پاسوان کی بہار میں اتحاد کیلئے سونیا سے ملاقات

نئی دہلی 29 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) اُن کی پارٹی اور راشٹریہ جنتادل کے درمیان کشیدگی کے اشاروں کے دوران ایل جے پی کے صدر رام ولاس پاسوان نے آج صدر کانگریس سونیا گاندھی سے ملاقات کی تاکہ اُن پر زور ڈالا جاسکے کہ وہ بہار میں اتحاد کو قطعیت دینے کیلئے نمایاں کردار ادا کریں۔ اُنھوں نے کہاکہ حلیف پارٹیوں کے درمیان نشستوں کی تقسیم شفاف اندا

نئی دہلی 29 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) اُن کی پارٹی اور راشٹریہ جنتادل کے درمیان کشیدگی کے اشاروں کے دوران ایل جے پی کے صدر رام ولاس پاسوان نے آج صدر کانگریس سونیا گاندھی سے ملاقات کی تاکہ اُن پر زور ڈالا جاسکے کہ وہ بہار میں اتحاد کو قطعیت دینے کیلئے نمایاں کردار ادا کریں۔ اُنھوں نے کہاکہ حلیف پارٹیوں کے درمیان نشستوں کی تقسیم شفاف انداز میں ہونی چاہئے۔ ایل جے پی کے ذرائع کے بموجب پارٹی آر جے ڈی کے صدر لالو پرساد یادو سے نشستوں کی تقسیم کے سلسلہ میں بات چیت نہیں کرے گی۔ اِس سے دونوں پارٹیوں کے درمیان کشیدگی کا اشارہ ملتا ہے۔ اپنے فرزند پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کے صدرنشین چراغ پاسوان کے ساتھ رام ولاس پاسوان نے سونیا گاندھی کو خبردار کیاکہ آر جے ڈی کے ساتھ کوئی بھی اتحاد کرپشن کے مسئلہ پر پارٹی کو نقصان پہونچائے گا۔ اُنھوں نے اِس بات کو یقینی بنانے کی سونیا گاندھی سے خواہش کی کہ بی جے پی کو مستحقہ تعداد میں نشستیں حاصل ہوتی ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ 10 سے کم نشستوں پر مقابلہ نہیں کریں گے۔ ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں اُنھوں نے کہاکہ بہار میں اتحاد کے مسئللہ کے بارے میں شفافیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ دریں اثناء چراغ پاسوان نے کہاکہ کانگریس کے ساتھ اتحاد قطعی ہے۔ دیگر پارٹیوں کی شمولیت کے بارے میں بعدازاں فیصلہ کیا جائے گا۔

باغی بی جے پی ارکان کا ’’نمو منچ‘‘تحلیل
سی پی آئی (ایم) میں شرکت
کنور (کیرالا) 29 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سیاسی دھماکو صورتحال کے ضلع کنور میں اُس وقت ہلچل مچ گئی جبکہ بی جے پی کے باغی ارکان اور اُن کے حامیوں نے ’’نمو منچ‘‘ تحلیل کرتے ہوئے سی پی آئی (ایم) میں شمولیت اختیار کرلی۔ اِن ارکان نے چند ہفتہ قبل پارٹی کی ریاستی قیادت سے اختلافات کے بعد یہ منچ قائم کیا تھا۔ کہنہ مشق قائد وی ایس اچھوتانندن کے بنیادی نظریات کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے اِن ارکان نے پارٹی سے ترک تعلق کرکے ہندوتوا نظریہ کو اپنالیا تھا۔ سی پی آئی (ایم) کے ریاستی سکریٹری پینا رائی وجین نے اِن افراد کی واپسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کل شام ایک جلسہ عام میں اُنھیں سرخ ہار پہنائے۔ وجین نے کہاکہ یہ تبدیلی ریاستی سیاست میں بنیادی تبدیلی کا اشارہ ہے۔ اُنھوں نے توقع ظاہر کی کہ ہندوتوا نظریات ترک کرکے مزید افراد بائیں بازو میں شامل ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT