Tuesday , December 19 2017
Home / کھیل کی خبریں / پاکستانی ٹیم میں واپسی کیلئے عامر کی راہ میں نئی رکاوٹ

پاکستانی ٹیم میں واپسی کیلئے عامر کی راہ میں نئی رکاوٹ

دورۂ نیوزی لینڈ کیلئے پاکستانی اسکواڈ میں عامر کی شمولیت کی راہ میں عالمی ویزا قوانین حائل
کراچی، 23 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے دورۂ نیوزی لینڈ کیلئے محمد عامر کی اسکواڈ میں شمولیت کی راہ میں عالمی ویزا قوانین حائل ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے ان کی دورے کیلئے پاکستانی ٹیم میں شمولیت پر سوالیہ نشان بھی لگ گیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے فاسٹ بولر محمد عامر کی دورۂ نیوزی لینڈ کیلئے ٹیم کے ساتھ روانگی کے سلسلے میں ویزا کے حوالے سے قانونی ماہرین سے رائے طلب کر لی ہے۔ 2010ء کے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث عامر کو تین ماہ جیل کی سزا ہوئی تھی اور نیوزی لینڈ کے قوانین کے تحت کسی بھی قسم کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث شخص کو ویزا جاری نہیں کیا جاتا۔ نیوزی لینڈ امیگریشن حکام نے اپنی ویب سائٹ لکھا ہے کہ مجرمانہ سرگرمیوں یا غلط معلومات کی فراہمی میں ملوث شخص کو اس وقت تک ویزا فراہم نہیں کیا جاتا جب تک ان کے بہتر کردار کی کوئی ضمانت نہ ہو۔ ضمانت کے بعد اس شخص کا انفرادی حیثیت میں جائزہ لیا جاتا ہے کہ اس کا کردار کیسا ہے، اس کا جرم کس حد ک سنگین نوعیت کا تھا، وہ کتنی مرتبہ اس جرم کا مرتکب ہوا اور دیگر بہت سے عوامل شامل ہیں۔ عامر کا گزشتہ سال انگلینڈ کیلئے ویزا مسترد کردیا گیا تھا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو خدشہ ہے کہ دورۂ نیوزی لینڈ کیلئے بھی ان کی شمولیت کے امکانات کافی کم ہیں۔

اس سلسلے میں پی سی بی نے انگلینڈ سے قانونی رہنمائی طلب کر لی ہے اور دوبارہ ثبوت کی ضرورت پڑنے پر عامر کے وکیل کو بھی اس معاملے میں رہنمائی اور معاونت کیلئے طلب کیا جا سکتا ہے۔ عامر کا نام دورۂ نیوزی لینڈ کیلئے لگائے جانے والے ٹریننگ کیمپ میں طلب کئے جانے والے 26 کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہے اور وہ پانچ سال میں پہلی مرتبہ پاکستان کے اسکواڈ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ 2010ء کے لارڈز ٹسٹ میں پیسوں کے عوض جان بوجھ کر ’نوبال‘ کرنے پر اس وقت کے پاکستانی کپتان سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف کے کرکٹ کھیلنے پر پانچ سال پابندی عائد کردی گئی تھی۔ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث بولر نے اپنی پانچ سالہ پابندی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ آئی سی سی کے بحالی کے پروگرام میں بھی شرکت کی اور بھرپور تعاون کیا جس کے بعد انہیں رواں سال کے اوائل میں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی گئی تھی تاہم یکم ستمبر کو آئی سی سی نے تینوں کھلاڑیوں کلین چٹ دیتے ہوئے ہر طرز کی کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی۔

TOPPOPULARRECENT