Sunday , November 19 2017
Home / اے پی ڈائری / پانی، گرمی اور وعدے پورے کرنے کا دعویٰ

پانی، گرمی اور وعدے پورے کرنے کا دعویٰ

تلنگانہ ؍ اے پی ڈائری       خیر اللہ بیگ
پانی کے حصول کیلئے سرگرداں عوام زیر زمین پانی کے لئے گہرے گہرے بورویل کھود کر پانی نکالنے کی کوشش کررہے ہیں، اس کوشش میں اتنے گہرے بورویل ڈالے گئے کہ زمین کی تہہ سے 6000 سال قدیم پانی نکال لیا گیا۔ خبر آئی تھی کہ نیشنل جیوفزیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں یہ پایا ہے کہ حیدرآباد کے بعض حصوں میں عوام جو زیر زمین پانی حاصل کررہے ہیں وہ 3000 تا  6000 سال پرانا پانی ہے۔ زیر زمین پانی کا حصول اب اتنا خطرناک بن گیا ہے کہ زمین اندر ہی اندر خشک ہوتی جارہی ہے۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ سکندرآباد کے علاقہ نریڈ میٹ میں 1400 فیٹ گہرا بورویل ڈالا گیا جہاں سے پانی نکالا گیا تو یہ 6000 سال پرانا تھا۔ زیر زمین پانی کا تجزیہ کرنے پر پتہ چلا ہے کہ یہ پانی 1400 سال پرانا ہے یا اس سے بھی زیادہ قدیم ہے۔ شہر کے کئی مقامات اے ایس آر نگر، ٹولی چوکی، بنجارہ ہلز، ڈالرس ہلز، اوپل، حبشی گوڑہ میں لوگوں نے اتنے گہرے بورویلس ڈال دیئے ہیں کہ زمین کی انتہائی گہرائی سے نکلنے والا پانی ہزاروں سال پرانا ہے۔گرمی کی شدت پانی کی قلت کے درمیان اسکولی تعطیلات میں بچوں کو اب کسی کے پاس مہمان بن کر جانا مشکل ہوگیا ہے۔ اسکولوں اور کالجس کو تعطیلات ملتے ہی رشتہ داروں کی کثیر تعداد ایک دوسرے کے ہاں مہمان بن جاتی تھی۔ برسوں پرانی روایات اب محض پانی کی قلت کی وجہ سے ختم کردی جارہی ہے۔ حیدرآباد میں مقیم رشتہ داروں کے ہاں مضافات یا تلنگانہ کے پڑوسی ریاستوں میں رہنے والے رشتہ دار مہمان بن کر آتے تھے۔

