Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / پان شاپس پر کولڈرنکس ، اسناکس و خورد و نوش کی فروختگی پر امتناع کے منفی اثرات

پان شاپس پر کولڈرنکس ، اسناکس و خورد و نوش کی فروختگی پر امتناع کے منفی اثرات

حکومت کی پابندیوں سے تاجرین کی ابتر صورتحال ، حکومت کو از سر نو غور کرنے پر زور
حیدرآباد۔25اکٹوبر(سیاست نیوز) حکومت ہند کی جانب سے پان کی دکانوں پر کولڈ ڈرنکس‘ اسناکس کے علاوہ دیگر اشیائے خورد و نوش کی فروخت پر امتناع عائد کرنے کے سلسلہ میں جاری کردہ احکامات کا منفی اثر پان کے دکانات چلانے والوں پر مرتب ہوں گے۔ مرکزی حکومت کے محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق پان کی دکانات پر جہاں تمباکو ‘ سگریٹ وغیرہ فروخت کیا جاتاہے ان مقامات پر مشروبات‘ اسناکس وغیرہ فروخت نہیں کئے جاسکتے اور اس طرح کی اشیاء فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جا سکتی ہے۔شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست تلنگانہ میں حالیہ عرصہ کے دوران پان کی دکانات پر ان اشیاء کی فروخت کے چلن میں کافی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے لیکن مرکزی حکومت کے ان احکامات کے بعد پان کے ڈبہ کو صرف پان ‘ سگریٹ اور تمباکو کی فروخت کی حد تک محدود کردیا جائے گا۔بتایاجاتاہے کہ ریاست تلنگانہ میں 1لاکھ 50ہزار سے زائد پان کی دکانات ہیں اور ان میں بیشتر دکانات پر مشروبات اور بوتل بند پانی وغیرہ فروخت کیا جاتاہے لیکن ان اشیاء کے سبب ہی ان دکانات کے مالکین کی آمدنی ہوتی ہے۔شہر حیدرآباد میں پان کی عالیشان دکانات کھولی جانے لگی ہیں اور ان دکانات میں صرف تمباکو یا سگریٹ نہیں بلکہ کئی اشیاء فروخت کی جا رہی تھیں لیکن حکومت کے ان احکامات کے بعد ان کے کاروبار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پان کی دکانات چلانے والے مالکین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اس طرح کی پابندیوں کے عائد کئے جانے سے پان کے ڈبوں کے مالکین کی معاشی حالت مزید ابتر ہوتی چلی جائے گی۔بتایا جاتاہے کہ 7000 سے زائد ایسی دکانات ہیں جہاں تمام اشیاء فروخت کی جاتی ہیں اور کئی خاندانوں کا اس پر انحصار ہے۔اسی لئے حکومت کو اپنے فیصلہ پر از سر نو غور کرنا چاہئے تاکہ اس کاروبار پر منحصر خاندانوں کو معاشی مشکلات میں مبتلاء ہونے سے بچایا جا سکے۔قوانین کے مطابق پان کی دکانات پر جہاں تمباکو اور سگریٹ فروخت کی جاتی ہیں انہیں مشروبات اور دیگر اشیائے خورد و نوش کی فروخت کی اجازت نہیں ہوگی اور سگریٹ اور تمباکو کی فروخت کرنے والوں کو علحدہ لائسنس حاصل کرنا لازمی قرار دیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT