Saturday , December 16 2017
Home / کھیل کی خبریں / پانی کی قلت سے دوچار مہاراشٹرا میں آئی پی ایل میچز کیوں ؟

پانی کی قلت سے دوچار مہاراشٹرا میں آئی پی ایل میچز کیوں ؟

ممبئی ، 6 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) بامبے ہائی کورٹ نے آج مہاراشٹرا کرکٹ اسوسی ایشن (ایم سی اے) کی سرزنش کی اور بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ اِن انڈیا (بی سی سی آئی) سے کہا کہ اس ریاست کے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں سے انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) میچز کا مقام منتقل کردیں۔ ہائی کورٹ جس نے مہاراشٹرا میں آئی پی ایل کی میزبانی کے خلاف این جی او (غیرسرکاری تنظیم) ’لوک ستہ موومنٹ‘ کی داخل کردہ پی آئی ایل (مفاد عامہ کی عرضی) کی سماعت کی، اُس نے ایم سی اے سے کہہ دیا کہ پانی کی حفاظت کرنا اس ٹورنمنٹ کے انعقاد سے کہیں زیادہ اہم ہے، بالخصوص ایسے وقت جب یہ ریاست پانی کی شدید قلت سے دوچار ہے۔ ’’ آپ لوگ (کرکٹ اسوسی ایشنس اور بی سی سی آئی) اس طرح پانی کیوں کر ضائع کرسکتے ہو۔ عوام زیادہ اہم ہیں یا آپ کے آئی پی ایل میچز؟ آپ اس قدر بے پروا کیسے ہوسکتے ہو؟‘‘ تاہم، ایم سی اے نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ پچس پہلے ہی تیار ہوچکے ہیں اور بس دیکھ بھال کی ضرورت ہے ، نیز بیان کیا کہ وہ پچس کیلئے پینے کا پانی استعمال نہیں کررہے ہیں۔ درخواست گزار نے ہائی کورٹ کو مطلع کیا کہ آئی پی ایل چیئرمین اور سینئر عہدہ دار بی سی سی آئی راجیو شکلا نے اس مسئلہ کے خلاف کوئی بھی کارروائی کی تردید کردی اور میچز کے مقام کی مہاراشٹرا سے منتقلی کو خارج از امکان قرار دیا۔ درخواست گزار کے اس بیان پر ردعمل میں کہ پانی کو دوبارہ، سہ بارہ استعمال کرنے کے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے، وکیل ایم سی اے نے کہا کہ ہنگامی منصوبہ عنقریب عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ ہائی کورٹ میں ایک عرضی داخل کرتے ہوئے بیان کیا گیا ہے کہ آئی پی ایل کے 2013ء ایڈیشن کے دوران ممبئی کے وانکھیڈے اسٹیڈیم، نوی ممبئی کے ڈی وائی پاٹل اسٹیڈیم اور پونے کے سہارا اسٹیڈیم میں وکٹوں کی دیکھ بھال کیلئے تقریباً 66 لاکھ لیٹر پانی صَرف کیا گیا۔ نقدی سے مالا مال آئی پی ایل ٹورنمنٹ کا 9 واں ایڈیشن 9 اپریل سے 29 مئی تک منعقد کرنے کا پروگرام طے ہے۔عدالت نے کہا کہ وہ کل کی سماعت کے دوران عرضی گزار کی استدعا پر کچھ عبوری راحت پر غور کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT