Saturday , December 16 2017
Home / ہندوستان / پاکستانی مٹی کو چومنا مہنگا ثابت ہوگا

پاکستانی مٹی کو چومنا مہنگا ثابت ہوگا

شیوسینا کا وزیراعظم مودی کو انتباہ
ممبئی ۔ 28 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) شیوسینا نے آج وزیراعظم نریندر مودی کو انتباہ دیا کہ پاکستانی مٹی کو چومنا ان کے سیاسی زوال کا باعث بن سکتا ہے ۔ وہ مٹی جو ہندوستانیوں کے خون سے رنگی ہوئی ہے ، وہاں جاکر مٹی کو چومنا آخر کیا معنی رکھتا ہے ؟ قبل ازیں اٹل بہاری واجپائی اور ایل کے اڈوانی نے بھی ایسا کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پا کستان سے قربت بی جے پی کی مقبولیت میں کمی کی وجہ بن گئی تھی ۔ شیوسینا نے اپنے ترجمان اخبار سامنا میں اداریہ تحریر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں یہ روایت رہی ہیکہ جس ہندوستانی قائد نے پاکستان سے قریب تر ہونے کی کوشش کی ہے ، وہ زیادہ دنوں تک سیاسی افق پر برقرار نہیں رہ سکا۔ ایل کے اڈوانی ایک بار قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار پر گئے تھے اور ان کی بیحد تعریفیں کی تھی ۔ اس کے بعد سے اڈوانی کا سیاسی گراف انحطاط پذیر ہونے لگا ہے اور آج یہ حالت ہے کہ خود بی جے پی نے انہیں حاشیہ بردار کردیتا ہے ۔ اٹل بہاری واجپائی نے بھی لاہور کا دورہ کیا تھا اور اس کے بعد اسوقت کے پاکستانی فوجی حک مراں پرویز مشرف کو آگرہ مدعو کیا تھا جہاں انہوں نے تاج محل کی سیر بھی کی تھی ۔ تاہم شیوسینا نے دیا دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ان دو ملاقاتوںکے باوجود کوئی سیاسی نتیجہ سامنے نہیں آیا ۔ واجپائی کے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے لاہور بس خدمات کا بھی آغاز کیا تھا ، اس کے بعد سے واجپائی کی قیادت میں کوئی بی جے پی حکومت برسر اقتدار ن ہیں آئی ۔ شیوسینا نے یہ بھی جاننے کی کوشش کی کہ اگر یہی ’’حرکت‘‘ کسی کانگریسی قائد نے کی ہوتی یعنی اچانک پا کستان پہنچ جانا تو اس وقت بی جے پی کا ردعمل کیا ہوتا ؟ یاد رہے کہ شیوسینا مرکز اور مہاراشٹرا میں بی جے پی کی حلیف جماعت ہے۔

TOPPOPULARRECENT