Monday , November 20 2017
Home / اداریہ / پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کا دورہ

پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کا دورہ

آئے بہار بن کے لبھا کر چلے گئے
کیا راز تھا جو دل میں چھپاکر چلے گئے
پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کا دورہ
پٹھان کوٹ میں ہوئے دہشت گرانہ حملہ کی تحقیقات کیلئے پاکستاننے اپنی ایک خصوصی ٹیم روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ہندوستان نے بھی اس ٹیم کو ویزے جاری کرنے اور اس کا خیر مقدم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اس ٹیم کے ویزوں کے تعلق سے کچھ مسائل تھے اور افواہیں گشت کر رہی تھیں تاہم کل نیپال میں ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج اور امور خارجہ پر پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز کی ملاقات کے بعد یہ واضح ہوگیا کہ ہندوستان اس تحقیقاتی ٹیم کا ہندوستان میں خیر مقدم کریگا اور اس ٹیم کو ویزے جاری کئے جائیں گے ۔ ابھی تک پاکستان نے اس ٹیم کے ویزوں کیلئے درخواست پیش نہیں کی تھی تاہم اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ یہ ٹیم 27 مارچ کو ہندوستان کا دورہ کریگی اور پٹھان کوٹ میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کی تحقیقات کریگی ۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جب پاکستان سے تعلق رکھنے والی کوئی تحقیقاتی ٹیم ہندوستان کا دورہ کرنے آرہی ہے تاکہ دہشت گردانہ حملہ کی تحقیقات کی جاسکیں۔ ہندوستان نے بھی پہلی مرتبہ پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کو اپنے ملک میں تحقیقات کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ دونوںملکوں کی جانب سے یہ پہلا موقع ہے کہ انہوں نے تحقیقات کو مل کر آگے بڑھانے سے اتفاق کیا ہے ۔ یہ ایسا موقع ہے جس سے دونوں ملک اپنے باہمی تعلقات میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو ختم کرتے ہوئے دوریوں کو پاٹنے کیلئے عملی اقدامات کرسکتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب جب دونوںملکوں کے مابین بات چیت کے امکانات روشن ہوتے ہیںاور تعلقات میں بہتری کی امیدیں دکھائی دیتی ہیں اسی وقت کوئی نہ کوئی دہشت گردانہ کارروائی ہوتی ہے اور بات چیت کا عمل متاثر ہوجاتا ہے ۔ پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملے بھی ایسے وقت ہوئے تھے جب دونوںملکوں کے معتمدین خارجہ کی بات چیت ہونے والی تھی جس میں باہمی مسائل پر جامع مذاکرات سے اتفاق کرلیا گیا تھا ۔ ان حملوں کے بعد ہندوستان نے بات چیت کو ملتوی کیا ہے ۔ یہ بھی پہلا موقع تھا جب بات چیت کو منسوخ نہیں کیا گیا بلکہ صرف التوا میں رکھا گیا ہے ۔ یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ جب پٹھان کوٹ حملوں کی تحقیقات میں پیشرفت سے ہندوستان مطمئن ہوگا اسی وقت یہ بات چیت ہوگی ۔ اب ہندوستان کو اس تعلق سے مطمئن کرنا حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے ۔
جب پاکستان نے اس ٹیم کو دورہ ہندوستان کیلئے روانہ کرنے کا فیصلہ کیا اور ہندوستان نے ٹیم کا استقبال کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو حالات میں ایک بار پھر بہتری کی امید پیدا ہو رہی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جو خصوصی تحقیقاتی ٹیم ہندوستان آ رہی ہے اسے اپنا کام پوری دیانتداری کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہے ۔ حکومت کے ایجنڈہ پر کام کرنے کی بجائے اس حملہ کے تعلق سے حقائق کو منظر عام پر لانا چاہئے ۔ جو خاطی ہیں ان کے خلاف کارروائی کو یقینی بنانے اور انہیں کیفر کردار تک پہونچانے کی کوشش کی جانی چاہئے ۔ صرف دکھا وے کیلئے دورہ کرتے ہوئے باہمی تعلقات میں بہتری اور تحقیقات میں حقیقی پیشرفت کے مقصد کو حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا ۔ اگر اس دورہ کے متوقع نتائج برآمد نہیں ہوئے تو یہ اندیشے بے بنیاد نہیں ہوسکتے کہ دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں پھر سے سرد مہری پیدا ہوجائیگی اور یہ سرد مہری اور دوریاں دونوں ملکوں کے عوام کیلئے فائدہ مند نہیں ہونگی بلکہ اس سے وہ طاقتیں اور عناصر مطمئن اور مسرور ہونگے جو نہیں چاہتے کہ دونوں ممالک اچھے ہمسایوں کی طرح رہیں اور ان کے تعلقات میں بہتری پیدا ہو۔ یہی وہ طاقتیں ہیں وہ وقفہ وقفہ سے کوئی نہ کوئی دہشت گردانہ کارروائی کرتے ہوئے تعلقات میں بہتری کی کوششوں کو متاثر کردیتی ہیں اور پھر تعلقات میں بہتری کی امیدیں مستحکم ہونے سے قبل ہی دم توڑ دیتی ہیں۔ اس روایت کو ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے سے بہتر روابط چاہتے ہیں اور عوام کی اس خواہش کو پورا کرنا حکومتوں کی ذمہ داری ہے ۔
اب تک پیش آئے واقعات یہ ثبوت ہیں کہ حکومت پاکستان نے اگر ہندوستان سے بات چیت میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا بھی ہے تو اس میں وہ سیاسی عزم اور حوصلہ دکھائی نہیں دیا جو دہشت گردانہ طاقتوں اور عناصر کو قابو میں کرنے کیلئے درکار ہے ۔ یہ پاکستان کی اپنی داخلی مجبوریاں ہوسکتی ہیں لیکن اس کی وجہ سے کسی پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات کو داؤ پر لگادینا دانشمندی نہیںہوسکتی ۔ پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملوںکی تحقیقات میں بھی پاکستان کو سیاسی عزم اور حوصلہ کے اظہار کی ضرورت ہے تاکہ ان میں حقیقی معنوں میں پیشرفت کے ذریعہ باہمی تعلقات میں بہتری کی کوششوں کی پیشرفت کو یقینی بنایا جاسکے ۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو پاکستان کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے دورہ ہند سے بھی کسی خاطر خواہ نتیجہ کی امید فضول ہی ہوگی ۔

TOPPOPULARRECENT