Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / پانچ روپئے میں کھانے کی اسکیم کے لیے موضوع محل وقوع ضروری

پانچ روپئے میں کھانے کی اسکیم کے لیے موضوع محل وقوع ضروری

کچرے کے ڈھیر ، ابلتی موریوں کے قریب کھانے کے کاونٹرس سے عوام کو مشکلات
حیدرآباد۔19اپریل(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ عوام کے لئے فلاحی اور سماجی اسکیمات شروع کرکے عوام سے ستائشی ردعمل حاصل کررہی ہے مگر دوسری جانب اس کی بہتر دیکھ بھال ونگہداشت نا ہونے کے باعث عوام میںکسی قدر ناراضگی بھی پیدا ہوتی جارہی ہے ۔ اسکیمات کو کامیاب بنانے کے لئے اِ س پر بروقت عمل آواری بھی ضروری ہے ۔ تلنگانہ حکومت کہ متعدد اسکیمات شہر حیدرآباد میں شروع کی گئی ہیںجن میں سے ایک اسکیم محکمہ عظیم تر بلدیہ گریٹر حیدرآباد کی نگرانی میں شروع کی گئی ہے جو پانچ روپئے میں دوپہر کے کھانے سے مشہور ہے لیکن جہاں پر اس اسکیم کے تحت کاونٹر یا ڈبے نصب کئے گئے ہیں ان مقامات کا محل وقوع ٹھیک نا ہونے کے سبب عوام کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس کی وجہہ سے حکومت تلنگانہ کی اس مشہور اسکیم پانچ روپئے میںدوپہر کا کھانہ بری طرح متاثر ہونے کے خدشات لاحق ہوگئے ہیں۔مہدی پٹنم رعیتو بازار کے قرب میںقائم کردہ محکمہ عظیم تر بلدیہ کا پابچ روپئے میںدوپہر کا کھانہ اسکیم کا یہ کاونٹر سے تین فٹ کے فاصلہ پر تقریباً دولاری یعنی چوبیس ٹن کوڑا کرکٹ کا ڈھیر جمع ہے جس کے اطراف میں کھڑے ہوکر چلچلاتی دھوپ میں لوگ دوپہر کا کھانہ کھانے کے لئے مجبور ہیں۔اس کچرے کے ڈھیر سے اٹھنے والی تعفن اس قدر پھیل ہوئی ہے کہ بدبو سے ناک کے کیڑے مررہے ہیںتود وسری طرف محکمہ عظیم تر بلدیہ عوام کو رعایتی قیمت پر کھانہ فراہم کررہی ہے تواس کھانے کے سنٹر کے دوبدو سے کچرے کے نکاسی میں لاپرواہی برتی جارہی ہے ۔ مہدی پٹنم کے رعایتی قیمت پر ملنے والے لنچ سنٹر سے استفادہ اٹھانے والے غرباء کے مطابق حکومت ایک طرف کھانے کھلاکر غریبوں پر احسان کررہی ہے تودوسری جانب کچرے سے نکالنے والی تعفن سے غذا متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور عوام پر کھانے کامضبط اثر پڑھنے کے بجائے منفی اثر ات پڑرہے ۔ گرمی کی شدت ‘ دھوپ کی تمازت شہریوں کے لئے وبال جان بنی ہوئی ہے تو ایسے وقت لوگوں کو دوپہر کا کھانہ اسکیم کے لئے شیڈ بھی میسر نہیںہے ۔غرباء میںاسبات کا بھی خدشہ ہے کہ کہیں اس طرح کے مقام پر محکمہ عظیم تر بلدیہ کی جانب سے فراہم کئے جانے والی غذا ان کے لئے رحمت کے بجائے زحمت میںتبدیل نہ ہوجائے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بیجا نہ ہوگامہدی پٹنم رعیتو بازار کے قریب میں واقع بس اسٹانڈپر نہ صرف شہر حیدرآباد بلکہ ریاست تلنگانہ کے دیگراضلاعوں سے مسافرین کی آمددرفت ہوتی ہے جہاںسے یومیہ تقریباً دوتاڈھائی لاکھ افراد سفر کے ذریعہ اپنی منزل طئے کرتے ہیںاور اس مصروف ترین مقام پر بلدیہ گریٹر حیدرآباد نے پانچ روپئے رعایتی اسکیم کے تحت دوپہر کا کھانہ سربراہ کررہی ہے لیکن اس کے اطراف واکناف کا ماحول اس قدر پراگندہ ہوگئے ہے کہ یہاں کھڑے ہوکر کھانے کا استعمال بیماریوں کو دعوت دینے کے مترداف ہوگیا ہے ۔