Thursday , January 18 2018
Home / مذہبی صفحہ / پانی کے مسائل

پانی کے مسائل

مرسل ابوزہیر ٭ آسمان سے برسا ہوا پانی ‘ چشمہ ‘ ندی ‘ نالا ‘تالاب ‘ کنٹہ ‘ حوض ‘ کنواں ان سب کا پانی پاک ہے ۔ ( وضو اور غسل دونوں ان سے درست ہیں )

مرسل ابوزہیر
٭ آسمان سے برسا ہوا پانی ‘ چشمہ ‘ ندی ‘ نالا ‘تالاب ‘ کنٹہ ‘ حوض ‘ کنواں ان سب کا پانی پاک ہے ۔ ( وضو اور غسل دونوں ان سے درست ہیں )
٭بہتا پانی یا ایسے حوض ‘ چشمہ وغیرہ میں ٹھہرا ہوا پانی جو دہ در دہ (یعنی دس گز طول اور دس گز عرض) ہو نجاست کے گرنے یا کسی جانور کے گر کر مرجانے سے نجس و ناپاک نہیں ہوتا جب تک کہ نجاست کی وجہ سے پانی کا مزہ یا بو یا رنگ بدل نہ جائے (اگر مزہ یا بو یا رنگ بدل جائے تو پھر پانی ناپاک ہوجائیگا) ۔
٭ٹھہرا ہوا پانی جو دہ در دہ سے کم ہو مثلاً چھوٹا چشمہ یا کنواں وغیرہ تھوڑی سی نجاست کے گرنے سے بھی ناپاک ہوجاتاہے ۔ (مثلاً اس میں شراب یا پیشاب یا خون یا نجس پانی کا ایک قطرہ بھی گرجائے یا تھوڑا سا پاخانہ یا گوبر یا لید پڑجائے تو سارا پانی نجس ہوجائے گا ) اگر چہ نجاست کی وجہ سے پانی کے رنگ یا بو یا مزہ میں کوئی فرق نہ آیا ہو ۔
٭اگر کسی پاک چیز مثلاً مٹی ‘ درخت کے پتے ‘ پھول وغیرہ کے گرنے سے پانی کے تینوں وصف (مزہ ‘ بو ‘ رنگ ) بدل جائیں یا زیادہ دن پانی بند یا رکے رہنے سے بودار ہوجائے تو پانی ناپاک نہیں ہوتا (خواہ دہ در دہ ہویا اس سے کم کنواں چشمہ وغیرہ ) البتہ پانی کا پتلا پن چلاجائے اور گاڑھا بن جائے تو وہ پانی اگرچہ پاک ہے لیکن اس سے وضو و غسل جائز نہیں ۔
٭اگر کنویں میں شراب یا پیشاب یا خون یا نجس پانی کا ایک قطرہ گر جائے یا ذرا سا پاخانہ یا گوبر یا لید پڑجائے یا ناپاک رسی یا ڈول یا برتن گر جائیں یا خون والے جانور (جو پانی میں نہ رہتے ہوں ) گر کے پھول یا پھوٹ جائیں یا آدمی جوان ہو یا بچہ یا بکری یا اس کا بچہ یا ان سے کوئی بڑا جانور یا ان کا بچہ یا دو بلیاں یا چھ چوہے یا ان سے زیادہ یا ان کے برابر کوئی اور جانور گر کے مر جائے ( خواہ کوئی بھی پھولے پھٹے یا نہیں ) یا بدجانور گر جائے ( خواہ مرے یا زندہ نکلے ) تو ان سب صورتوں میں کنویں کا تمام پانی ناپا ک ہوجائے گا ۔
(اقتباس: نصاب اہل خدمات شرعیہ حصہ دوم)

TOPPOPULARRECENT