ماضی کے حیدرآباد کا گرما دیگر شہروں سے آنے والے شہریوں کیلئے راحت بخش اور ایک سکون فراہم کرنے والا موسم گذرتا۔ سرِ شام سے ٹھنڈی ہوائیں چلتیں اور اس کے ساتھ لبِ سڑک چنبیلی، موگرا کے پھولوں کی ٹوکریاں گلیوں میں پھیری لگاکر موتیا فروخت کرنے والے جب گذرتے تو سارا محلہ ٹھنڈی خنک محسوس کرتا تھا اب اس کی جگہ گاڑیوں سے نکلنے والا بدبودار دھواں، آٹو کے سالینسر سے چھوٹتا کثیف آلودہ دھواں کیروسین کی بدبو پھیلاتا ہوا چلا جاتا ہے۔ حیدرآباد کی گرما کی شامیں خوشگوار ہوتی تھیں، محکمہ آبرسانی کے سرکاری نلوں پر دن رات لوگ نہاتے، کپڑے دھوتے دکھائی دیتے تھے اور 24گھنٹے سرکاری نل سے پانی ملا کرتا تھا۔ یہ دن اب شہریوں کیلئے صرف خواب بن گئے ہیں۔ حیدرآباد کی مہمان نوازی بھی  محض پانی کی قلت، جگہ کی تنگی، بے ہنگم ہجوم کی نذر ہوتی جارہی ہے۔ گاؤںسے حیدرآباد کا رُخ کرنے والوں کا سلسلہ اب اس کے برعکس ہوتا جارہا ہے۔ حیدرآباد کے موجودہ ماحول اور صاف ستھرا پانی اور صاف ستھری فضاء کو ترسنے والے لوگ اپنی تعطیلات میں گاؤں کا رُخ کررہے ہیں۔ حیدرآباد میں یہ خبر بھی سنی گئی کہ ایک 12 سالہ پوترا اپنی دادی کو لکھا کہ اس سال گرمائی چھٹیوں میں آپ ہمارے پاس نہ آئیں ہم خود ایک دو دن میں تمہارے پاس آرہے ہیں کیونکہ ہمارے پاس پانی نہیں ہے۔ اس لڑکے کا کہنا ہے کہ یہ ہمارے لئے نہایت تکلیف دہ بات ہے کہ ہم اپنی دادی کو شہر نہیں بلاسکتے کیونکہ اس سال ہم کو پانی کے سنگین مسئلہ کا سامنا ہے، ٹینکرس خرید کر پانی حاصل کررہے ہیں۔ حیدرآباد میں چند ایک مقامات کو چھوڑکر ہر جگہ پانی کی قلت محسوس کی جارہی ہے۔ پانی کے مسئلہ نے انسانی رشتوں کو بھی بحران میں مبتلا کردیا ہے خاصکر اپارٹمنٹس اور فلیٹس میں رہنے والوں کے پانی کا استعمال فی شخص کے حساب سے گنتی کی جارہی ہے۔ ارکان خاندان کی تعداد کے حساب سے کرایہ اور مینٹننس چارج کیا جاتا ہے۔ کئی اپارٹمنٹس میں تو فی کس مینٹننس کا حساب لیا جارہا ہے۔ اس لئے ہر ایک فلیٹ میں رہنے والوں کو 1500تا 3000 روپئے زائد مینٹننس ادا کرنا پڑرہا ہے۔

واٹر ٹینکرس سے پانی سربراہ کرنے والوں کی چاندی ہی چاندی ہے۔ جس نوجوان کے پاس واٹر ٹینکر کاکاروبار ہے وہ سب سے زیادہ خوشحال اور کمائی پوت کہاجاتا ہے۔ یہ بات بھی  غور طلب ہے کہ ایک پڑھی لکھی لڑکی کیلئے جب رشتہ آیا تو پتہ چلا کہ لڑکا پڑھا لکھا نہیں ہے، لڑکی کا باپ رشتہ قبول کرنے میں پس و پیش کرتا ہے تو لڑکی کی والدہ یہ کہہ کر رشتہ کیلئے زور دیتی ہے کہ لڑکا پڑھا لکھا نہ ہو تو کیا ہوا وہ چار پانچ واٹر ٹینکرس کا مالک تو ہے۔ ان دنوں واٹر ٹینکرس کی مانگ ہے یہ واٹر ٹینکرس والے غیر مجاز طور پر پانی حاصل کرکے لوگوں تک پانی سربراہ کرکے دولت کمانے والوں کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں نے شہر کی قدیم سے قدیم باؤلیوں کو تک نہیں بخشا ہے، اب حیدرآباد میں پھر سے باؤلیوں کے دور کا احیاء ہونے کا امکان ہے۔ محکمہ آبرسانی والوں نے بھی شہر کی قدیم اور بند پڑی باؤلیوں کو دوبارہ استعمال کے قابل بنانے پر غور کرنا شروع کیا ہے کیونکہ یہ محکمہ ایسا ہے کہ اس کو کوئی فکر نہیں ہوتی جب وہ خواب غفلت سے جاگ جاتا ہے تو مصیبت کے وقت اس کو اپنے وجود کا احساس ہوتا ہے۔ یہاں کی حکومت کا یہ حال ہے کہ وہ وعدوں کی پوٹلی لینے ہر ایک کو الو ہی بناتی جارہی ہے۔ شہر میں بلاوقفہ برقی سربراہی کا وعدہ خاص محلوں کیلئے ہے  مابقی شہریوں کو برقی وقفہ وقفہ سے قسط واری مل رہی ہے۔ پانی تو نہیں دیا جارہا ہے، روزگار نہیں، 12فیصد تحفظات نہیں، صرف وعدے ہی وعدے پڑے ہیں۔ اس حکومت کا اس قاتل کی طرح ہے جس کو یقین تھا کہ وہ اب تو سزا سے بچ نہیں سکتا۔ اس نے سزا سے بچنے کیلئے مختلف وکیلوں سے مشورے لئے اور وہ ماہر وکیل کو منہ مانگی فیس دینا چاہتا تھا بس اسے کسی طرح قتل کے اس کیس سے بچایا جائے۔

