Tuesday , December 19 2017
Home / اداریہ / پانی کی قلت

پانی کی قلت

پانی کی بوند بوند کو ترسا کئے عوام
پانی پانی ہو نہیں پائی حکومت جانے کیوں
پانی کی قلت
ملک میں پانی کی شدید قلت اور خشک سالی کی صورت حال تشویشناک بن رہی ہے۔ حکومت اس طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ایک مثالی بل کی مسودہ سازی میں مصروف ہے۔ اس کی مدد سے ملک بھر میں بارش کے پانی کے ذخیرہ کی سہولتوں کو قائم کیا جائے گا۔ پانی کے موجودہ ذخائر کو بھی کشادہ کرنے اور ان کی بلندیوں میں اضافہ بھی زیرغور ہے۔ ریاستوں کے ساتھ مل کر مرکز کی جانب سے جو اقدامات کئے جائیں گے، اس میں مقامی عوام کی شمولیت سے پانی کی بچت اور ذخیرہ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی آفات کو روکنے کیلئے عالمی سطح پر بھی ماہرین سر جوڑ کر بیٹھ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرس میں دنیا کے 170 ممالک کے رہنماؤں نے ایک ایسے معاہدہ پر دستخط کئے ہیں جس کی مدد سے موسمیاتی تبدیلیوں سے مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لے کر ان کی روک تھام اور احتیاطی تدابیر کئے جائیں گے۔ موسمیاتی تبدیلی سے کہیں بارش کی زیادتی و تباہی ہوتی ہے تو کہیں خشک سالی اور پانی کی قلت پیدا ہوتی ہے۔ ہندوستان میں بارش کی کمی سے مسلسل مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ حکومت کی سطح پر ان مسائل پر خاص توجہ نہیں دی جانے سے مسئلہ سنگین بنتا گیا ہے۔ موجودہ ذخائر آب کو بہتر بنانے کے لئے فنڈس کی اجرائی میں بھی کوتاہی سے کام لیا گیا۔ وزیراعظم مودی نے پانی کی بچت کو اجتماعی ذمہ داری سے تعبیر کرتے ہوئے حکومت کی سطح پر کئے جانے والے اقدامات اور منصوبوں کے بارے میں کوئی خاص وضاحت نہیں کی۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ موجودہ صورتحال فوری توجہ کی متقاضی ہے تو جنگی بنیادوں پر کام انجام دیئے جائیں۔ مہاراشٹرا، تلنگانہ اور دیگر ریاستیں جنگیں خشک سالی اور پانی کی قلت سے دوچار ہیں۔ اس ملک میں جہاں موسمیاتی ماہرین مختلف رپورٹس دے کر اپنی ذمہ داری سے بری ہوتے ہیں۔ وہیں حکومت کی جانب سے ان رپورٹس کا سنجیدہ جائزہ لے کر اقدامات نہیں کئے جانے سرکاری سطح پر جب فضول خرچی کا چلن عام ہوجائے تو عوام کو ہی بچت کی ترغیب دینے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ مرکزی آبی وسائل کے سیکریٹری ششی شیکھر نے موجودہ بحران کو پانی کی بچت اور اسراف میں لاپرواہی کا نتیجہ سے تعبیر کیا ہے۔ پانی کی بچت اور ذخیرہ کے لئے اس سے قبل ماڈل بلس تیار کئے جاچکے ہیں۔ ان کی مدد سے ڈیموں کی تعمیر جیسے انتظامات اقدامات کئے گئے۔ اب نئے ماڈل بل کے ذریعہ ریاستوں پر زور دیا جائے گا کہ وہ زیر زمین پانی کو محفوظ رکھنے کے لئے انتظامات کریں۔ خاص کر سیلاب زدہ علاقوں اور ندیوں کے اطراف کے علاقوں میں سیلاب کے پانی کو محفوظ کرنے والی ایک علیحدہ زمین مختص کی جائے تو پانی کے ذخیرہ میں مدد ملے گی۔ پانی کا مسئلہ ہر ریاست کا معاملہ ہوتا ہے۔ اس پر مرکز صرف طویل مدتی حل نکالنے پر کام کرے گا، لہذا ریاستی حکومتوں کی بھی ذمہ داری ہے اور وہ پانی کی قلت کے مسئلہ سے نمٹنے کے لئے موثر پالیسیاں وضع کریں۔ تلنگانہ میں خشک سالی اور پانی کی قلت کا مسئلہ ٹی آر ایس حکومت کے لئے نازک صورت حال پیدا کرسکتا ہے۔ خاص کر دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں پانی کی شدید قلت پیدا ہونے کے علاوہ محکمہ آبرسانی کی جانب سے مختلف علاقوں میں پانی کی سربراہی میں امتیاز برتنے کی شکایات عام ہیں۔ حال ہی میں سی پی آئی ایم نے حیدرآباد میٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کی جانب سے ادا کئے گئے امتیازی رویہ کا نوٹ لے کر احتجاج بھی کیا تھا۔ یہ سختی کے ساتھ نشاندہی کی گئی ہے کہ محکمہ آبرسانی کی جانب سے شہر کے بعض علاقوں جیسے بنجارہ ہلز، جوبلی ہلز ، مادھاپور اور گچی باؤلی میں ماہانہ 60 تا 70 ہزار لیٹر پانی سربراہ کیا جارہا ہے جبکہ شہر کے ماباقی علاقوں میں صرف 15 ہزار لیٹر پانی سربراہ کیا جاتا ہے۔ شہری علاقوں میں بھی امتیاز ایک افسوسناک عمل ہے۔ پانی کے مسئلہ سے سب سے زیادہ غریب اور سلم بستیاں متاثر ہیں۔ پرانے شہر کے کئی محلوں میں بھی پانی کی سربراہی میں لاپرواہی برتی جانے کی شکایات کا فوری نوٹ لینے کی ضرورت ہے ۔ شہر کے اندر ہی اگر سرکاری محکمہ جات تعصب سے کام لیتے ہیں تو عوام میں بے چینی اور ناراضگی کو ہوا دینے کا باعث ہوں گے۔ پانی کا مسئلہ پر اس کے لئے حکومت کی سطح پر مضبوط اور موثر اقدامات کئے جائیں لیکن ہر سال مانسون کے سہارے اپنی پالیسیوں کو وضع کرنے پر غور کرنے اور بعد کے دنوں میں فراموش کرنے کی عادت نے مسئلہ کو جوں کا توں برقرار رکھ چھوڑا ہے۔

TOPPOPULARRECENT