Monday , November 20 2017
Home / اداریہ / پانچ ریاستوں کے اگزٹ پول

پانچ ریاستوں کے اگزٹ پول

اسمبلی انتخابات میں حکمراں پارٹیوں کے خلاف تبدیلی کیلئے ووٹ ڈالنے والے رائے دہندوں کو ہر پانچ سال بعد وہی تجربات سے دوچار ہونا پڑے تو پھر تبدیلی کی مسرت صرف منتخب حکمراں پارٹی کو ہی حاصل ہوگی۔ چار ریاستوں آسام، ٹاملناڈو، کیرالا، مغربی بنگال اور مرکزی زیرانتظام علاقہ پوڈیچری میں انتخابی مہم کے اختتام اور رائے دہی کا عمل پورا ہونے کے ساتھ ہی جو اگزٹ پول بتائے گئے ہیں اس میں آسام کی 15 سال سے حکومت کرنے والی ترون گوگوئی زیرقیادت کانگریس حکومت کو بی جے پی کے ہاتھوں شکست ہونے والی ہے۔ بی جے پی پہلی مرتبہ اس ریاست کی باگ ڈور سنبھالنے کے لئے بے چین ہے۔ اس کو اگر واقعی اقتدار حاصل ہوتا ہے تو آسام کے عوام خاص کر سرحدی علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں کی اکثریت کے ساتھ کیا حادثات ہوں گے یہ سوچ کر ہی لوگوں نے بی جے پی کے تعلق سے اندیشے پیدا کرنے شروع کردیئے ہیں۔ آسام میں ترون گوگوئی کی 15 سال حکمرانی کو سبق سکھانے کا فیصلہ اگرچیکہ رائے دہندوں کا ذاتی فیصلہ ہے مگر اس سیاسی لڑائی میں ووٹوں کی تقسیم کیلئے بدرالدین اجمل کے رول پر انگلیاں اٹھانا بھی ایک طرح سیاسی شکست کا حصہ ہی سمجھی جائے گی۔ آسام میں بی جے پی کے سربائندسونوال کو توقع کے مطابق ووٹ ملتے ہیں تو پھر آسام میں مخالف حکمرانی لہر کا عنصر کام آ گیا ہے۔ بی جے پی کو 2014ء انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد 2015ء میں ہی بہار اور دہلی انتخابات میں بدترین شکست ہوئی تھی۔ آسام کا معاملہ اس سے ہٹ کر ہے۔ یہاں پر بی جے پی کو کانگریس کے خلاف مہم چلانے میں اس لئے کامیابی مل رہی ہے کیونکہ اس نے قومی سطح پر ہندوستان کو کانگریس سے چھٹکارا دلانے کا نعرہ بلند کیا تھا۔ مخالف حکومت لہر کا اثر ٹاملناڈو میں بھی دیکھا جارہا ہے۔ چیف منسٹر جیہ للیتا کو ڈی ایم کے سربراہ کروناندھی سے خطرہ بڑھ گیا۔ جیہ للیتا کی خرابی صحت کی وجہ سے انتخابی مہم سے دوری نے بھی ڈی ایم کے پارٹی کے امکانات کو مضبوط بنایا۔ گذشتہ سال چینائی میں بدترین سیلاب کے بعد تباہ کاریوں سے نمٹنے میں حکومت کی ناکامی سے ناراض عوام نے انا ڈی ایم کے کو مسترد کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو اس فیصلہ کو کوئی نہیں بدل سکے گا۔ مغربی بنگال میں ممتابنرجی کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے تو اس بائیں بازو غلبہ والی ریاست میں مسلسل دوسری میعاد کیلئے ترنمول کانگریس کو عوام نے ترجیح دی ہے تو یہ ممتابنرجی کے خلاف شدید مہم کے باوجود بہترین کامیابی ہوگی۔ بی جے پی کو اس ریاست سے کافی توقعات وابستہ تھیں مگر وہ اپنی سیاسی قوت میں اضافہ کرنے سے قاصر ہے کیونکہ معاشی اصلاحات میں کوئی بڑا قدم اٹھانے سے قاصر مودی حکومت کو مغربی بنگال کے عوام مسترد کرتے ہیں تو اس سے بی جے پی کو راجیہ سبھا میں اکثریت کے حصول میں ناکامی ہوگی۔ کیرالا میں بائیں بازو کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ پوڈوچیری میں بھی ڈی ایم کے کو اقتدار ملنے والا ہے تو یہاں کانگریس سے اتحاد کرنے کا ڈی ایم کو ضرور فائدہ ہوگا۔ کیرالا میں کانگریس زیرقیادت، یو ڈی ایف کو سی پی ایم زیرقیادت ایل ڈی ایف سے شکست کی اصل وجہ چیف منسٹر اومن چنڈی کے خلاف الزامات اور جنسی تعلقات کے واقعات بتائے جاتے ہیں۔ کیرالا کی اس لرزتی حکومت کو عوام نے سہارا نہیں دیا۔ عوام ایک صاف ستھری حکومت چاہتے ہیں۔ طویل مدتی نتائج کے لئے ہر پارٹی کو گڈ گورننس کے عزم اور منصوبوں کو دیانتداری سے بروئے کار لانے کی ضرورت ہوتی ہے مگر ایک اچھی حکمرانی تب ہی دی جاسکتی ہے جب کابینہ اور اس کا سربراہ نیک نیت ہوکر عوام کی خدمت انجام دے۔ وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی ٹیم کو یہ زعم تھا کہ مودی کاسحر سارے ملک پر چھا جائے گا لیکن مودی کا سحر کہیں بھی اثر نہیں کرسکا۔ اگزٹ پول نے آسام میں مودی اور بی جے پی کو زیادہ اہمیت دی ہے تو یہ کانگریس کی غلطیوں اور آسام میں مسلسل 15 سال کی حکمرانی کے دوران پیدا ہونے والی خرابیوں نے بی جے پی کو موقع فراہم کیا ہے تو اس کے لئے خود کانگریس ہی ذمہ دار کہلائی جائے گی۔ ریاستوں میں علاقائی پارٹیوں کو اہمیت دینے والے رائے دہندوں نے قومی پارٹیوں کو یہ سبق بھی دیا ہے کہ اگر ان کے مقامی مسائل سے قومی پارٹیاں عدم دلچسپی دکھاتی ہیں تو انہیں ناکام بنانے کا فیصلہ تو ان ہی کے ہاتھوں میں محفوظ ہوتا ہے اور 5 ریاستوں کے عوام نے اپنے فیصلہ کے ذریعہ یہ بتادینا چاہا کہ گڈ گورننس کا عملی مظاہرہ ضروری ہے۔

TOPPOPULARRECENT