ہر ایک ماہر وکیل نے اسے اپنی عقل و دانش کے مطابق مشورے دیئے لیکن اس شخص کو کسی وکیل کی قابلیت اور مشورے پر یقین نہ آیا تاہم ایک شخص کی عقل و دانش اور مشورے نے اسے بہت متاثر کیا۔ قاتل سمجھ گیا کہ صرف اس ماہر وکیل کے مشورے پر ہی عمل کرکے سزا سے بچا جاسکتا ہے، فیس وغیرہ طئے ہوگئی۔ قاتل نے وکیل کے مشورے کے مطابق اپنا حلیہ بدل دیا ، لمبے لمبے بال رکھ لیئے، ننگے پاؤں پھرنا شروع کیا، سڑکوں پر پاگلوں کی طرح گھومنے لگا۔ اس کا جواب ایک ہی ہوتا کہ وعدے پورے کروں گا، وعدے پورے کروں گا پولیس کو اس قتل کیس کے کچھ شواہد دستیاب ہوئے اور قتل کے الزام میں اس کو گرفتار کرلیا، عدالت میں پیش کیا گیا۔ جج نے ملزم سے اس کا نام اور والد کا نام اور شہر کا نام اور بہت سارے سوالات کئے لیکن قاتل نے ایک ہی جواب دیا وعدے پورے کروں گا۔ ہر سوال پر وعدے پورے کروں گا ،کا جواب دیتا کچھ دیر تک یوں ہی چلتا رہا تو پھر جج کو سخت غصہ آیا، پولیس والوں کو ڈانٹنا شروع کردیاکہ تم لوگ اپنی ذمہ داری اور فرائض سے اتنے لاپرواہ ہوگئے ہو کہ قتل جیسے سنگین جرم کے لئے ایک پاگل کو پکڑ لائے ہو، اصل مجرم کو گرفتار کرنے کے بجائے اس پاگل کو قاتل بناکر لائے ہو اسے فوری رہا کردو اور قاتل کو تلاش کرو۔ لہذا قاتل رہا ہوگیا، باہر نکلا تو اس کا وکیل اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا، وہ بہت خوش تھا کہ اس کے مشورے سے نہ صرف قاتل بچ گیا بلکہ اب اس قاتل سے اپنی بھاری فیس حاصل کرلوں گا، عدالت سے تھوڑی دور جانے کے بعد وکیل نے قاتل کو رہائی کی مبارکباد دی اور طئے شدہ فیس دینے کا مطالبہ کیا۔ قاتل نے اس کی بات سنی اَن سنی کرکے آگے چلتا گیا۔ وکیل پھر اس سے اپنی فیس کا تقاضہ کردیا، جواب میں قاتل نے باآواز بلند کہا ’’ وعدے پورے کروں گا‘‘۔ پھر وکیل نے کہا کہ ارے نہیں بابا تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ بھاری فیس ادا کروں گا اور اسے یاد دلانے کی کوشش اور اپنے دیئے ہوئے مشورے پر ہی اس قتل کیس سے بری ہونے کے بارے میں بتایا۔ لیکن قاتل پھر جواب میں ’’ وعدے پورے کروں گا ‘‘ ہی کہتا رہا۔تلنگانہ کے عوام کا بھی اس وکیل کی طرح حشر ہورہا ہے۔ پانی کی قلت ، روزگار کا وعدہ، 12فیصد تحفظات کا وعدہ، برقی کا وعدہ ، اچھے ماحول انفراسٹرکچر کا وعدہ یعنی الغرض وعدے پورے کروں گا کہہ کر بچ نکل رہے ہیں۔ اس طرح عوام اپنے ووٹوں اور مشوروں کے ذریعہ جھوٹے وعدوں کی چادر اوڑھ لی ہے تو اب گلہ و شکوہ کس بات کا ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT