Thursday , November 23 2017
Home / پاکستان / پاکستانی ممنوعہ تنظیم ’’لشکر جھنگوی‘‘ کا سربراہ اِنکاؤنٹر میں ہلاک

پاکستانی ممنوعہ تنظیم ’’لشکر جھنگوی‘‘ کا سربراہ اِنکاؤنٹر میں ہلاک

محکمہ انسداد دہشت گردی اہلکاروں نے آصف چھوٹو اور دیگر 3 دہشت گردوں کو گولی مار دی
لاہور ۔ 18 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان میں ممنوعہ تنظیم لشکرجھنگوی کا سربراہ آصف چھوٹو کو پاکستان میں شدت سے مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں تھا اور اس کے سر پر 30 لاکھ روپئے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ آج لاہور کے قریب اپنے تین ساتھی دہشت گردوں کے ساتھ مارا گیا۔ پاکستان کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے ترجمان کے حوالہ سے جیو ٹیلی ویژن نے کہا کہ ’’ممنوعہ تنظیم لشکرجھنگوی کا سربراہ اور دیگر تین دہشت گرد کل رات لاہور کے شمال مغربی علاقہ شیخوپورہ میں محکمہ انسداد دہشت گردی کے انکاؤنٹر میں ہلاک ہوگئے‘‘۔ آصف چھوٹو عرف رضوان عرف ناصر اپنے پیشرو امیر ملک اسحاق کی جولائی 2015ء کے دوران پولیس انکاؤنٹر میں ہلاکت کے 18 ماہ بعد مارا گیا ہے۔ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے مطابق لشکرجھنگوی، لاہور کے حساس ایجنسی علاقہ میں دفاتر اور اسٹاف پر حملوں کے منصوبہ بنارہی تھی اور یہ دہشت گرد لاہور کی سمت اپنے سفر کے طور پر فاروق آباد سے شیخوپورہ کی جانب موٹرسیکل پر گذر رہے تھے جس کی خفیہ اطلاع موصول ہونے پر سی ٹی ڈی ٹیم نے شیخوپورہ ریلوے پھاٹک کی ناکہ بندی کردی اور انہیں حکام کے آگے خودسپردگی اختیار کرنے کا حکم دیا لیکن دہشت گردوں نے مورچہ سنبھالتے ہوئے اپنا تعاقب کرنے والی پولیس پارٹی پر اندھادھند فائرنگ کردی اور پولیس نے جوابی فائرنگ کی۔ بعدازاں چار دہشت گرد مردہ پائے گئے۔ دیگر تین دہشت گرد انکاؤنٹر کے مقام سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔دو مردہ دہشت گردوں کی شناخت شاکر اللہ عرف علی سفیان اور نورالامین کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ تیسرے دہشت گرد کی ہنوز شناخت نہیں کی جاسکی۔ ان دہشت گردوں کے قبضہ سے دوکلاشنکوف، دو پستول، 3 کیلو دھماکہ خیز مواد، کارتوس وغیرہ برآمد ہوئے۔ آصف 1990ء کی دہائی کے دوارن ممنوعہ انتہاء پسند تنظیم سپاہ صحابہ میں شامل ہوا تھا اور اسحاق کی ہلاکت کے بعد لشکرجھنگوی میں شامل ہوا اور اس کا امیر مقرر کیا گیا۔ وہ پاکستان کے مختلف صوبوں میں 100 افراد کو راحت طور پر ہلاک کرنے کا ذمہ دار تھا اور دیگر 200 افراد کی ہلاکتوں میں ملوث رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT