Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / پارٹی کے چھ سابق و موجودہ ایم پیز سے صدر بی جے پی کا ربط

پارٹی کے چھ سابق و موجودہ ایم پیز سے صدر بی جے پی کا ربط

!کانگریس مکت بھارت یا اپوزیشن مکت بھارت ؟ ۔ اب ٹی آر ایس ارکان پارلیمنٹ کی باری
پارٹی کے چھ سابق و موجودہ ایم پیز سے صدر بی جے پی کا ربط
عام انتخابات سے قبل پارٹی کو بحران کا شکار اور چندر شیکھر راؤ کو کمزور کرنے کی کوششوں کا عملا آغاز
حیدرآباد 8 اگسٹ (سیاست نیوز) گذشتہ انتخابات میں کامیابی کے بعد ملک کو کانگریس سے پاک کرنے کا نعرہ دینے والی بی جے پی ایسا لگتا ہے کہ اب اس نعرہ اور اس پر عمل کو وسعت دیتے ہوئے اپوزیشن سے پاک ہندوستان کے قیام اور ایک جماعتی تسلط کو یقینی بنانے کے منصوبوں پر عمل پیرا ہوگئی ہے ۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بی جے پی نے کئی ریاستوں میں مخالف جماعتوں میں انحراف کرواتے ہوئے فائدہ اٹھانے کے بعد اب تلنگانہ میں ٹی آر ایس کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس کے مطابق عملی کوششیں بھی شروع ہوچکی ہیں۔ تفصیلات کے بموجب ریاستی عوام کے حق میں چیف منسٹر کا موقف کیا بی جے پی قیادت کو کھٹکنے لگا ہے؟ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندرا شیکھر راؤ کے حالیہ فیصلے اور ریاست کے حق میں عدالت سے رجوع ہونے کا فیصلہ ٹی آر ایس کیلئے مہنگا ثابت ہوگا چونکہ طاقت اور دولت کے دم پر مخالفین کو لالچ اور عہدوں کی پیشکش کے ذریعہ راغب کرنے کی بی جے پی کی پالیسی تلنگانہ میں بھی شروع ہوگئی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق تلنگانہ کے سابق اور موجودہ 6 ارکان پارلیمنٹ سے بی جے پی کے صدر نے رابطہ قائم کرلیا ہے۔ سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کی مرضی و منشاء کو ترجیح دینے والی قیادت کی بجائے عوامی مفادات کو اہمیت دینے والے چندرشیکھر راؤ اب بی جے پی کو کھٹک رہے ہیں۔ این ڈی اے کا حصہ نہ ہونے کے باوجود مرکز کی کئی پالیسیوں پر رضامند ظاہر کرنے والے کے سی آر شائد اب بی جے پی کے مخالفین کی فہرست میں آگئے ہیں۔ سیاسی میدان میں عوامی محاذ پر چندراشیکھر راؤ کو شکست سے دوچار کرنا موجودہ حالت میں بی جے پی کے بس کی بات نہیں تو اب ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی نے بہار و دیگر ریاستوں کی اساس پر ٹی آر ایس کی طاقت کو توڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب جبکہ عام انتخابات کیلئے دیڑھ سال کا عرصہ باقی ہے، بی جے پی نے ابھی سے تلنگانہ میں سیاسی داؤ پیچ کا آغاز کردیا ہے۔ ان 6 ارکان سے جن کی ملاقات دہلی میں بی جے پی صدر امیت شاہ سے ہوئی تھی، انھیں آئندہ چناؤ میں ٹکٹ کی طمانیت دے دی گئی اور خفیہ مشن پر کام کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ دنوں جی ایس ٹی کے متعلق چیف منسٹر تلنگانہ کے چندرا شیکھر راؤ کا بیان اور اس کے خلاف عدالت سے رجوع ہونے کا فیصلہ اور 12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے ان کی کوشش اور ضرورت پڑنے عدالت تک پہونچنے کی بات بی جے پی اعلیٰ قیادت کے لئے ناپسندیدہ عمل بن گئی ہے ۔ جیسا کہ اعلیٰ صنعت کاروں کو فائدہ پہونچانے بیرونی دوروں کے الزامات کا وزیراعظم سامنے کررہے ہیں، اسی طرح ایسے الزامات بھی بی جے پی پر پائے جاتے ہیں کہ وہ طاقت اور دولت کے دم پر مخالفین کا صفایہ کرنا چاہتی ہے اور بی جے پی کو اس بات کا بھی انداز ہے کہ سیاسی طور پر انتخابی میدان میں کے سی آر کو شکست دینا مشکل ہے۔ کے سی آر کی سیاسی دور اندیشی اور شاطرانہ سیاسی داؤ پیچ اور چناؤ مہارت تلنگانہ میں بی جے پی کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ ہے لہذا اب ٹی آر ایس کو داخلی طور پر توڑنے اس پارٹی کو الجھاکر کے سی آر کو کمزور کرنے کی کوشش جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیکولرازم اور عوامی مفادات کے حق میں آواز بلند کرنے اور جدوجہد کرنے والا ہر سیاسی قائد بی جے پی مخالفین کی فہرست میں پایا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹی آر ایس میں بھی اب ایسی سازشوں کو ناکام بنانے کی کوششوں کا آغاز ہوچکا ہے۔

TOPPOPULARRECENT