Tuesday , December 12 2017
Home / دنیا / پاکستان، امریکہ کو احمق سمجھ رہا ہے : سیاسی ماہرین

پاکستان، امریکہ کو احمق سمجھ رہا ہے : سیاسی ماہرین

طالبان اور حقانی نیٹ ورک سعودی عرب اور پاکستان کی پیداوار ، مالی امداد کی مخالفت
واشنگٹن۔13 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) امریکی قانون ساز اب ہاتھ دھو کر پاکستان کے پیچھے پڑ گئے ہیں جہاں وہ پاکستان کو دی جانے والی امریکی امداد کی بھی مخالفت کررہے ہیں اور اب یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پاکستان، امریکہ کے ساتھ دوہرا کھیل کھیل رہا ہے۔ ایک طرف تو دہشت گردی کے قلع قمع کے لئے امریکہ سے خطیر رقومات حاصل کی جارہی ہیں اور دوسری طرف دہشت گردوں کے تئیں پاکستان نرم گوشہ بھی رکھتا ہے۔ اس طرح وہ امریکہ کو مسلسل بے وقوف بنارہا ہے، لہذا اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کے لئے نہ صرف مالی امداد بند کردی جائے بلکہ اسے ایک ایسا ملک قرار دیا جائے جو دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے۔ کانگریس مین میٹ سالمن جو ایشیا اور پیسیفک ضمنی کمیٹی برائے ایوان خارجی امور کے صدرنشین بھی ہیں، نے کہا کہ پاکستان امریکہ کو شاید بیوقوف سمجھ رہا ہے یا پھر امریکہ کو پاکستان نے احمقوں کا سردار سمجھ رکھا ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان کو دی جانے والی مالی امداد کسی مافیا کو ادا کی جانے والی رقم کے مترادف ہے۔ دوسری طرف بش دور حکومت کے سابق اعلیٰ سطحی سفارت کار زالمے خلیل زاد نے کہا کہ اگر ہم کوئی غیرسفارتی لفظ کا استعمال کریں تو پاکستان کے لئے یہی کہا جاسکتا ہے کہ ہم اس کے لئے چارہ بن گئے ہیں۔ انہوں نے قانون سازوں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی شاطرانہ چالوں کا تذکرہ کیا اور کہا کہ کس طرح جذباتی انداز میں پاکستان نے امریکہ کو بیوقوف بنابناکر موٹی موٹی رقومات اینٹھ لیں تاہم ہمارے نام نہاد قائدین کو اب تک ہوش نہیں اور وہ مسلسل بیوقوف بنتے جارہے ہیں۔

ایک دیگر قانون ساز نے کہا کہ پاکستان توڑ جوڑ کا ماہر ہے اور جذباتی بلیک میل کس طرح کیا جاتا ہے۔ یہ کوئی پاکستان سے سیکھے۔ خلیل زاد نے ایک بار پھر اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ انہیں پاکستان کے ساتھ معاملتیں کرنے کا طویل تجربہ ہے کیونکہ بش دور حکومت میں وہ مختلف عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں جس میں افغانستان کے لئے امریکی سفیر اور اقوام متحدہ میں امریکہ کے مستقل نمائندہ کے عہدے بھی شامل ہیں۔ پاکستانی قائدین پہلے کانگریس ارکان کو راغب کرتے ہیں، پاکستان کے دورہ کیلئے مدعو کرتے ہیں، ہم سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کا وعدہ کرتے ہیں اور ہمارے (امریکی) قائدین کو پاکستان کی حمایت میں بیانات جاری کرنے کا ماحول پیدا کردیتے ہیں جو یقیناً ایک حیرت انگیز بات ہے اور اس کے بعد…  ’’کھیل ختم، پیسہ ہضم‘‘۔ جب خلیل زاد سے یہ پوچھا گیا کہ امریکہ، پاکستان کے ساتھ وہی پرانی پالیسی کیوں اختیار کئے ہوئے ہے جس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان توڑ جوڑ کی سیاست کا ماہر ہے اور وہ کچھ اس انداز میں اپنے آپ کو پیش کرتا ہے کہ امریکی عہدیدار مرعوب ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی رگ رگ سے واقف ہوں۔ وہ اس وقت ہی آپ کو کچھ دیں گے جب انہیں امید ہے کہ انہیں بھی آپ سے کچھ ملے گا۔ کانگریس مین ڈانا روبرا بیکر نے طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو پاکستان اور سعودی عرب کی پیداوار قرار دیا لہذا امریکہ کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی مالی امداد سوائے حماقت کے اور کچھ نہیں۔ پاکستان اگر ہمیں صرف اس لئے احمق سمجھ رہا ہے تو خود پاکستان سے بڑا احمق کوئی اور نہیں۔

TOPPOPULARRECENT