Tuesday , December 12 2017
Home / سیاسیات / پانچ اقلیتی یونیورسٹیز کے قیام کا جائزہ لینے پیانل

پانچ اقلیتی یونیورسٹیز کے قیام کا جائزہ لینے پیانل

مدارس کو گرانٹ اِن ایڈ اسکیم کے سلسلے میں بھی مرکز کی جانب سے علیحدہ کمیٹی کی تشکیل

نئی دہلی۔ 8 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) مرکز نے اقلیتوں کیلئے پانچ یونیورسٹیوں کے قیام کے طریقہ کار کا جائزہ لینے اور ایسے مدارس کو جہاں سرکاری تعلیم کا بھی انتظام ہو، امداد کی پیشکش کے مقصد سے دو پیانلس تشکیل دیئے ہیں۔ مرکز کے اس اقدام کو پانچ ریاستوں بشمول اترپردیش جہاں مسلمانوں کی خاطر خواہ آبادی ہے، انتخابات کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ یونیورسٹیز پر 10 رکنی کمیٹی گزشتہ ماہ اواخر میں قائم کی گئی اور توقع ہے کہ وہ آئندہ دو ماہ میں مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو رپورٹ پیش کردے گی۔ یہ فاؤنڈیشن وزارت اقلیتی امور کے تحت ہے۔ سابق سیکریٹری حکومت ہند افضل امان اللہ اس کمیٹی کے کنوینر ہیں۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی وائس چانسلر لیفٹننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ ، جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد، سابق کالی کٹ یونیورسٹی وائس چانسلر پدم شری اقبال حسین اور سابق رکن پارلیمنٹ شاہد صدیقی کے علاوہ دیگر ارکان میں شامل ہیں۔ مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے سیکریٹری ڈی مدھوکر نائیک اس پیانل کے ممبر سیکریٹری ہیں۔ حکومت نے اقلیتوں کو تعلیمی سطح پر بااختیار بنانے کے لئے یونیورسٹیز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان نئی یونیورسٹیز میں عالمی معیار کی تعلیم کا انتظام رہے گا جہاں میڈیکل، اِسکل ڈیولپمنٹس اور دیگر شعبوں میں تعلیم فراہم کی جائے گی۔ یہ کمیٹی توقع ہے کہ فاؤنڈیشن کو یونیورسٹی کے قیام کے طریقہ کار کے بارے میں رہنمایانہ خطوط واضح کرے گی۔ سمجھا جاتا ہے کہ یہ پیانل ، حکومت کو ان مقامات کی نشاندہی میں مدد کرے گا جہاں یہ یونیورسٹیز قائم کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ان یونیورسٹیز کو اقلیتی موقف کے بارے میں غوروخوض کیا جائے گا۔ حکومت ان یونیورسٹیز کیلئے وسیع و عریض اراضی کی تلاش میں ہے اور فی یونیورسٹی تقریباً 100 اراضی کی ضرورت ظاہر کی جارہی ہے جہاں آیورویدک، یونانی طبی تعلیم، اسکل ڈیولپمنٹ کے ساتھ ساتھ ریسیڈنشیل اسکولس بھی قائم کئے جائیں گے۔ حکومت ہریانہ اور راجستھان نے پہلے ہی دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے بعض جائیدادوں کی نشاندہی کی جہاں یہ یونیورسٹیز قائم کی جاسکتی ہیں۔ ایک اور پیانل مدارس کو گرانٹ ان ایڈ اسکیم کا جائزہ لے گا۔ یہ پیانل بھی 7 ارکان پر مشتمل ہے ۔ سید بابر اشرف ، مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے رکن پیانل کے کنوینر ہیں ۔ یہ کمیٹی بھی توقع ہے کہ ایسے مدارس جہاں طلبہ کو عصری تعلیم بھی دی جاتی ہے، گرانٹ ان ایڈ کی پیشکش کے سلسلے میں اسکیم تیار کرنے کے تعلق سے رپورٹ پیش کرے گی ۔واضح رہے کہ اترپردیش کے علاوہ پنجاب ، اتراکھنڈ ، گوا اور منی پور میں فروری و مارچ کے درمیان اسمبلی انتخابات منعقد شدنی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT