Thursday , December 14 2017
Home / پاکستان / پاکستانی عالم دین کی شرعی قانون کیلئے مہم

پاکستانی عالم دین کی شرعی قانون کیلئے مہم

اسلام آباد 13 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے متنازعہ عالم دین جن کا تعلق لال مسجد سے ہے، آج اسلام آباد میں کشیدگی پیدا کردی۔ اُنھوں نے ایک جلسہ عام منعقد کیا جو شرعی قانون کے ملک میں نفاذ کے لئے اُن کی مہم کا ایک حصہ ہے۔ عبدالعزیز اور اُن کی شریک حیات اُم حسان نے جامعہ حفصہ دینی مدرسہ کے طلباء کے جلوس کی اسلام آباد کے قلب میں قیادت کی۔ اس سے اُن کی 2007 ء کی مہم کی یاد تازہ ہوگئی جس کے نتیجہ میں لال مسجد پر فوجی کارروائی کی گئی تھی۔ احتجاجی حکومت مخالف نعرے لگارہے تھے اور عبدالعزیز کی ستائش کررہے تھے۔ اُنھوں نے مطالبہ کیاکہ قرآن اور سنت پر مبنی نظام قائم کیا جائے۔ حکومت نے پہلے تو عزیز کو ترغیب دینے کی کوشش کی کہ اپنی مہم ترک کردیں۔ بعدازاں پولیس اور رینجرس کو لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے اطراف و اکناف تعینات کردیا گیا۔ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ تاہم اسلام آباد کے شہریوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی جنھوں نے 2007 ء میں مسجد کا ایک ہفتہ طویل محاصرہ دیکھا تھا۔ عبدالعزیز نے گزشتہ ہفتہ اعلان کیا تھا کہ وہ ملک میں شرعی قانون کے نفاذ کے لئے مہم کا آغاز کریں گے۔ عبدالعزیز کے چھوٹے بھائی عبدالرشید غازی فوجی کارروائی میں ہلاک ہوگئے تھے جبکہ عبدالعزیز زندہ بچ گئے تھے۔ اُنھوں نے برقعہ پہن کر فرار ہونے کی کوشش کی تھی لیکن اُنھیں گرفتار کرکے اِن پر قتل اور جذبات بھڑکانے کے الزام پر کئی مقدمے چلائے گئے تھے۔ تاہم اُنھیں مجرم قرار نہیں دیا گیا اور گھر جانے کی اجازت دے دی گئی جہاں اُنھوں نے اپنی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز کردیا۔ جمعہ کے خطبات دینے شروع کئے جو حکومت کی ملکیت ہے اور اسلام آباد کے قلب میں واقع ہے۔ اُنھوں نے اشتعال انگیز تقریریں کیں جن میں طالبان کی ستائش ہوتی تھی لیکن حکومت اور فوج اُن پر قابو پانے سے قاصر رہے۔ حالانکہ فوجداری مقدمہ اُن کے خلاف گزشتہ سال ڈسمبر میں درج کیا گیا تھا لیکن کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا جاسکا۔ شرعی قانون کے نفاذ کی اُن کی مہم ایک ایسے وقت منظر عام پر آئی ہے جبکہ حکومت عسکریت پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف پورے ملک میں جدوجہد کررہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT