Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / پاسپورٹ کیلئے آدھارکافی ، صداقتنامہ پیدائش کا لزوم برخاست

پاسپورٹ کیلئے آدھارکافی ، صداقتنامہ پیدائش کا لزوم برخاست

مطلقہ ، علحدہ شدہ اور درخواست گذاروں کیلئے میریج سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں، ضعیفوں اور بچوں کو 10 فیصد رعایت
نئی دہلی ۔23جولائی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستانی شہریوں کو اپنا پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اب صداقتنامہ پیدائش پیش کرنا ضروری نہیں ہوگا ۔ حکومت نے پاسپورٹ کے حصول کو آسان بنانے کیلئے عمل جاری رکھتے ہوئے اس ہفتہ پارلیمنٹ کو مطلع کیا کہ تاریخ پیدائش کے ثبوت کے لئے آدھار ، پیان کارڈ اور ایسی ہی مختلف دستاویزات پیش کی جاسکتی ہیں۔ 1980 ء پاسپورٹ قواعد کے مطابق 26 جنوری 1989 ء یا اس کے بعد پیدا ہونے والے درخواست گذاروں کیلئے صداقتنامہ پیدائش کا لزوم ہے لیکن اب وہ اسکول کا ٹرانسفر سرٹیفکیٹ (ٹی سی ) ایس ایس سی کا صداقتنامہ ، پیان کارڈ، آدھار کارڈ ، ڈرائیونگ لائیسنس ، ووٹر شناختی کارڈ اور حتی کہ لائف انشورنس کارپوریشن ( ایل آئی سی ) پالیسی بانڈس بھی پیش کرسکتے ہیں۔ سرکاری ملازمین اپنے سرویس ریکارڈ ؍ پنشن ریکارڈ وغیرہ بھی پیش کرسکتے ہیں۔ مملکتی وزیر خارجہ وی کے سنگھ نے پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب میں کہاکہ لاکھوں افراد کیلئے پاسپورٹ کی دستیابی کو سہل بنانے کیلئے یہ قدم اُٹھایا گیا ہے ۔ جدید پاسپورٹس پر انگریزی اور ہندی میں تفصیلات طبع کی جائیں گی ۔ 60 سال سے زائد اور 8 سال سے کم عمر درخواست گذاروں کو پاسپورٹ فیس میں 10فیصد رعایت دی جائے گی ۔ آن لائن درخواست گذاروں کو صرف ایک سرپرست ، والد یا والدہ کا نام دینا بھی کافی ہوگا۔ صرف ماں یا باپ کی کفالت میں پرورش پانے والے خاندانوں کی مدد کے طورپر سہولت دی گئی ہے ۔ پاسپورٹ شرائط کے جدول کو 15 سے گھٹاکر 9 کردیا گیا ہے اور انھیں ازخود تصدیق کے ساتھ صرف سادہ کاغذ پر درج کرنا کافی ہوگا ۔ اس پر کسی حلفنامہ ، نوٹری ؍ ایکزیکٹیو مجسٹریٹ کی تصدیق کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ شادی شدہ درخواست گذاروں کو میریج سرٹیفکیٹ اور مطلقہ یا علحدہ ہوجانے کی صورت میں شریک حیات ( شوہر ؍ بیوی ) کا نام درج کرنے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی ۔

TOPPOPULARRECENT