مہدی پٹنم‘ رعیتو بازار کے قریب یومیہ تقریباً دولاری کچرہ اٹھایا جاتا ہے لیکن کچرے کی نکاسی میں دن بہ دن بڑھتی لاپرواہی کے سبب جس سے مسافرین کے علاوہ رعیتوبازار کے گاہکوں ‘ پانچ روپئے میںدوپہرکے کھانے کی اسکیم کے ساتھ ساتھ فلاحی وسماجی تنظیم سمندر نامی تنظیم مفت پینے کا صاف وٹھنڈے پانی کا کیمپ قائم ہے جہاں سے لاکھوں پیاسی روزانہ استفادہ اٹھارہے لیکن دوسری طرف  بلدیہ کی شدید لاپرواہی کے باعث کھانہ او رپانی دونوں متاثر ہوسکتے ہیں۔ بس اسٹاپ پر مہدی پٹنم کے اطراف اکناف کے علاقوں سے کچرے کی نکاسی کے بعد کچرہ لاکر ڈالاجاتا ہے لیکن یہاں سے کچرے کی بروقت صاف کرنے میںلاپرواہی برتی جارہی ہے ۔ ایک طرف میئر بلدیہ بنتو رام موہن کے علاوہ ریاستی وزیربلدی نظم ونسق کے ٹی راما رائو اس بات کے لئے کوشاں ہیں کہ شہر حیدرآباد کو عالمی معیار کے مطابق تیار کیاجائے اور کچرے کی بروقت نکاسی عمل میں لائی جائے اسکے علاوہ فلاحی اسکیمات کو عوام تک بہتر انداز میںپنچانے میںکامیابی کے لئے کوشاں ہیں لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ریاستی وزیر ومئیر کی ہدایت کا بلدی عہدیداروں پر کو ئی اثر نہیں ہورہا ہے جس کی ایک زندہ مثال مہدی پٹنم بس اسٹانڈ او ررعیتو بازار کی ہے یہاں کی عوام نے اس بات کی خواہش کی ہے کہ ریاستی وزیر کے ٹی راما رائو اور میئر گریٹر حیدرآباد بنتو رام موہن دوپہر کے کھانے کی اسکیم کا جائزہ لیں اس کے روبرو کچرے کے ڈھیر کے متعلق عہدیداروں کی سرزنش کریں تاکہ ائندہ اس طرح کی لاپرواہی پیش ناآئے۔مہدی پٹنم بس اسٹاپ کاجائزہ لینے کے بعد اس بات کاافسوس ہوا کہ یہاں کئی ٹن کچرے کا ڈھیرپڑا پوا ہے اس کے عین قریب پانچ روپئے کھانے کی اسکیم کا جو سنٹر قائم ہے اور دس تا پندرہ فٹ کے قریب مفت پینے کے صاف اور ٹھنڈے پانی کا مرکز قائم ہے ایسے مقامات پر بلدیہ کی لاپرواہی یقینی طور پر قابلِ سرزنش ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری اثر کے ساتھ ساتھ اِ س مقام کا بھی جائزہ لیںاو رعوام کو راحت پہچانے کیلئے بس شیڈس کاقیام عمل میںلائے کیونکہ کچھ دن قبل یہاں پر قائم کردہ بس شیلٹرس کو عصری بنانے کے نام پر نکال دیا گیا لیکن عوام شدید دھوپ کی تمازت کو برداشت کرتے ہوئے کھلے آسمان کے نیچے کھڑے ہونے کے لئے مجبور ہیںکچرے کی تعفن او ربھی دشوار کن حالات گذارنے پر مجبور کررہے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت تلنگانہ جس طرح فلاحی اسکیمات کوچلارہی ہے اس پر گہری نظر رکھے تاکہ مذکورہ اسکیمات کسی سازش کا شکار نہ ہوسکے جو حکومت کے لئے بدنامی کا باعث ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT