Friday , November 24 2017
Home / کھیل کی خبریں / پاکستانی ویمنس ٹیم پر کرڑہا روپئے خرچ لیکن نتیجہ صفر

پاکستانی ویمنس ٹیم پر کرڑہا روپئے خرچ لیکن نتیجہ صفر

لاہور ۔ 17 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ورلڈ کپ میں پاکستانی خاتون کرکٹ ٹیم کی بدترین کارکردگی نے سینئرکھلاڑیوں کو ٹیم سے نکالنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگاہے۔ ورلڈ کپ کیلئے پاکستانی ویمن کرکٹرز سب سے پہلے تقریبا ایک ماہ قبل انگلینڈ پہنچیں۔ اس سے پہلے بھی ڈیڑھ ماہ کا تربیتی کیمپ ایبٹ آباد اور کراچی میں لگایا گیا لیکن کروڑوں خرچ کرنے کے باوجود کارکردگی صفر رہی۔ ایشیا میں سنٹرل کنٹریکٹ جس ٹیم کو سب سے پہلے ملا وہ بھی پاکستان کی ٹیم تھی۔ ویمنس ٹیم کی اے زمرے کے کھلاڑیوں کو ماہانہ ایک لاکھ دس ہزار،بی زمرے میں شامل کرکٹرزکو 80 ہزار اور سی زمرے کی کرکٹرز کو پچاس ہزار روپے ملتے ہیں۔ یہی نہیں انگلینڈ میں ہی چیمپئنز ٹرافی کھیلنے والے مینز کرکٹرز کو ڈیلی الاؤنس ایک سو پونڈ ملا تھا اور اب اتنا ہی ویمن کرکٹرز کو مل رہا ہے۔ویمن کرکٹرز کے کوچ عرفان خان نے کہا کہ پی سی بی نے تمام بورڈز سے زیادہ ویمنس کرکٹرز پر خرچ کیا۔ ایسا نہیں کہ ملک میں ویمنس کرکٹ ختم ہوچکی ہے لیکن انتخاب کا طریقہ کار بہت غلط تھا۔ ٹیم میں چار لڑکیاں تیس سال سے بھی زائد عمر کی ہیں۔ بہت سی نوجوان کرکٹرز ان سے بہتر تھیں جنہیں مواقع ہی نہیں دئے گئے۔دیار ہے کہ پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ میں بہتر مظاہرہ کی غرض سے انگلینڈ جلد پہنچی تھی لیکن بہتر تیاری کے باوجود ٹیم کوئی مقابلہ جیت نہ سکی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT