Monday , June 25 2018
Home / Top Stories / پانچویں مرحلے کی پولنگ پُرامن، عوام کا جوش و خروش

پانچویں مرحلے کی پولنگ پُرامن، عوام کا جوش و خروش

نئی دہلی۔ 17 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا انتخابات کے اب تک کے سب سے بڑے مرحلے میں تقریباً 116 ملین رائے دہندگان نے 12 ریاستوں سے 121 ارکان پارلیمنٹ کا انتخاب کیا ہے، ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینس میں بند ہے۔ رائے دہی کا یہ اہم ترین مرحلہ بحیثیت مجموعی پرامن رہا تاہم تشدد اور گڑبڑ کے چند واقعات پیش آئے۔ الیکشن کمیشن

نئی دہلی۔ 17 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا انتخابات کے اب تک کے سب سے بڑے مرحلے میں تقریباً 116 ملین رائے دہندگان نے 12 ریاستوں سے 121 ارکان پارلیمنٹ کا انتخاب کیا ہے، ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینس میں بند ہے۔ رائے دہی کا یہ اہم ترین مرحلہ بحیثیت مجموعی پرامن رہا تاہم تشدد اور گڑبڑ کے چند واقعات پیش آئے۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ جملہ 1,767 امیدوار انتخابی میدان میں تھے۔ ڈپٹی الیکشن کمشنر ونود زیوتشی نے بتایا کہ رائے دہی مجموعی طور پر پرامن رہی اور پولنگ کا فیصد بھی مغربی بنگال میں 80 سے لے کر مدھیہ پردیش میں 54 تک رہا۔ آج انتخابی مرحلہ مکمل ہونے کے بعد عوام کی ایک بڑی تعداد نے حق رائے دہی سے استفادہ کرلیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ خاتون رائے دہندگان کی طویل قطاریں دیکھی گئیں جوکہ ایک مثبت پہلو ہے۔ ماؤسٹ گوریلا نے جھارکھنڈ میں بارودی سرنگ دھماکہ کیا۔ یہ کارروائی گریدھی پارلیمانی حلقہ کے بوکارو میں کی گئی جس میں 4 پیراملٹری جوان زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ ماؤسٹوں نے نے اسکول بلڈنگ اور ریلوے ٹریک کو بھی دھماکہ سے اُڑا دیا۔

بہار اور مغربی بنگال کے بعض حصوں میں رائے دہندوں کو دھمکانے کے الزامات پر الیکشن کمیشن نے بہار میں 9 پولنگ اسٹیشنس پر مکرر رائے دہی کا حکم دیا۔ آج دن بھر 225,387 پولنگ سنٹرس پر عوام کی طویل قطاریں دیکھی گئیں جن میں تمام عمر کے مرد و خواتین شامل ہیں اور جو حق رائے دہی سے استفادہ کیلئے منتظر تھے۔ کئی ریاستوں میں 2009ء کے مقابلے زیادہ رائے دہی ریکارڈ کی گئی۔ آج 12 ریاستوں میں جموں و کشمیر سے لے کر کرناٹک، مہاراشٹرا اور مغربی بنگال تک کا احاطہ کیا گیا۔ کرناٹک کے 28 لوک سبھا حلقوں، راجستھان میں 20، مہاراشٹرا میں 19، اڈیشہ اور اُترپردیش میں فی کس 11، مدھیہ پردیش میں 10، بہار میں 7، جھارکھنڈ میں 6، مغربی بنگال میں 4، چھتیس گڑھ میں 3 اور منی پور و جموں و کشمیر میں ایک ایک لوک سبھا نشست کیلئے رائے دہی ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ اڈیشہ میں 147 اسمبلی نشستوں کے منجملہ 77 پر اور مغربی بنگال میں 2 اسمبلی نشستوں پر ضمنی انتخابات بھی ہوئے۔ آج کی رائے دہی کے ساتھ لوک سبھا کی 543 کی منجملہ 232 نشستوں کا احاطہ کرلیا گیا ہے۔ رائے دہی کے مزید چار مراحل باقی ہیں اور اسے 12 مئی تک مکمل کیا جائے گا۔ نتائج کا 16 مئی کو اعلان کیا جائے گا۔ آج جن امیدواروں کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ مہربند ہوگیا ہے ،

ان میں اننت کمار اور نندن نیلاکنی (بنگلور ساؤتھ) ، جسونت سنگھ (بارمیر) ، سچن پائیلٹ (اجمیر) ، اشوک چوان (ناندیڑ) ، میسا بھارتی (پاٹلی پتر) ، سپریہ سولے (بارہ متی)، بی ایس یدی یورپا (شموگہ) ، غلام نبی آزاد (ادھم پور) ، منیکا گاندھی (پیلی بھیت)، شتروگھن سنہا (پٹنہ صاحب) ، ویرپا موئیلی (چک بالا پور)، سشیل کمار شنڈے (شولا پور) اور بائچنگ بھوٹیا (دارجلنگ ) شامل ہیں۔ بہار میں چیف منسٹر نتیش کمار نے پٹنہ صاحب پارلیمانی حلقہ کے تحت بختیار پور میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا ۔ آج جن 121 حلقوں میں رائے دہی ہوئی وہاں تقریبا تمام حلقوں میں رائے دہندوں کی طویل قطاریں صبح سے دیکھی گئیں اور عوام نے چلچلاتی دھوپ اور گرمی کے باوجود جو ش و خروش کے ساتھ اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔ بعض بوتھس پر مشین خراب رہنے کی اطلاع تھی جنہیں بعد میں درست کردیا گیا ۔ علاوہ ازیں پونے میں آج صبح کچھ دیر کیلئے پولنگ روکنی پڑی کیونکہ ایک بوتھ پر مشین میں خرابی تھی اور کسی بھی امیدوار کے حق میں بٹن دبانے پر ووٹ صرف کانگریس کے حق میں جا رہا تھا ۔ چوکس رائے دہندوں نے فوری انتخابی عملہ کو مطلع کیا جس کے بعد یہاں ووٹنگ مشین کو بدل دیا گیا اور رائے دہی کا عمل شروع ہوگیا ۔

TOPPOPULARRECENT