ کٹوانا بہار کی طرح یو پی میں بھی ناکام ہوسکتا ہے، اندرونی سروے کے بعد بی جے پی کا نئے حربہ پر انحصار
لکھنؤ۔24اکٹوبر(سیاست نیوز) ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش پر اقتدار حاصل کرنے کیلئے جاری بھارتیہ جنتا پارٹی کی سازشوں میں شدت پیدا ہوچکی ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی بہر صورت اترپردیش میں اپنے اقتدار کیلئے ہر حربہ اختیار کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ 2014عام انتخابات کے نتائج نے ملک میں بی جے پی کو اقتدار دیا لیکن بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج نے ملک میں سیکولر اتحاد کی تشکیل کی سمت نئی راہ دکھائی تھی جس سے بی جے پی کو نقصان ہو ا اور اس نقصان کے بعد بی جے پی نے اترپردیش میں صورتحال کو مزید پیچیدہ کرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔ بہار میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے حصول اقتدار کے لئے بہار کے عوام کیلئے غیر معروف مسلم سیاسی قائدین کو نہ صرف شہرت فراہم کی بلکہ انہیں ووٹ کی تقسیم کے لئے بہتر انداز میں استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن سیکولر سیاسی جماعتوں نے اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے جو عظیم اتحاد تشکیل دیا اس نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے خواب چکنا چور کردیئے لیکن بی جے پی نے اس عظیم اتحادکی اہم فریق سماج وادی پارٹی کو اتحاد سے دستبرداری کے لئے مجبور کرنے میں کامیابی حاصل کرلی اور اس کے لئے سی بی آئی کا سہارا لئے جانے کی اطلاعات منظر عام پر آئی تھی۔ ان کوششوں سے بھی بہار انتخابات میں بی جے پی کو کوئی فائدہ تو حاصل نہیں ہوا بلکہ بی جے پی کی ان کوششوں کے دوران مسلم سیاستدانوں کو ’ووٹ کٹوا‘ کے لقب سے نوازا گیا اور چند ایک چہرے کھل کر سامنے آگئے۔ اب وہی کھیل بھارتیہ جنتا پارٹی اترپردیش میں کھیل رہی ہے اور مسلم سیاستدانوں کے کندھے کا استعمال کرتے ہوئے دلتوں کو ہندو بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اب تک کی گئی ان کوششوں میں ناکامی کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے سماج وادی پارٹی میں پھوٹ ڈالنے کیلئے دوبارہ سی بی آئی کا استعمال شروع کردیا ہے تاکہ’صاحب‘ کی گھٹتی مقبولیت کو بچایا جا سکے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ریاست اتر پردیش میں ’ووٹ کٹوا‘ کے استعمال کی بھرپور کوشش کی گئی لیکن ریاست میں جہاں مسلم اداروں و تنظیموں کا خاصا اثر موجود ہے ان پر ووٹ کٹوا کے اثر انداز ہونے میں ناکامی کو دیکھتے ہوئے بی جے پی نے مختلف موضوعات کو چھیڑنا شروع کردیا لیکن ان موضوعات کو چھیڑے جانے کے بعد بھی جب اتر پردیش میں رائے دہندوں کو مذہبی خطوط پر منقسم کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی نظر نہیں آرہی ہے اور دلت۔مسلم اتحاد میں استحکام پیدا ہورہا ہے تو ایسی صورت میں سی بی آئی کے مقدمات کا سہارا لیتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی سربراہ نے سماج وافی پارٹی میں موجود رام گوپال یادو کو دھمکاتے ہوئے سی بی آئی سے خوفزدہ کردیا اور انہیں پارٹی میں رخنہ ڈالنے کے لئے استعمال کیا جانے لگا ہے۔اترپردیش ریاست میں 404اسمبلی نشستوں پر آئندہ برس کے اوائل میں انتخابات منعقد ہونے ہیں اور ان انتخابات میں کامیابی کیلئے بی جے پی کی جانب سے ہر طرح کی سازش کی جا رہی ہے ۔ سی بی آئی کو سیاسی مقصد براری کیلئے استعمال کیا جانا کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن اترپردیش میں سماج وادی پارٹی کی کٹر حریف بہوجن سماج پارٹی کو بھی سی بی آئی تحقیقات کا سامنا ہے اور دونوں سیاسی جماعتوں میں عظیم اتحاد کے امکانات موہوم ہیں لیکن سابق میں کانشی رام نے سماج وادی پارٹی سے اتحاد کرتے ہوئے فرقہ پرست طاقتوں کواترپردیش کے اقتدار سے دور رکھنے کیلئے نعرہ دیا تھا کہ ’ ملے ملائم کانشی رام ‘ہوا میں اڑ گئے جئے شری رام‘  اس نعرے کے ذریعہ دونوں سیاسی جماعتوں نے بی جے پی کو اقتدار سے دور کرنے کی کامیاب حکمت عملی اختیار کی تھی لیکن اب دونوں سیاسی جماعتوں کے قائدین کو حراست‘ تہاڑ اور سی بی آئی سے خوفزدہ کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی سیکولر ووٹ کو منقسم اور ہندو۔مسلم ووٹ کو مذہبی بنیادوں پر متحد کرنے کی کوشش میں مصروف ہوچکی ہے۔ اترپردیش اسمبلی میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے بی جے پی کی کوششوں کا مقصد دراصل راجیہ سبھا میں اپنی عددی طاقت میں اضافہ کرنا ہے کیونکہ بھاری اکثریت کے ساتھ ملک میں اقتدار حاصل کرنے کے باوجود حکومت راجیہ سبھا میں اکثریت نہ ہونے کے سبب اپاہج ہے اور وہ اپنے بلوں و قوانین کی منظوری کیلئے اپوزیشن کی بیساکھی کی محتاج ہے۔ اس صورتحال سے باہر نکلنے کیلئے کی جانے والی بی جے پی کی کوششوں کا مقصد واضح ہے لیکن ان کوششوں میں مددکرنے والوں کو بھی اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کن مقاصد کی تکمیل کیلئے راجے سبھا میں اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اتر پردیش میں اقتدار کے حصول کے ذریعہ بھارتیہ جنتا پارٹی ملک کو زعفرانی بنانے کے اپنے کبھی نہ پورے ہونے والے خواب کو پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ شریعت میں مداخلت کی کوشش بھی اترپردیش میں اقتدار حاصل کرنے کی سازش کا ہی حصہ ہے اور اس سلسلہ میں چند زرخریدوں سے مشاورت کے بعد ہی یہ شوشہ چھوڑا گیا ہے تاکہ رائے دہندوں کو مذہبی خطوط پر منقسم کیا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT